30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بہارِ شریعت کی اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب عورت کا کوئی قصور نہ ہو تو اس صورت میں اسے والدین کے کہنے پر طلاق دینا جائز ہے واجب نہیں ، لہذا طلاق کی اس جائز صورت میں اگر والدین کے حکم پرعمل نہ کیا تو گناہ گار نہ ہوگا اور حالاتِ حاضرہ کے لحاظ سے اس جائز صورت میں طلاق نہ دینا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہےکہ اگر اس کی زوجہ نیک و پارسا ہےاور اپنے شوہر کے حقوق ادا کرنے میں کامل ہے ، اس کی اولاد کی اچھی پرورش کرتی ہے اور دینی اور دُنیاوی خوبیوں کی جامع ہے تو ایسی عورت کو طلاق نہ دے کیونکہ طلاق دینا اگرچہ مباح ہے لیکن اس مباح کام کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ناپسند فرمایا ہے ، چنانچہ حدیث پاک میں ہے کہ رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : “ روئے زمین پر اللہتعالیٰ نے کوئی ایسی چیز پیدا نہیں فرمائی جو اس کے نزدیک طلاق سے زیادہ ناپسندیدہ ہو۔ “ ([1])اور اسی طرح جب عورت شوہر کی فرمانبردار ہو تو قرآنِ کریم کے حکم کے مطابق اسے خود سے جدا نہ کرنا چاہیے ، ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْهِنَّ سَبِیْلًاؕ- (پ۵ ، النساء : ۳۴)
ترجمۂ کنزالایمان : پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آجائیں تو ان پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو۔
علامہ محمد امین ابن عابدین شامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : “ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ جدائی نہ چاہو (یعنی فرمانبردار عورت کو طلاق نہ دو)۔ “ ([2])
عَلَّامَہ حَافِظْ اَبُوْبَکْر مُحَمَّدْ بِنْ عَبْدُ اللہ اَلْمَعْرُوْف بِاِبْنِ الْعَربِیْ اَلْمَالکِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے حضرت سَیِّدُنَاعبداللہبن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی حدیث پاک کی جو شرح بیان فرمائی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ “ پہلے شخص جنہوں نے اپنے بیٹے کو طلاق کا حکم دیا وہ حضرتِ سَیِّدُنا ابراہیم خلیلُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں ، آپ کے حکم پر آپ کے فرزند حضرتِ سَیِّدُنا اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنی بیوی کو طلاق دی ، اس سے پتا چلتا ہے کہ بیٹے کے اپنے باپ کے ساتھ حسن سلوک میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جس چیز کو باپ ناپسند کرے بیٹا بھی اسے ناپسند کرے خواہ وہ اس کی پسندیدہ چیز ہی کیوں نہ ہو اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو چیز باپ پسند کرے بیٹا بھی اسے پسند کرے اگرچہ اس سے پہلے وہ ناپسند ہو ، لیکن یہ اس صورت میں ہے کہ جب باپ دینی بصارت کا حامل ہو۔ “ ([3])لیکن آج کے زمانے میں علوم شرعیہ سے ناواقفیت کے سبب والدین میں بصارت دینی اور مصلحت دینی کا فقدان پایا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس دور میں جب والدین بیٹے کو طلاق دینے کا حکم دیتے ہیں تو اس میں عموماً کوئی دینی مصلحت نہیں ہوتی ، بلکہ محض چھوٹی چھوٹی باتوں کو مطمع نظر بنا کر علیحدگی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ لہذا جب عورت قصور وار نہ ہو تو اسے محض والدین کے کہنے پر طلاق دینا مناسب نہیں۔ اور نہ ہی یہ مسئلہ کا درست حل ہے بلکہ اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ زوجہ اور والدین دونوں کا مدنی ذہن بنایا جائے اور ایک دوسرے کے حقوق کی رعایت کا درس دیا جائے ، اور اس کے لیےشیخ طریقت امیرِاہلسنت حضرت علامہ مولاناابو بلال محمدالیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکے اصلاحی بیانات و رسائل بالخصوص “ گھرامن کا گہوارہ کیسے بنے؟ ، ساس بہو میں صلح کا راز “ اور “ گھریلو ناچاقیوں کا علاج “ نہایت کارگر ثابت ہوتے ہیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے منسلک رہنے سے بھی ہر ایک کے حقوق کی پاسداری کا ذہن ملتا ہے اور اچھے اخلاق و اوصاف پیدا ہوتے ہیں لہذا اپنے گھر کو خوشیوں کا گلشن بنانے اور گھریلو ناچاقیوں سے نجات پانے کے لیے ہر دم دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ رہیئے۔
بی بی’’آمنہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے نزدیک کسی کو پسند یا ناپسند کرنے کا معیار دین تھااور وہ دینی نقصان سے بچنے کو خاص طور پر ترجیح دیتے تھے۔
(2)صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم پر عمل کرنے کو ہر حال میں فوقیت دیا کرتے تھے۔
(3)اگر والدین حق پرہوں تو ان کے حکم پر طلاق دینا واجب ہے اور اگر حق پر نہ ہوں تو جائز ہے۔
(4)اگر عورت فرمانبردار ہوتو فقط والدین کے کہنے پر اسے طلاق نہیں دینی چاہیے۔
دعا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں دین کو اپنی پسند اور ناپسند کا معیار بنانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 334 جنت کاسب سے بہترین دروازہ
وَعَنْ اَبي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَجُلاً اَتَاهُ قَالَ : اِنَّ لِيْ اِمْرَاَةً وَاِنَّ اُمِّيْ تَاْمُرُنِيْ بِطَلَاقِهَا؟فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: اَلْوَالِدُ اَوْسَطُ اَبْوَابِ الْجَنَّةِ فَاِنْ شِئْتَ فَاَضِعْ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع