دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

، عورتیں چھلے پہن سکتی ہیں۔ ‘‘([1])

صحابہ کرام کا مشورہ اور صحابی کا جواب:

صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو نصیحت کرنے کے بعد جب  اللہ1کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس مجلس سے تشریف لے گئے تو اس شخص سے کہا گیا کہ اپنی انگوٹھی اٹھالو اور اسے پہننے کے بجائے دیگر جائز امور میں صرف کرلو۔  عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’یعنی اسے فروخت کرکے اس کی قیمت سے فائدہ حاصل کرویا کسی کو تحفے میں دےدو یا پھر اسے دےدو جس کے لیے اسے استعمال کرنا جائز ہے یعنی کسی عورت کی ملک کردو۔ ‘‘([2])

صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا مشورہ سن کر وہ صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بولے : ’’ نہیں خدا کی قسم! میں اسے کبھی نہ اٹھاؤں گا کیونکہاللہ1کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے پھینک دیا ہے۔ ‘‘ مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’یہ ہے مفتی عشق کا فتویٰ کہ اب میں اسے ہاتھ نہیں لگاؤں گا ، کوئی فقیر اسے اٹھا لے تاکہ یہ صدقہ میرے اس قصور کا کفارہ بن جائے جو میں نے پہلے بے خبری میں کیا کہ سونا پہنا ، اس میں مال کی بربادی نہیں بلکہ اپنا کفارہ اداکرنا ہے۔ ‘‘([3])

صحابی رسول کا عشق رسول:

 عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اس صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے اس قول میںاللہ عَزَّ  وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم کی بجا آوری اور جن باتوں سے آپ نے منع فرمایا ہے ان سے اجتناب کرنے میں انتہائی درجے کامبالغہ پایا جا رہا ہے۔ نیز اس شخص نے تاویلات ضعیفہ کرکے اس انگوٹھی سے نفع حاصل کرنے کو اچھا گمان نہ کیا اور اس نے انگوٹھی فقراء اور دیگر لوگوں کے لیے مباح کرتے ہوئے وہیں چھوڑدی تاکہ ان میں سے جو چاہے اٹھا لے تو اس وقت لوگوں کے لیے وہ انگوٹھی اٹھانا اور اس میں تصرف کرنا جائز ہوگیااور اگر وہ شخص انگوٹھی خود اٹھالیتا تو اس کا یہ اٹھانابھی جائز اور اس میں بیع یا کسی اور طریقے سے تصرف کرنا بھی جائز تھا کیونکہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس میں مطلقاً تصرف کرنے سے منع نہیں فرمایا تھا بلکہ اس کو پہننے سے منع فرمایاتھا۔ پہننے کے علاوہ دیگر تصرفات کرنا ان کے لیے بالکل جائز تھے لیکن انہوں نے اسے اٹھانے سے پرہیز کیا اور اس انگوٹھی سے حاجت مند پر صدقہ کرنے کا قصد کرلیا۔ ‘‘([4])

مدنی گلدستہ

امام’’حُسَین‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ

مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول

   (1)مرد کے لیے چاندی کی انگوٹھی جو ساڑھے چار ماشہ سے کم ہو اور ایک نگینہ والی ہو ، اس کے علاوہ ہر قسم کا زیور چاہے وہ سونا ہو یا چاندی یا اور کسی دھات کا حرام ہے۔

   (2)مرد کو چاہیے کہ اگر انگوٹھی پہنے تو اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھے اور عورتیں نگینہ ہاتھ کی پشت کی طرف رکھیں کہ ان کا پہننا زینت کے لیے ہے۔

   (3)مرد سونا پہن نہیں سکتا البتہ سونے کی خریدو فروخت اور کاروبار کرنا مرد کے لیے جائز ہے۔

   (4)مذکورہ حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانحضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حکم پر عمل کرنے اور آپ کی پیروی کرنے میں بہت زیادہ شدت کرتے تھے۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں برائیوں کے خلاف عملی طور پرتبلیغ کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے مرد حضرات کو سونا پہننے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر : 192                                                بے ادب اور گستاخ حاکِم کو نیکی کی دعوت

عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْحَسَنِ الْبَصَرِیِّ :  اَنَّ عَائِذَ بْنَ عَمْرٍورَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ دَخَلَ عَلٰی عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ زِیَادٍ  فَقَالَ :  اَیْ بُنَیَّ  اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ :  اِنَّ شَرَّ الرِعَاء ِ الحُطَمَۃُ فَاِیَّاکَ اَنْ تَکُوْنَ مِنْہُمْ  ،  فَقَالَ لَہُ :  اِجْلِسْ فَاِنَّمَا اَنْتَ مِنْ نُخَالَۃِ اَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ  ،  فَقَال : وَہَلْ کَانَتْ لَہُمْ نُخَالَۃٌ؟ اِنَّمَا کَانَتِ النُّخَالَۃُ بَعْدَہُمْ وَفِیْ غَیْرِہِمْ. ([5])

 ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو سعید حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے روایت ہے کہ حضرتِ سَیِّدُنا عائذ بن عَمْرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عُبَیْدُاللہ بن زیاد کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا :



[1]   بہارشریعت ، حصہ۱۶ ، ۳ / ۴۲۶تا۴۲۸ملتقطاً۔

[2]   دلیل الفالحین ،  باب فی الامربالمعروف ، ۱ / ۴۷۹ ،  تحت الحدیث : ۱۹۲۔

[3]   مرآۃ المناجیح ، ۶ / ۱۲۹۔

[4]   شرح مسلم للنووی ،  کتاب اللباس والزینۃ ،  باب تحریم خاتم الذھب ۔ ۔ الخ ، ۷ / ۶۵ ،  الجزءالرابع عشر ۔

[5]   مسلم ،  کتاب الامارۃ  ،  باب فضیلۃ الامام العادل۔ ۔ الخ  ، ص۱۰۱۸ ،  حدیث : ۱۸۳۰۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن