30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایمان،عبادات اور اخلاقیات سبھی کی تعلیم دیتے ہیں۔
(2)صلہ رحمی کرنے کی برکت سے آدمی بُری موت سے محفوظ رہتا ہے۔
(3)نیکی اور صلہ رحمی قیامت کے دن بُرے حساب سے بچائیں گے۔
(4)نیک اعمال میں صلہ رحمی سے زیادہ جلد کسی چیز کا ثواب نہیں ملتا اور گناہوں میں ظلم سے زیادہ جلد کسی گناہ کی سزا نہیں ملتی۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ ہمیں صلہ رحمی کرنے اور اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 328 اہل مصرکے ساتھ رشتہ داری ہے
وَعَنْ اَبِيْ ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اِنَّكُمْ سَتَفْتَحُوْنَ اَرْضًا يُذْكَرُ فِيْهَا الْقِيْرَاطُ.وَفِيْ رِوَايَةٍ : سَتَفْتَحُوْنَ مِصْرَ وَهِيَ اَرْضٌ يُسَمَّى فِيْهَا الْقِيْرَاطُ فَاسْتَوْصُوْا بِاَهْلِهَا خَيْرًا فَاِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً وَرَحِمًا.وَفِيْ رِوَايَةٍ : فَاِذَا فْتَتَحْتُمُوْهَا فَاَحْسِنُوْا اِلٰى اَهْلِهَا فَاِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً وَرَحِمًا اَوْ قَالَ : ذِمَّةً وصِهْرًا. ([1])قَالَ الْعُلَمَاءُ : اَلرَّحِمُ الَّتِيْ لَهُمْ كَوْنُ هَاجَرَ اُمِّ إسْمَاعِيْلَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ ، “ وَالصِّهْرُ “ كَوْنُ مَارِيَةَ اُمِّ إبْرَاهِيْمَ ابْنِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ.
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ عنقریب تم ایک ایسی زمین فتح کرو گے جس میں قیراط کابہت ذکر کیا جاتا ہے۔ “ ایک روایت میں ہے : “ عنقریب تم مصر فتح کرو گے اور یہ وہ سرزمین ہے جس میں قیراط کا بہت نام لیا جاتا ہے ، تو تم اس کے باشندوں سے بھلائی کرنا کیونکہ ان سے معاہدہ بھی ہے اور رشتہ داری بھی۔ “ اور ایک روایت میں ہے : “ جب تم مصر فتح کر لوتو اس کے باشندوں سے حسن سلوک کرنا کیونکہ ان سے معاہدہ اور رشتہ داری ہے۔ “ (راوی کہتے ہیں ) یا یہ فرمایا کہ ان سے معاہدہ اور سسرالی رشتہ داری ہے۔ “ علماء فرماتے ہیں : (مصر والوں سے نسبی)رشتہ داری یہ ہے کہ حضرت سَیِّدُنَااسماعیل عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی والدہ حضرت سَیِّدَتُنَا حاجرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا اہل مصر میں سے تھیں اورسسرالی رشتہ داری یہ ہے کہ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے شہزادے حضرت سَیِّدُنَا ابراہیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی والدہ حضرت سَیِّدَتُنَا ماریہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا تعلق مصرسے تھا۔
مذکورہ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ تم عنقریب مصر کو فتح کروگے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے اس فرمان میں ایک سرزمین کے فتح ہونے کی خبر دی ہے جو کہ غیب کی خبر ہے۔ عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’یہ غیبی خبروں میں سے ایک خبر ہے اور سرکارِدوعالَم نورِمجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے معجزات میں سے ایک معجزہ ہے اور بے شک حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جیسی خبر دی ویسا ہی واقع ہوا۔ ‘‘([2])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس سے معلو م ہوا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو غیب کا علم عطا فرمایا ہے اور حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے غیب کی خبریں دی ہیں جو کہ حرف بہ حرف پوری بھی ہوئی ہیں ۔ اس مسئلے سے متعلق دلائل کے ساتھ تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لیے فتاوی رضویہ شریف کی 29ویں جلد میں موجود اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کے ان دو رسائل کا مطالعہ کرنا بہت مفید ہے : (1)خَالِصُ الْاِعْتِقْادْ۔ اس رسالے میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے علم غیب سے متعلق 120دلائل ذکر فرمائے ہیں۔ (2)اِزَاحَۃُ الْعَیْب بِسَیْفِ الْغَیْب۔ اس رسالے میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے علم غیب پر دلائل دینے کے ساتھ منکرین علم غیب کا شاندار رد بھی فرمایاہے۔
قیراط اور اس کا ذکر کیے جانے کا معنی:
دو عالم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’تم جو زمین فتح کروگے اس میں قیراط کا نام بہت لیا جاتا ہے۔ ‘‘ مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’قیراط بہت چھوٹا سا وزن ہے یعنی دینار کا بیسواں حصہ یعنی وہاں کے تاجرین بہت ہی بے مروت ہیں کسی کی رعایت رتی بھر بھی نہیں کرتے ، قیراط تک کا حساب کرتے رہتے ہیں اگرچہ وہ چند رتی کا ہو ، یہ کہتے رہتے ہیں اتنی چھٹانک اتنی رتی۔ معلوم ہوا کہ اہل مصر معاملات میں بہت سخت ہیں ، یہ بھی معلوم ہوا کہ تاجر کو سخت گیر ہونا نہیں چاہیے معمولی چیزوں میں تولہ رتی کا حساب نہ کرے ، سونا چاندی اور چیز ہے اس میں رتی کا بھی حساب لگتا ہے۔ ‘‘([3])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع