دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

(1)   جب کوئی قوم امربالمعروف ونہی عن المنکر کو ترک کردے اور اس قوم میں گناہوں و فسق وفجور کی کثرت ہوجائے تو پھر اس پر عذاب الٰہی نازل ہوتا ہے۔

(2)   جب کسی قوم پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا عذاب نازل ہوتاہے تو اس قوم کے صالحین و فاسدین یعنی نیک وبد سب کو لپیٹ میں لے لیتا ہے لیکن قیامت کے دن سب کا حشر اُن کے اپنے اپنے اَعمال کے مطابق ہوگا۔

(3)   حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عطا سے غیب کا علم رکھتے ہیں ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آئندہ پیش آنے والے تمام حالات سے نہ صرف باخبر ہیں بلکہ آپ انہیں اپنی آنکھوں سے ملاحظہ بھی فرمارہے ہیں۔

(4)   قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی یاجوج ماجوج کا خروج بھی ہے ، یاجوج ماجوج اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بہت ہی عجیب وغریب مخلوق ہے ، مگر کافر ہونے کے سبب یہ تمام جہنم میں جائیں گے۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیکی کی دعوت دینے ، برائی سے منع کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں خود بھی گناہوں سے بچنے اور دوسروں کو بھی بچانے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں یاجوج ماجوج کے فتنے سے محفوظ فرمائے ۔                                  آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر : 190                                                                    راستےمیں بھی نیکی کی دعوت

عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِ یَّاکُمْ وَالْجُلُوْسَ فِیْ الطُّرُقَاتِ. فَقَالُوْا :  یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا بُدٌّ  نَتَحَدَّثُ فِیْہَا. فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :  فَاذَا اَبَیْتُمْ اِلَّا الْمَجْلِسَ فَاَعْطُوْا الطَّرِیْقَ حَقَّہُ قَالُوْا :  وَمَا حَقُّ الطَّریْقِ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ :  غَضُّ الْبَصَرِ وَکَفُّ الاَذَی وَرَدُّ السَّلَامِ وَالْاَمْرُ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّہیُ عَنِ الْمُنْکَرِ. ([1])

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابوسعید خُدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی پاک صاحب لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’راستوں میں بیٹھنے سے بچو۔ ‘‘ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!بعض اوقات ہمارے لیے ان مجالس میں بیٹھناضروری ہوتا ہے ، ہم وہاں بیٹھ کر باہم گفتگو کرتے ہیں۔ ‘‘رسولِ اکرم نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’اگر تمہیں وہاں بیٹھنا ہی ہے تو پھر راستے کاحق ادا کرو۔ ‘‘عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! راستے کا حق کیا ہے؟ ‘‘فرمایا : ’’نگاہیں نیچی رکھنا ، تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ، سلام کا جواب دینا ، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا۔ ‘‘

راستے میں بیٹھنے کی ممانعت استحبابی ہے:

حضورنبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے راستوں میں نہ بیٹھنے کا جو حکم دیا وہ بطور وجوب نہ تھا بلکہ استحبابی حکم تھا۔ حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابفرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں یہ دلیل ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا صحابہ  کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو یہ حکم دینا وجوب کے لیے نہ تھا بلکہ بطریق ترغیب اور اولیٰ چیز کو اختیار کرنے  پر ابھار نے کے لیے تھا۔ کیونکہ اگر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اس حکم کو واجب سمجھتے تو مزید وضاحت طلب نہ کرتے۔ ‘‘ ([2])عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو یہ امید ہو کہ ہے تو یہ واجب لیکن شاید اس میں تخفیف ہو جائے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس حکم کو منسوخ فرما دیں۔ اسی وجہ سے انہوں نے اپنی حاجت  آپ کی خدمت میں عرض کردی۔ ‘‘([3])

راستے میں بیٹھنے کی ممانعت کی حکمتیں:

(1)راستوں میں باتیں کرنے کے لیے بیٹھنا مکروہ ہے۔ اس سے انسان فتنہ میں مبتلاہوتاہے کیونکہ راستے سے اجنبی عورتیں گزرتی ہیں تو کبھی انسان ان کی نسوانیت یا ان کے حسن وجمال سے مسحور ہوکر ان کو دیکھنے لگتاہے یاان کے متعلق غوروفکر کرتاہے اور انہیں دیکھ کر شہوت انگیزخیالات آتے ہیں۔ اسی طرح اگر کسی شخص کے دروازے کے آگے بیٹھ گیا تو اسے آنے جانے میں دقت ہوگی۔ ان ہی وجوہات کی بنا پر راستے میں بیٹھنے کی ممانعت آئی ہے۔ ‘‘([4])    (2) راستے میں بیٹھنے سے راستہ تنگ ہوگا یا گزر نے والوں کو حقیر

جانے گا اور ان کی غیبت کرے گا یا ان سے بدگمانی رکھے گا۔ نیز ضروریات زندگی کے لیے جو عورتیں اپنے گھروں سے باہر نکلتی ہیں تو ایسے میں اگر مرد راستوں میں بیٹھے ہوں گے تو ان عورتوں کو دشواری ہوگی یا پھر وہ لوگوں کے ان حالات پر مطلع ہوگا جن پر اطلاع پانے کو وہ برا سمجھتے ہیں۔ ‘‘ ([5])(3) راستوں پر بیٹھنا نظر اوپر اٹھانے کا ذریعہ ہے اور نیکی کا حکم دینے



[1]   بخاری ،  کتاب الاستئذان  ، باب بدء السّلام  ،  ۴ / ۱۶۵ ،  حدیث : ۶۲۲۹۔

[2]   اکمال المعلم ، کتاب السلام ، باب من حق الجلوس علی الطریق رد السلام ، ۷ / ۴۴ ، تحت الحدیث : ۲۱۲۱۔

[3]   فتح الباری ،  کتاب الاستئذان ،  باب نمبر ”۲“ ،  ۱۲ / ۱۰ ،  تحت الحدیث : ۶۲۲۹۔

[4]   شرح مسلم للنووی ،  کتاب السلام ، باب من حق الجلوس علی الطریق رد السلام ، ۷ / ۱۴۲ ،  الجزءالرابع عشر ۔

[5]   عمدۃ القاری ، کتاب الاستئذان ،  باب نمبر : ۲  ، ۱۵ / ۳۵۰ ، تحت الحدیث : ۶۲۲۹۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن