دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

   (7)راستے کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ اگر راستے میں کوئی گندگی یا غلاظت پڑی ہوئی ہے تو اسے صاف کردیا جائے ،  پتھر ، کانٹے ، شیشے کے ٹکڑے یا کوئی ایسی شے جو گزرنے والوں کو تکلیف پہنچا سکتی ہے اسے بھی راستے سے دُور کردینا چاہیے۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں بلا ضرورت وبلا حاجت گلی ، کوچوں اور شاہراؤں کی زینت بننے سے محفوظ فرمائے اور حاجت کے پیش نظر راستوں کے حقوق ادا کرنے ، نیکی کی دعوت عام کرنے اور بُرائیوں سے منع کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔                                             آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم 

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر : 191                                                     رسولُ اللہ کی عملی طور پر نیکی کی دعوت

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَاَی خَاتَمًا مِنْ ذَہَبٍ فِیْ یَدِ رَجُلٍ فَنَزَعَہُ فَطَرَحَہُ  وَقَالَ :  یَعْمِدُ اَحَدُکُمْ اِلٰی جَمْرَۃٍ مِنْ نَارٍ فَیَجْعَلُہَا فِیْ یَدِہِ فقِیْلَ لِلرَّجُلِ بَعْدَمَا ذَہَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : خُذْ خَاتَمَکَ انْتَفِعْ بِہ قَالَ  :  لَا وَاللّٰہِ لَا اٰخُذُہُ اَبَدًا وَقَدْ طَرَحَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم. ([1])

 ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک شخص کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے وہ انگوٹھی اتار کر پھینک دی اور فرمایا : ’’تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ میں دوزخ کا انگارہ لینے کا قصد کرتا ہے۔ ‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے تشریف لے جانے کے بعد اس شخص سے کہا گیا کہ اپنی انگوٹھی اٹھا لو اور اس سے (کوئی دوسرا) فائدہ حاصل کرلو۔ لیکن اس نے کہا : ’’نہیں ، خدا کی قسم! میں اسے کبھی نہیں اُٹھاؤں گا کیونکہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے پھینکاہے۔ ‘‘

رسولُ اللہ کی عملی تبلیغ:

حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا سونے کی انگوٹھی کو اتار کر پھینک دینا آپ کی عملی تبلیغ کا ایک نمونہ ہے چنانچہمُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’یہ ہے عملی تبلیغ کہ بُرائی کو بہ جبرروک دیا۔ (آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)فرماتے ہیں : جو کوئی بُرائی دیکھے تو اسے ہاتھ سے روکے ، نہ کرسکے تو زبان سے روکے ، یہ بھی نہ ہوسکے تو دل سے بُرا جانے۔ ‘‘([2])

مَرد کے لیے سونا پہننا حرام ہے:

حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ فرمان : ’’تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ میں دوزخ کا انگارہ لینے کا قصد کرتا ہے۔ ‘‘ سونے کی انگوٹھی مرد پر حرام ہونے کی وجہ سے تھا۔ چنانچہ عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس ارشاد میں اس بات کی صراحت ہے کہ سونے کی انگوٹھی پہننے سے جو منع کیا گیا ہے یہ حرام ہونے کے سبب ہے۔ ‘‘([3])عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے سونا پہننے پر جو وعید بیان فرمائی ہے ، اس سے یہ بات اخذ کی جاتی ہے کہ مرد کے لیے سونا پہننا گناہ کبیرہ ہے۔ ‘‘([4])مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’مسلمان مرد کے لیے سونا پہننا گویا دوزخ کی چنگاری اپنے ہاتھ میں لینا ہے کیونکہ یہ اس کا سبب ہے۔ ‘‘([5])

مَرد کے لیے سونے کی انگوٹھی:

صدرالشریعہ ، بدرالطریقہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : (1)’’مرد کو زیور پہننا مطلقاً حرام ہے ، صرف چاندی کی ایک انگوٹھی جائز ہے ، جو وزن میں ایک مثقال یعنی ساڑھے چار ماشہ سے کم ہو اور سونے کی انگوٹھی بھی حرام ہے۔ (2)انگوٹھی صرف چاندی ہی کی پہنی جاسکتی ہے ، دوسری دھات کی انگوٹھی پہننا حرام ہے ، مثلاً لوہا ، پیتل ، تانبا ، جست وغیرہا۔ (3)انگوٹھی اُنہی کے لیے مسنون ہے جن کو مہر کرنے کی حاجت ہوتی ہے ، جیسے سلطان و قاضی اور علما جو فتویٰ پر مہر کرتے ہیں ، ان کے سوا دوسروں کے لیے جن کو مہر کرنے کی حاجت نہ ہو مسنون نہیں مگر پہننا جائز ہے۔ (4) مرد کو چاہیے کہ اگر انگوٹھی پہنے تو اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھے اور عورتیں نگینہ ہاتھ کی پشت کی طرف رکھیں کہ ان کا پہننا زینت کے لیے ہے اور زینت اسی صورت میں زیادہ ہے کہ نگینہ باہر کی جانب رہے۔ (5) انگوٹھی وہی جائز ہے جو مَردوں کی انگوٹھی کی طرح ہو یعنی ایک نگینہ کی ہو اور اگر اس میں کئی نگینے ہوں تو اگرچہ وہ چاندی ہی کی ہو ، مرد کے لیے ناجائز ہے۔ اسی طرح مَردوں کے لیے ایک سے زیادہ انگوٹھی پہننا یا چھلے پہننا بھی ناجائز ہے کہ یہ انگوٹھی نہیں



[1]   مسلم ،  کتاب اللباس و الزینۃ  ،  باب تحریم خاتم الذھب۔ ۔ ۔ الخ ،  ص۱۱۵۷ ،  حدیث : ۲۰۹۰۔

[2]   مرآۃ المناجیح ، ۶ / ۱۲۹۔

[3]   شرح مسلم للنووی ،  کتاب اللباس والزینۃ ،  باب تحریم خاتم الذھب علی الرجال ۔ ۔ ۔ الخ ، ۷ / ۶۵ ،  الجزءالرابع عشر ۔

[4]   دلیل الفالحین ،  باب فی الامربالمعروف ، ۱ / ۴۸۰ ،  تحت الحدیث : ۱۹۲۔

[5]   مرآۃ المناجیح ، ۶ / ۱۲۹۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن