دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کو دودھ پلایا ، بہرحال یہ حدیث بالکل برحق ہے ، اِن آیات و اَحادیث کے خلاف نہیں۔ ‘‘([1])

فرمانِ مصطفےٰ کا معنی:

حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرمان کا ایک معنی یہ ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عطا کے بغیر ذاتی طور پر کسی چیز کے مالک نہیں ہیں ، البتہ جن چیزوں کا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے آپ کو مالک کردیا ہے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمضروراُن کے مالک ہیں اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے حکم سے کل بروزِ قیامت گنہگاروں کی شفاعت فرمائیں گے۔ اِسی طرح جہاں کہیں حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی ذاتِ مبارکہ سے مختلف نعمتوں کی نفی فرماتے ہیں وہاں ذاتی طور پر نفی ہے کہ بغیر اِذن اِلٰہی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کسی چیز کے مالک نہیں ہیں ، قرآن وسنت سے اِس پر بے شمار دلائل موجود ہیں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اِرشاد کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ تم لوگ فقط مجھ سے رشتہ داری پر  بھروسہ کرکے تمام نیک اَعمال کو ترک نہ کردینا۔ چنانچہ عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس ارشاد : “ میں تمہارے لیے کسی چیز کا مالک نہیں۔ “ اس کا معنی یہ ہے کہ  تم لوگ مجھ سے رشتہ داری پر  بھروسہ نہ کر لو کیونکہ میں تم سے وہ عذاب دور کرنے کی قدرت نہیں رکھتا جو تمہیں دینے کا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اِرادہ فرما لے  البتہ میری تم سے جو رشتہ داری ہے اُس کے ناطے میں تم سے صلہ رحمی کرتا رہوں گا۔ ‘‘([2])

مدنی گلدستہ

’’شفاعت‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور

اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول

   (1)انفرادی اور اجتماعی دونوں طریقوں سے نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے منع کرنا چاہیے۔

   (2)مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ وہ ایمان اور نیک اعمال پر ثابت قدم رہ کر اپنی جانوں  اور اپنے گھر والوں کو  جہنم کی آگ سے بچائیں۔

   (3)ایمان اور نیک اعمال سے کوئی بھی بے نیاز نہیں  خواہ اس کا حسب نسب کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔

   (4)سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قیامت کے روز اپنی امت کی شفاعت فرمائیں گے۔

   (5)اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عطا کے بغیر حضور نبی اکرم نور مجسم شاہ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کسی کا عذاب دور نہیں فرمائیں گے، بلکہ اپنے رب تعالی کی عطا سے لوگوں کی شفاعت فرمائیں گے اور ان سے عذاب کو دور فرمائیں گے۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  سے  دعا ہے کہ ہمیں اجتماعی و انفرادی طورپر اپنے رشتہ داروں اور گھروالوں کو نیکی کی دعوت دینے اوربرائی سے منع کرنے  کی توفیق عطا فرمائے اور بروز حشر حضور پر نور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی شفاعت سے حصہ عطا فرمائے۔         آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                           صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر : 330              کافر رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی

وَعَنْ اَبِيْ عَبْدِ اللهِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ :  سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ  صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِهَارًا غَيْرَ سِرٍّ یَقُوْلُ :  اِنَّ آلَ بَنِيْ فُلاَنٍ لَيْسُوْا بِاَوْلِيَائِيْ ،  اِنَّمَاوَلِيِّيَ اللهُ وَصَالِحُ المُؤْمِنِيْنَ وَلَكِنْ لَهُمْ رَحِمٌ اَبُلُّهَا بِبَلَالِهَا.([3])

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہبن عَمرو بن عاص  سے رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ میں نے سرکار دوعالم نور مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بغیر کسی اخفاء کے بلند آواز سے یہ ارشادفرماتے ہوئے سنا : “ فلاں قبیلے والے میرے دوست نہیں بلکہ میرے دوست تو صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور نیک مسلمان ہیں ، لیکن اُس قبیلے والوں سے رشتہ داری ہے جس کی تری سے میں اسے تر کروں گا۔ ‘‘ (یعنی ان سے صلہ رحمی کروں گا۔ )

فلاں قبیلےسےکون مرادہے؟

محبوب ربِّ داور ، شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : “ فلاں قبیلے والے میرے دوست نہیں۔ “ ظاہر یہ ہے کہ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس قبیلے  کا نام لیا تھا مگر راوی نے فتنہ اور فساد سے بچنے کے لیے اُس کا نام نہیں لیا۔ جیسا کہ عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’قبیلے کا ذکر اشارے اور



[1]    مرآ ۃ المناجیح ، ۷ / ۱۸۱ملخصًا۔

[2]    دلیل الفالحین ، باب فی برالوالدین وصلۃ الرحم ، ۲ / ۱۷۰ ، تحت الحدیث : ۳۳۰۔

[3]    بخاری ، کتاب الادب ، باب یبل الرحم ببلالھا ، ۴ / ۹۸ ، حدیث : ۵۹۹۰۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن