30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے افطار کرنا بہتر ہے۔ ‘‘([1])عَلَّامَہ طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’حضور عَلَیْہِ السَّلَام نے پانی کو پاکیزہ کہا کیونکہ پانی عبادت کی ادئیگی میں رکاوٹ بننے والی چیز (یعنی ناپاکی ، حدث وغیرہ) کو زائل کردیتا ہے ، (اور یہ عظیم نعمت ہے) اسی وجہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے بندوں پر احسان جتاتےہوئے فرماتاہے : ) وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوْرًاۙ(۴۸) ((پ۱۹ ، الفرقان : ۴۸)ترجمۂ کنزالایمان : اورہم نےآسمان سےپانی اتارا پاک کرنے والا۔ ‘‘([2])
رشتہ دار مسکین پر صدقہ کرناافضل ہے:
اجنبی مسکین کو صدقہ دینے میں صرف ایک نیکی ہے جبکہ رشتہ دار مسکین کو صدقہ دینے میں دو نیکیاں ہیں ایک صدقہ کرنے کی اور دوسری صلہ رحمی کرنے کی اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دو نیکیاں ایک نیکی سے افضل ہیں۔ ([3])اس سے معلوم ہو اکہ اجنبی مسکین کے مقابلے میں رشتہ دار مسکین پر صدقہ کرنا افضل ہے کیونکہ اس میں دگنا ثواب ہے لہذا جب بھی صدقہ دینے کا ارادہ کریں تو سب سے پہلے اپنے رشتہ داروں میں مسکین اور سفید پوش لوگوں کو تلاش کریں ، اگر مل جائیں تو انہیں صدقہ دیں اور انہیں دینے کے بعد بھی کچھ بچ جائے یا رشتہ داروں میں مساکین نہ ملیں تو اجنبی مسکینوں کو صدقہ دیں۔
مسکین رشتہ دار کو صدقہ دیتے وقت کی نیت:
یہاں ایک اہم بات یاد رکھیں کہ جب بھی رشتہ دار مسکین کو صدقہ دیں تو صدقہ اور صلہ رحمی دونوں کی نیت کریں تاکہ دونوں کا ثواب ملے ۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’اگر اپنے قریبی عزیز کو صرف اس کے فقیر ہونے کی وجہ سے صدقہ دے ، اس کے قریبی ہونے کو ملحوظ نہ رکھے تو صرف صدقہ کا ثواب ملے گا ، صلہ رحمی کا ثواب نہ ملے گا اور اگر صرف اس کی رشتہ داری کا لحاظ کر کے اسے کچھ دے اور ا س کے فقیر ومحتاج ہونے کا لحاظ نہ کرے تو صرف صلہ رحمی کا ثواب پائے گا ، صدقے کا ثواب نہ ملے گا ، اگر دونوں کی نیت کرے تو دونوں کا ثواب پائے گا۔ ‘‘([4])
حاجت مندعزیزکوخالی ہاتھ نہ لوٹائیے:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جب بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ صدقہ دینے کی توفیق عطا فرمائے تو سب سے پہلے اپنے عزیزوں اور قرابت داروں پر صدقہ کیجئے کہ اس میں دُگنا اجر ہے اور اس صدقہ پر ان کا حق زیادہ ہے ، عربی کا مشہور مقولہ ہے کہ : اَلْحَقُّ لِلْقَرِیْب ثُمَّ لِلْبَعِیْد یعنی پہلے قریب والے کا حق ہے پھر دُور والے کا۔ صدقہ کے علاوہ بھی خیر خواہی اور صلہ رحمی کی نیت سے اپنے رشتہ داروں پر خرچ کرنے کی عادت بنائیے کہ اس سے خاندانوں میں محبت بڑھتی ہے اور اتحاد و اتفاق کی فضا قائم ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ جب کبھی کوئی رشتہ دار تنگدستی یا کسی حاجت کی وجہ سے سوال کرے ، اور بندہ اس کی مدد کرنے پر قادر ہو تو اسے چاہیے کہ اپنی حیثیت کے مطابق ضرور اس کی امداد و اعانت کرے ، بخل سے کام لیتے ہوئے اسے بلا وجہ شرعی ہرگز خالی ہاتھ نہ لوٹائیے کہ حدیث پاک میں اس کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے ، اسی ضمن میں دو فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پیش خدمت ہیں : (1) “ جو شخص اپنےکسی قریبی رشتہ دار کے پاس آکر اس کی حاجت سے زائد وہ شے مانگے جو اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے عطا فرمائی ہے لیکن وہ اس پر بخل کرے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ جہنم سے ايک اژدھا نکالے گا جس کا نام شجاع ہو گا ، وہ منہ سے زبان نکالے ہو گا پھر وہ اس شخص کے گلےکا طوق بن جائے گا۔ “ ([5])(2) “ اے امتِ محمد! اُس ذات پاک کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمايا ہے! اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن اُس شخص کا صدقہ قبول نہيں فرمائے گا جس کے رشتہ دار اُس کے صدقہ کے محتاج ہوں اور وہ صدقہ دوسرے لوگوں کی طرف پھیر دے۔ اُس ذاتِ پاک کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! اللہ عَزَّوَجَلَّ قيامت کے دن اُس پر نظرِ رحمت نہ فرمائے گا۔ “ ([6])
گناہگار رشتہ دار پر نیک اجنبی کوترجیح دینا:
یاد رکھیں کہ اگر رشتہ دار فاسق و فاجر ہو اور اِس بات کا اندیشہ ہو کہ اگر اسے کچھ دیں گے تو وہ گناہ کے کام میں خرچ کرے گا تو ایسی صورت میں اجنبی نیکو کار شخص کو صدقہ دینا افضل ہے۔ شیخ الاسلام ، علامہ شہاب الدین ابن حجر مکی ہیتمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’بسا اوقات نیکوکار اجنبی پر صدقہ کرنا گناہگار قريبی رشتہ دار پر صدقہ کرنے سے افضل ہوتاہے کیونکہ وہ اجنبی شخص اس صدقہ کو نیک کام میں خرچ کرے گا جبکہ فاسق رشتہ دار اسے گناہ کے کام میں خرچ کرےگا۔ ‘‘([7])
[1] مرآۃ المناجیح ، ۳ / ۱۵۴۔
[2] شرح طیبی ، کتاب الصوم ، باب فی مسائل متفرقۃ من کتاب الصوم ، ۴ / ۱۸۴ ، تحت الحدیث : ۱۹۹۰۔
[3] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الزکاۃ ، باب افضل الصدقۃ ، ۴ / ۴۲۸ ، تحت الحدیث : ۱۹۳۹۔
[4] اشعۃ اللمعات ، خطبۂ کتاب ، ۱ / ۳۶۔
[5] المعجم الاوسط ، باب المیم ، من اسمہ محمد ، ۴ / ۱۶۷ ، حدیث : ۵۵۹۳۔
[6] المعجم الاوسط ، باب المیم ، من اسمہ مقدام ، ۶ / ۲۹۶ ، حدیث : ۸۸۲۸۔
[7] الزواجرعن اقتراف الکبائر ، ۱ / ۴۱۲ ملخصًا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع