30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لفظ استعمال کرتے ہیں ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے : (اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ) (پ۱۸ ، النور : ۲۶) ترجمۂ کنزالایمان : “ گندیاں گندوں کے لیے ہیں۔ “ ([1]) (4) ظاہر اور واضح بات یہی ہے کہ خبث سے مراد مطلق گناہ ہیں۔ اب حدیث کا معنی یہ ہوگا کہ جب لوگوں میں گناہ عام ہوجائیں تو ان پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا عذاب نازل ہوگا اورعام ہلاکت ہوگی اگرچہ اُس وقت اُن میں نیک لوگ بھی ہوں۔ ‘‘ ([2])
آخرت میں اپنے اپنے اَعمال پر حشر:
اگر کسی قوم پر امر بالمعروف ونہی عن المنکر نہ کرنے کی وجہ سے دنیا میں عذاب نازل ہوتو اس کا تعلق فقط دنیا کے ساتھ ہی ہوتا ہے البتہ قیامت میں تمام لوگ اپنے اپنے اعمال پر اٹھائے جائیں گے۔ عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ جب کسی قوم پر عذاب نازل فرماتا ہے تو وہ اس قوم کے ہر نیک و بد کو پہنچتا ہےلیکن بروز قیامت وہ سب لوگ اپنے اپنے اعمال پر اٹھائےجائیں گے۔ ‘‘([3])
یاجوج ماجوج کے متعلق عجیب وغریب معلومات:
(1)یاجوج ماجوج بالاتفاق حضرت سیدنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی اولادہیں لیکن نسب میں اختلاف ہے ۔
(2)یاجوج اور ماجوج دو مرد ہیں جو سیدنایافث بن نوح عَلَیْہِ السَّلَامکے بیٹے ہیں۔ مروی ہے کہ اگر تمام انسانوں کو دس حصوں میں تقسیم کردیا جائے تو ان میں سے نو حصے یاجوج ماجوج ہوں گے اور ایک حصہ بقیہ لوگ۔ یہ بھی مروی ہےکہ یاجوج ایک گروہ ہے اور ماجوج چار سو گروہ ہیں ، ہر گروہ میں چارلاکھ افراد ہیں اور ان میں کوئی نہیں مرتا جب تک اپنی پشت سے ایک ہزار مرد نہ دیکھ لے اور وہ ہتھیار نہ اٹھالے۔ ایک قول کے مطابق یاجوج ماجوج بیس(20)قومیں ہیں۔ یاجیج ، اجیج ، غیلانین ، غسلین ، قرانین ، قوطنیین یہ وہ قبیلہ ہے جو اپنے کانوں کو لحاف بنا کر اوڑھتا ہے ، قریطیین ، کنعانیین ، دفرانین ، جاجونین ، انطارنین ، یعاسین وغیرہ۔ یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ایک ایسی مخلوق ہیں جن کی سال میں بہت تیزی سے نشو و نما ہوتی ہے اتنی تیزی سے کسی دوسری مخلوق کی نشوو نما نہیں ہوتی۔ ([4])
(3)یاجوج ماجوج ربیع(یعنی موسم بہار)میں نکلتے تھے تو کھیتیاں اور سبزے سب کھا جاتے ، خشک چیزیں لاد کر لے جاتے ، آدمیوں کو بھی کھالیتے تھے ، درندوں اور وحشی جانوروں ، سانپوں اور بچھوؤں تک کھا جاتے تھے۔ ([5])یہ تمام حشرات الارض وغیرہ کھاجاتے ہیں ، اسی طرح تمام جاندارپرندوں کو کھا جاتے ہیں۔ مروی ہے کہ جب کوئی اژدھا اہل زمین کو اذیت پہنچا تاہے تواللہ عَزَّ وَجَلَّ اس اژدھے کو یاجوج ماجوج کی طرف منتقل فرماتا ہے اور ان کی خوراک بناتا ہے تو وہ اسے اونٹ اور گائے کی طرح ذبح کردیتے ہیں۔ ان کی غذااکثر شکار ہیں یہ کچا گوشت کھاجاتے ہیں ، بعض اوقات یہ ایک دوسرے کو بھی کھا لیتے ہیں۔ یہ ایک دوسرے کو کبوتروں کی طرح بلاتے اور کتوں کی طرح بھونکتے ہیں۔ ان کے چالیس گروہ ہیں جن کی خلقت ایک دوسرے سے نہیں ملتی اور ہر گروہ کا بادشاہ اور زبان الگ الگ ہے۔
(4)ان کے سر کتوں کے سروں کی طرح ہیں۔ ان میں بعض کے سینگ ، دم ، اور لمبے لمبے دانت ہیں۔ منقول ہے کہ ان کی ایک قسم کا قد صرف ایک بالشت ہے ، ان کے چرندوں جیسے پنجے اور درندوں جیسے دانت ہیں اور ان کے لمبے لمبے بال ہیں جو انہیں گرمی ، سردی سے بچاتے ہیں ۔ ان کے کان لمبے لمبے ہیں ، ایک کان میں گرمی اور دوسرے میں سردی بسر کرتے ہیں اور ایک قسم ایسی ہے جو سوتے وقت ایک کان نیچے بچھا لیتے ہیں اور دوسرا اوپر اوڑھ لیتے ہیں اور جو کوئی ان میں سے مرجائے اس کو کھاجاتے ہیں۔ ان میں سے ایک قسم ایسی بھی ہے جن کے قد بہت لمبے ہیں اور ان میں سے ایک قسم ایسی ہے کہ جو چار گز لمبے اور چار گز چوڑے ہیں۔ ([6])
(5)حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’معراج کی رات اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے یاجوج ماجوج کی طرف بھیجا ، میں نے انہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّکے دِین کی دعوت دی تو انہوں نے میری دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ لہٰذا وہ جہنم میں حضرت سیدنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی نافرمان اولاد اور ابلیس کی اولاد کے ساتھ ہوں گے۔ ‘‘([7])
’’طیبہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
[1] اکمال المعلم ، کتاب الفتن واشراط الساعۃ ، باب اقتراب الفتن۔ ۔ الخ ، ۸ / ۴۱۲ ، تحت الحدیث : ۲۸۸۰۔
[2] شرح مسلم للنووی ، کتاب الفتن و اشراط الساعۃ ، ۹ / ۳ ، الجزء الثامن عشر ۔
[3] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الرقاق ، باب البکاء والخوف ، ۹ / ۲۰۰ ، تحت الحدیث : ۵۳۴۲۔
[4] عمدۃ القاری ، کتاب احادیث الانبیاء ، باب قصۃ یاجوج ماجوج ، ۱۱ / ۴۱ ، ۴۲ملخصا۔
[5] نزہۃ القاری ، ۴ / ۳۸۳۔
[6] عمدۃ القاری ، کتاب احادیث الانبیاء ، باب قصۃ یاجوج ماجوج ، ۱۱ / ۴۱ ، ۴۲ملخصا۔
[7] عمدۃ القاری ، کتاب احادیث الانبیاء ، باب قصۃ یاجوج ماجوج ، ۱۱ / ۴۲۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع