30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
([1]) (2)اِسلام میں پھیلنے والے بڑے بڑے فتنے اور فساد عرب میں پھیلیں گے اس لیے عرب کا خاص طور پر ذکر کیا۔ ([2]) (3)عرب اِسلام میں داخل ہونے والی پہلی قوم ہے اور ڈرانے کے لیے بھی اُن کا نام لیا کیونکہ جب فتنہ واقع ہوگا تو ہلاکت و تباہی سب سے پہلے اُن کا رُخ کرے گی۔ ([3])
حدیث پاک میں فرمایا گیا : ’’عرب کے لیے اُس شر سے ہلاکت ہے جو قریب آچکا ہے۔ ‘‘شر کےبارے میں بھی شارحین حدیث کے مختلف اَقوال ہیں : (1) اِس شر سے مراد وہ جنگیں اورفتنے ہیں جو حضورِ انور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) بلکہ عہد فاروقی کے بعد عرب میں ظاہر ہوئے ، حضور نے وہ اپنی آنکھوں سے دیکھے ، حضور کی یہ گھبراہٹ اُن لوگوں پر شفقت کی وجہ سےتھی۔ ‘‘([4])(2) اس سے مراد وہ فساد ہے جو عنقریب یاجوج ماجوج برپا کریں گے۔ (3) اس سے مراد وہ بڑا فساد ہے جوچنگیزی تُرکوں نے مسلمانوں کے شہروں میں کیا۔ ([5]) (4)اِس شر سے وہ اختلاف مراد ہے جو امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی شہادت کے واقعے سے مسلمانوں کے درمیان پیدا ہوا اور وہ اختلاف جو امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْماور حضرتِ سَیِّدُنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے درمیان وقع ہوا۔ ([6])
تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مسلمانوں میں پھیلنے والے شر کے بارے میں خبر دینے کے بعد فرمایا : ’’آج یاجوج ماجوج کی دیوار اتنی کھل چکی ہے۔ ‘‘مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’یہ دوسری آفت کی خبر ہے۔ دیوار سے مراد وہ آہنی دیوار ہے جو سکندر ذوالقرنین نے قوم یا جوج ماجوج کو بند کرنے کے لیے دو پہاڑوں کے درمیان بنائی تاکہ وہ لوگ اس دنیا میں نہ آسکیں۔ یاجوج ماجوج کافر انسان ہیں جو بہت قوی بڑے جسامت والے قد آور ہیں ، قریب قیامت یہ دیوارگرے گی اور یاجوج ماجوج نکل کر اس دنیا میں آکر آفت ڈھادیں گے۔ آج اس دیوار میں سوراخ ہوجانا اس کے گرنے کا قُرب بتانا ہے یہ بھی علامت قیامت ہے۔ اس سے پتہ لگا کہ حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی نظر سارے جہان پر ہے کہ مدینہ منورہ میں رہتے ہوئے یاجوج ماجوج کی دیوار کا سوراخ ملاحظہ فرما رہے ہیں۔ ‘‘([7])
صالحین کی موجودگی میں عذاب آنا:
شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زبانی مستقبل میں درپیش آنے والے حالات و واقعات کے بارے میں جاننے کے بعد اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنازینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے عرض کیا : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے؟ حالانکہ ہم میں نیک لوگ بھی موجود ہیں۔ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’ہاں! جب خبث کی کثرت ہو جائے گی۔ ‘‘
مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’یہ سوال پہلے فرمان کے متعلق ہے کہ حضور نے فرمایا : شر قریب آگئی۔ سوال کا مقصد یہ ہے کہ ہم اہل عرب میں مؤمنین صالحین ہیں اور رہیں گے تو کیا ان کے ہوتے ہوئے بھی عرب میں یہ شر پھیل جاوے گی؟ (فرمایا : ہاں جب خبث کی کثرت ہو جائے گی) یعنی جب مسلمانوں میں فسق و فجور عام ہوجاوے تو نیک بندوں کی موجودگی انہیں ان آفات سے بچا نہ سکے گی ، کبھی نیک لوگوں کی نیکی بُروں کو عذاب سے بچالیتی ہے اور کبھی بُروں کی کثرت نیکوں کوعذاب میں گرفتار کردیتی ہے۔ ‘‘([8])
اس کےبارے میں شارحین کےکئی اقوال ہیں : (1) خبث سے مراد فسق و فجور اور کفر و شرک ہے۔ سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرمان سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ جب آگ اپنی شدت پر ہو تی ہے تو خشک و ترکو کھا جاتی ہے ، پاک و نجس پر غالب آجاتی ہے اور مؤمن و منافق ، موافق و مخالف کے درمیان فرق نہیں کرتی۔ ([9]) (2) جمہور علماء نے خبث کی تفسیر فسق و فجور سے کی ہے ، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد خاص طورپر بدکاری ہے اور ایک قول کے مطابق اس سے مراد بدکاری سے پیدا ہونے والی اولاد ہے۔ ([10]) (3) عرب بدکاری کے لیے خبث کا
[1] عمدۃ القاری ، کتاب المناقب ، باب علامات النبوۃ فی الاسلام ، ۱۱ / ۳۳۶ ، تحت الحدیث : ۳۵۹۸۔
[2] دلیل الفالحین ، باب فی الامربالمعروف ، ۱ / ۴۷۶ ، تحت الحدیث : ۱۹۰۔
[3] ارشاد الساری ، کتاب الفتن ، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم : ویل للعرب ۔ ۔ ۔ الخ ، ۱۵ / ۱۳ ، تحت الحدیث : ۷۰۵۹۔
[4] مرآۃ المناجیح ، ۷ / ۱۵۰۔
[5] عمدۃ القاری ، کتاب احادیث الانبیاء ، باب قصۃ یاجوج ماجوج ، ۱۱ / ۴۹ ، تحت الحدیث : ۳۳۴۶ ، مرآۃ المناجیح ، ۷ / ۱۵۰۔
[6] ارشاد الساری ، کتاب الفتن ، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم : ویل للعرب ۔ ۔ ۔ الخ ، ۱۵ / ۱۳ ، تحت الحدیث : ۷۰۵۹۔
[7] مرآۃ المناجیح ، ۷ / ۱۵۰۔
[8] مرآۃ المناجیح ، ۷ / ۱۵۰۔
[9] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الرقاق ، باب البکاء والخوف ، ۹ / ۲۰۰ ، تحت الحدیث : ۵۳۴۲۔
[10] دلیل الفالحین ، باب فی الامر بالمعروف ، ۱ / ۴۷۷ ، تحت الحدیث : ۱۹۰۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع