30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کنائے سے کرنا راوی کی طرف سے ہے ، انہیں اس بات کا ڈر تھا کہ نام ذکر کرنے سے ان کی ذات کو یا کسی اور کو فتنہ فساد پہنچے گااس لیے انہوں نے قبیلے کا نام نہیں لیا۔ ‘‘([1])
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : “ بنی فلاں “ راوی کی طرف سے کنایہ ہے ، انہیں فتنے کا خوف تھا(جس کی بنا پر انہوں نے اس قبیلے کا نام نہیں لیا)بہرحال اس سےابوسفیان بن حرب کی یا حکم بن عاص کی اولاد مراد ہے مگر قوی یہ ہے کہ یہ حکم عام ہے قریشی ، ہاشمی تمام قوموں کو شامل ہے۔ “ ([2])شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِینے بھی ایسا ہی کلام فرمایا ہے۔ ([3])
حضورِ اَقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دوست:
رسولِ اَکرم ، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : “ فلاں قبیلے کے لوگ میرے اولیاء یعنی دوست نہیں بلکہ میرا دوست اللہ عَزَّوَجَلَّ اور صالح مومنین ہیں۔ “ یعنی جو نیک مسلمان ہے ، وہ میرا دوست ہے اگرچہ اس کا نسب مجھ سے دور ہی کیوں نہ ہو اور جو نیک نہیں( یعنی کافر و بے ایمان ہو) وہ میرا دوست نہیں اگرچہ اس کا نسب مجھ سے قریب ہی کیوں نہ ہو۔ ‘‘([4])بے شک حضور عَلَیْہِ السَّلَام کے محبوب متقی مسلمان ہی ہیں کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے : ) اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ( (پ۹ ، الانفال : ۳۴)’’ترجمۂ کنزالایمان : اس کے اولیاء تو پرہیز گار ہی ہیں۔ ‘‘نیز حضور عَلَیْہِ السَّلَام کا یہ قول کہ “ میرا دوست اللہتعالیٰ اور صالحین ہیں۔ “ قرآن کریم کی اِن آیات سے ماخوذ ہے ، ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَۚ- ((پ۲۸ ، التحریم : ۴) ترجمۂ کنزالایمان : ’’ تو بیشكاللہان کا مددگار ہے اور جبریل اور نیک ایمان والے۔ ‘‘ اور ارشاد فرماتا ہے : ) اِنَّ وَلِیِّ ﰯ اللّٰهُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْكِتٰبَﳲ وَ هُوَ یَتَوَلَّى الصّٰلِحِیْنَ(۱۹۶) ( (پ۹ ، الاعراف : ۱۹۶) ترجمۂ کنزالایمان : بے شک میراوالیاللہ ہے جس نے کتاب اتاری اور وہ نیکوں کو دوست رکھتا ہے۔ ([5])
علامہ بدرُالدین عینی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی علامہ طیبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے حوالے سے فرماتےہیں کہ : ’’سرکارِ دوعالَم نورِمجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرمان کا یہ مطلب ہے کہ میں کسی کے ساتھ رشتہ داری کی بنیاد پر دوستی نہیں رکھتا بلکہ میں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے محبت کرتا ہوں اور نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت رکھتا ہوں نیز ایمان اور اعمال صالحہ کی وجہ سے مومنین کی مدد کرتا ہوں خواہ وہ میرے قرابت دار ہوں یا نہ ہوں۔ ‘‘([6])
اس بارے میں مختلف احادیث و روایات سے آٹھ(8) اقوال ماخوذ ہیں : (1)انبیاء کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام۔ (2)صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان۔ (3) نیک مؤمنین۔ (4) حضرتِ سَیِّدُنا ابوبکر ، حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروق اور حضرتِ سَیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ۔ (5)حضرتِ سَیِّدُنا صدیق اکبر و فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا۔ (6)بالخصوص سَیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ۔ (7)بالخصوص سَیِّدُنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ۔ (8)حضرتِ سَیِّدُناعلی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم۔ ([7])
مذکورہ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ حضور عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا : میرا دوست صرف اللہ تعالیاور نیک مسلمان ہیں لیکن میں کافر رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرتا رہوں گا کیونکہ صلہ رحمی کرنے میں کافر اور مسلمان برابر ہیں۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنَامیمون بن مہران رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ تین اشیاء میں مسلمان اور کافر برابر ہیں : (1) تونے جس سے وعدہ کیا خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر اسے پورا کر کیونکہ وعدہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی کے لیے ہوتا ہے۔ (2) تمہارا رشتہ دار کافر ہو یا مسلم اس سے صلہ رحمی کر۔ (3) مسلمان یا کافر جو بھی تیرے پاس امانت رکھے اسے صحیح صحیح ادا کر۔ ‘‘([8])
مُفَسِّر شہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’خیال رہے صلہ رحمی کرنے ، رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے کوبَلَلٌ یعنی تری کہتے ہیں کیونکہ تری سے
[1] شرح مسلم للنووی ، کتاب الایمان ، باب موالاۃ المؤمنین ومقاطعٰۃ۔ ۔ ۔ الخ ، ۲ / ۸۷ ، الجزء الثالث۔
[2] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الآداب ، باب البروالصلۃ ، ۸ / ۶۵۰ ، تحت الحدیث : ۴۹۱۴۔
[3] اشعۃ اللمعات ، کتاب الآداب ، باب البروالصلۃ ، ۴ / ۱۰۷۔
[4] شرح مسلم للنووی ، کتاب الایمان ، باب موالاۃ المؤمنین ومقاطعٰۃ۔ ۔ الخ ، ۲ / ۸۸ ، الجزء الثالث۔
[5] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الآداب ، باب البروالصلۃ ، ۸ / ۶۵۰ ، تحت الحدیث : ۴۹۱۴۔
[6] عمدۃ القاری ، کتاب الادب ، باب یبل الرحم ببلالھا ، ۱۵ / ۱۵۸ ، تحت الحدیث : ۵۹۹۰۔
[7] عمدۃ القاری ، کتاب الادب ، باب یبل الرحم ببلالھا ، ۱۵ / ۱۵۸ ، تحت الحدیث : ۵۹۹۰۔
[8] تنبیہ الغافلین ، ص۷۱۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع