30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 329 رشتہ داروں کو نیکی کی دعوت
وَعَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هٰذِهِ الْآيَةُ ) وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَۙ ( دَعَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا فَاجْتَمَعُوْا فَعَمَّ وَخَصَّ وَقالَ : يَا بَنِيْ عَبْدِ شَمْسٍ ، یَا بَنِيْ كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ ، یَا بَنِيْ مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ ، یَا بَنِيْ عَبْدِ مَنَافٍ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ ، یَا بَنِيْ هَاشِمٍ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ ، یَا بَنِيْ عَبْدِ الْمُطَّلَبِ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ ، یَا فَاطِمَةُ اَنْقِذِيْ نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ. فَاِنِّيْ لَا اَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللهِ شَيئًا غَيْرَ اَنَّ لَكُمْ رَحِمًا سَاَبُلُّهَا بِبِلَالِهَا.([1])
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ) وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَۙ(۲۱۴)( (پ۱۹ ، الشعراء : ۲۱۴) ترجمۂ کنزالایمان : اور اے محبوب اپنے قریب تر رشتہ داروں کو ڈراؤ ۔ تو حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےقریش کو بلایا۔ جب وہ جمع ہو گئے توعام و خاص سبھی سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : “ اے عبدِ شمس کی اولاد! اے کعب بن لؤی کی اولاد! اپنی جانوں کو جہنم کی آگ سے بچا لو۔ اے مُرَّہ بن کعب کی او لاد! اپنی جانوں کو جہنم کی آگ سے بچا لو۔ اے عبدِ مَناف کی اولاد! اپنی جانوں کو جہنم کی آگ سے بچا لو۔ اے ہاشم کی اولاد! اپنی جانوں کو جہنم کی آگ سے بچا لو۔ اے عبد المطلب کی اولاد! اپنی جانوں کو جہنم کی آگ سے بچا لو۔ اے فاطمہ!تم(بھی) اپنی جان کو جہنم کی آگ سے بچا لو کیونکہ میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی چیزوں میں سے تمہارے لیے بذاتِ خود کسی چیز کا مالک نہیں ہوں البتہ میری تم سے رشتہ داری ہے اور عنقریب میں اس رشتہ داری کا فیض تم کو پہنچاؤں گا (یعنی تم سے صلہ رحمی کروں گا)۔ ‘‘
جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ حکم دیاکہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو عذاب الٰہی سے ڈرائیں تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے قریش کو جمع فرمایا کیونکہ یہ عرب میں بہت عزت والے مانے جاتے تھے اور قریش میں ان مذکورہ خاندانوں کا بڑا وقار تھااس لیے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں مخاطب فرماکر عمومی تبلیغ فرمائی۔ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے اس اجتماع میں عمومی تبلیغ بھی کی اور خصوصی بھی کہ اے فلاں اے فلاں قبیلہ والے لوگو ادھر آؤ ایمان قبول کرو اس سے معلوم ہوا کہ خصوصی تبلیغ بھی سنت ہے ، حضور عَلَیْہِ السَّلَام نے حضرت فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو بھی تبلیغ فرمائی ، اس سے معلوم ہوا کہ چھوٹے بچوں کو بھی اسلام کی تبلیغ کی جائے کیونکہ اس وقت حضرت فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا چھوٹی بچی تھیں نیز جب کسی خاص شخص یا قوم کے ایمان قبول کرنے سے دوسروں کے ایمان لانے کی امید ہو تو اسے خصوصی تبلیغ ضرور کی جائے ، حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سیرت میں اس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ آپ نے کافر بادشاہوں کو تبلیغی خطوط بھیجے۔ ([2])
اپنی جانوں کو آگ سے بچانے کے معنی:
سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے قبائل قریش سے فرمایا : “ اپنی جانوں کو آگ سے بچا لو ، “ اس کے معنی یہ ہیں کہ کفر اور گناہوں کی وجہ سے جو عذاب ملنے والا ہے اس سے خلاصی حاصل کرو اللہ عَزَّوَجَلَّ پر ایمان لاکر ، اس کی اطاعت کرکے اور اس کا حق عبودیت ادا کرکے۔ ‘‘([3]) (کیونکہ ایمان اور اطاعت جہنم سے بچنے کا ذریعہ ہے۔ )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یاد رہے کہ جس طرح کافروں پر لازم ہے کہ وہ توحید و رسالت پر ایمان اور اطاعت الٰہی بجا لاکر اپنی جانوں کو جہنم کی آگ سے بچائیں اسی طرح مسلمانوں پر بھی لاز م ہے کہ وہ توحید و رسالت پر ثابت قدم رہیں اور اللہتعالیٰ اور اس کے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی فرمانبرداری اختیار کرکے ، عبادتیں بجالا کراور گناہوں سے باز رہ کر اپنے آپ کو ، نیز اپنےگھر والوں کو نیکی کی دعوت دے کراور برائی سے منع کرکے اور انہیں علم و ادب سکھا کرجہنم کی آگ سے بچائیں ، چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتاہے :
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓىٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ(۶)
(پ۲۸ ، التحریم : ۶)
ترجمۂ کنزالایمان : اے ایمان والو اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس آ گ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اس پر سخت کرّے فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کا حکم نہیں ٹالتے اور جو انہیں حکم ہو وہی کرتے ہیں۔
لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ نیکیوں بھری زندگی گزارے ، گناہوں سے کنارہ کشی اختیار کرے ، اپنے گھروالوں کو بھی اس کی تعلیم دے ، انہیں بھی نیکیاں کرنے کی ترغیب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع