30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1)خالہ ماں کی طرح ہی شفیق و مہربان ہوتی ہے۔
(2)ماں اور نانی کے بعد بچے کی پرورش کا حق خالہ کا ہے۔
(3)والدہ کے قرابت داروں کو والد کے قرابت داروں پر مقدم کیا گیا ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعاہے کہ وہ ہمیں تمام رشتہ داروں بالخصوص خالہ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
باب سے متعلق چند وضاحتی اُمور:
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : اس باب سے متعلق صحیح بخاری میں بہت سی مشہور احادیث ہیں ، ان میں غار والوں کی حدیث([1]) اور جریج کی حدیث([2]) گزر چکی ہیں اورصحیح بخاری میں موجود کچھ مشہور احادیث میں نے اختصار ملحوظ ہونے کی وجہ سے (ریاض الصالحین میں) درج نہیں کیں اور اس باب سے متعلق مسلم شریف میں مذکور ایک اہم حدیث حضرت سَیِّدُنَاعَمرو بن عَبسہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی حدیث ہے جو کہ طویل اور اسلامی قواعد وآداب کے کثیر جملوں پر مشتمل ہے۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ میں عنقریب “ بَابُ الرَّجَاء “ میں یہ حدیث مکمل ذکر کروں گا۔
(یہاں اس کا کچھ حصہ ملاحظہ ہو ، چنانچہ)حضرت سَیِّدُنَاعَمرو بن عَبسہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’میں مکہ مکرمہ میں اعلانِ نبوت کے ابتدائی زمانے میں حضورنبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہواتو عرض کی : “ آپ کون ہیں؟ “ ارشاد فرمایا : “ نبی ہوں۔ “ میں نے عرض کی : ’’نبی کون ہوتا ہے؟‘‘ ارشاد فرمایا : “ مجھے اللہتعالیٰ نے بھیجا ہے۔ “ میں نے عرض کی : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کو کسی چیز کے ساتھ بھیجا ہے؟‘‘ارشاد فرمایا : “ صلہ رحمی کرنے ، بتوں کو توڑ دینے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو ایک ماننے اور ا س کےساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانے کا حکم دینے کے ساتھ بھیجا ہے۔ “ ([3])اس کے بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے مکمل حدیث پاک بیان کی۔ “ ([4])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
قرآن مجید کلام الہی ****
کتاب کا نام مصنف / مؤلف / متوفیٰ مطبوعات
کنزالایمان اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان ، متوفی۱۳۴۰ھ مکتبۃ المدینہ کراچی۱۴۳۲ھ
کتب التفسیر
تفسیر الطبری امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری ، متوفی۳۱۰ھ دار الکتب العلمیہ بیروت۱۴۲۰ھ
احکام القرآن امام ابو بکراحمد بن علی جصاص ، متوفی۳۷۰ھ دارالکتب العلمیہ
تفسیر البغوی امام ابو محمد حسین بن مسعود فراء بغوی ، متوفی۵۱۶ھ دار الکتب العلمیہ بیروت۱۴۱۴ھ
التفسیر الکبیر امام فخر الدین محمد بن عمر بن حسین رازی ، متوفی۶۰۶ھ دار احیاء التراث بیروت۱۴۲۰ھ
تفسیر القرطبی علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد انصاری قرطبی ، متوفی ۶۷۱ھ دارالفکر بیروت ۱۴۲۰ھ
تفسیر البیضاوی امام ناصر الدین عبد اللہ بن عمر بن محمدشیرازی بیضاوی ، متوفی۶۸۵ ھ دارالفکر بیروت۱۴۲۰ھ
تفسیرمدارک امام ابو البركات عبد اللہ بن احمد بن محمود نسفی ، متوفی۷۱۰ھ دارالمعرفہ بیروت
تفسیر الخازن علامہ علاء الدین علی بن محمدبغدادی ، متوفی۷۴۱ھ المطبعۃ المیمنیۃ مصر۱۳۱۷ھ
الدر المنثور امام جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکر سیوطی ، متوفی۹۱۱ھ دار الفکر بیروت۱۴۰۳ھ
التفسیر ات الاحمدیۃ علامہ احمد بن ابو سعید جونپوری المعروف ملّا جیون متوفی۱۱۳۰ھ پشاور پاکستان
روح البیان مولی الروم شیخ اسماعیل حقی بروسی ، متوفی۱۱۳۷ھ دار احیاء التراث بیروت
حاشیۃ الصاوی علی الجلالین علامہ احمد بن محمد صاوی مالکی خلوفی ، متوفی۱۲۴۱ھ باب المدینہ کراچی۱۴۲۱ھ
خزائن العرفان صدر الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی ، متوفی۱۳۶۷ھ مکتبۃ المدینہ کراچی۱۴۳۲ھ
تفسیرنعیمی حکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمی ، متوفی۱۳۹۱ھ ضیاء القرآن پبلی کیشنز ، لاہور
نورالعرفان حکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمی ، متوفی۱۳۹۱ھ پیربھائی کمپنی لاہور
[1] اس حدیث پاک کاتفصیلی شرح کے ساتھ مطالعہ کرنے کیلئے فیضان ریاض الصالحین ، جلداول ، باب نمبر1 ، حدیث نمبر12 ، صفحہ 138ملاحظہ کیجئے۔
[2] اس حدیث پاک کاتفصیلی شرح کے ساتھ مطالعہ کرنے کیلئے اسی جلد یعنی فیضان ریاض الصالحین ، جلدسوم ، باب نمبر32 ، حدیث نمبر259 ، صفحہ409ملاحظہ کیجئے۔
[3] مسلم ، کتاب صلاۃ المسافروقصرھا ، باب اسلام عمروبن عبسۃ ، ص۴۱۵ ، حدیث : ۸۳۲۔
[4] ریاض الصالحین ، باب برالوالدین وصلۃ الرحم ، ص۱۰۷۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع