30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(4)والدین کی اطاعت شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے لازم ہے ،اگر وہ خلاف شرع کاموں کا حکم دیں تو اس میں ان کی اطاعت نہ کرنا لازم ہے۔
(5)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی کرنے میں کسی کی بھی بات نہیں مانی جائے گی۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں جائز باتوں میں والدین کی اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں جنت کے درمیانی دروازے سے جنت میں داخلہ عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 335 خالہ ماں کے قائم مقام ہے
عَنِِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبيّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اَلْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْاُمِّ.([1])
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا براء بن عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ خالہ ماں کے قائم مقام ہے۔ “
مذکورہ حدیث پاک میں خالہ کی فضیلت بیان کی گئی ہے کیونکہ خالہ بھی بچے پر اسی طرح مہربان ہوتی ہے جس طرح ماں۔ عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’خالہ خاص طورپر شفقت و مہربانی میں ماں کی مانند ہے اور وہ ماں کی طرح بچے کو اُس چیز کی راہنمائی کرتی ہے جو اُس کے لیے فائدے مند ہو۔ ‘‘([2])حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک شخص حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا اورعرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں نے بہت بڑا گناہ کرلیا ہے تو کیا میری توبہ ہوسکتی ہے؟‘‘ فرمایا : ’’کیا تیری ماں ہے؟‘‘ عرض کیا : ’’نہیں۔ ‘‘ فرمایا : ’’کیا تیری کوئی خالہ ہے؟‘‘ عرض کی : ’’ جی ہاں۔ ‘‘ فرمایا : ’’اس سے اچھا سلوک کرو۔ ‘‘([3]) شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ خالہ ماں کے حکم میں ہوتی ہے۔ ‘‘([4])
ماں کے بعدبچوں کی پرورش کی حقدارخالہ ہے:
حضرتِ سَیِّدُنا حمزہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے شہید ہونے کے بعد اپنے پسماندگان میں ایک چھوٹی صاحبزادی بھی چھوڑی جن کا نام “ امامہ “ تھا۔ جب بچی کی کفالت کا وقت آیا تو ان کی پرورش کے لیے تین دعوےدار کھڑے ہوگئے۔ حضرتِ سَیِّدُنا علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! یہ میری چچازاد بہن ہے اور میں نے اس کو سب سے پہلے اپنی گود میں اٹھالیا ہے اس لیے مجھے اس کی پرورش کا حق ملنا چاہیے۔ ‘‘ حضرتِ سَیِّدُنا جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے گزارش کی کہ : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! یہ میری چچازاد بہن بھی ہے اور اس کی خالہ میری بیوی ہے اس لیے اس کی پرورش کا حقدار میں ہوں۔ ‘‘ حضرتِ سَیِّدُنا زید بن حارثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کیا کہ : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! یہ میرے دینی بھائی حضرت حمزہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی لڑکی ہے اس لیے میں اس کی پرورش کروں گا۔ ‘‘ان تینوں صاحبوں کا بیان سن کر حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ فیصلہ فرمایا کہ : “ خالہ ماں کے برابر ہوتی ہے۔ “ لہٰذا یہ لڑکی جعفر (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ)کی پرورش میں رہے گی۔ ([5])
مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’( حضور عَلَیْہِ السَّلَام نے) حضرت جعفر ابن ابی طالب کو حق پرورش دیا کیونکہ بچی کی خالہ ان کی زوجہ تھیں وہ انہیں پالیں گی ، اسی بنا پر فقہاء فرماتے ہیں کہ ماں ، نانی کے بعد خالہ کو بچی کی پرورش کا حق ہے۔ ‘‘([6])
عَلَّامَہ قَسْطَلَّانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : ’’مذکورہ حدیث پاک میں اس بات پر دلیل ہے کہ خالہ کو حق پرورش میں پھوپھی پر ترجیح حاصل ہے کیونکہ اس وقت بچی کی پھوپھی صفیہ بنت عبد المطلب موجود تھیں اور جب خالہ کو پھوپھی پر ترجیح دی گئی کہ جو عورتوں میں بچے سے بہت قریبی تعلق رکھتی ہے تو پھر خالہ کو دیگر عورتوں پر بھی ترجیح دی جائے گی۔ نیز اس حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ والدہ کے قرابت داروں کو والد کے قرابت داروں پر مقدم کیا جائے گا۔ ‘‘([7])
’’حرم‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
[1] ترمذی ، کتاب البر والصلۃ ، باب ما جاء فی برالخالۃ ، ۳ / ۳۶۱ ، حدیث : ۱۹۱۱۔
[2] دلیل الفالحین ، باب فی برالوالدین وصلۃ الرحم ، ۲ / ۱۷۵ ، تحت الحدیث : ۳۳۶۔
[3] ترمذی ، کتاب البر والصلۃ ، باب ما جاء فی برالخالۃ ، ۳ / ۳۶۲ ، حدیث : ۱۹۱۱۔
[4] اشعۃ اللمعات ، کتاب الآداب ، باب البروالصلۃ ، ۴ / ۱۱۶۔
[5] بخاری ، کتاب المغازی ، باب عمرۃ القضاء۔ ۔ الخ ، ۳ / ۹۴ ، حدیث : ۴۲۵۱ملخصًا۔
[6] مرآۃ المناجیح ، ۵ / ۱۷۶۔
[7] ارشاد الساری ، کتاب الصلح ، باب کیف یکتب ھذا ماصالح۔ ۔ ۔ الخ ، ۶ / ۱۷۷ ، تحت الحدیث : ۲۶۹۹۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع