دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

کرتی ہو؟ “ انہوں نے عرض کی : ’’نہیں۔ ‘‘ ارشاد فرمایا : “ کیا تم یہ پسند کرتی ہو کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تمہیں آگ کے کنگن پہنائے؟ “ عرض کی : ’’نہیں۔ ‘‘ارشاد فرمایا : ’’تو تم اُن کی زکوۃ ادا کرو۔ “ ([1])

ان احادیث کو سامنے رکھتے ہوئے ہر اسلامی بہن کو چاہیے کہ اگر نصاب کی مقدار  سونے یا چاندی کے زیورات ا س کی ملکیت میں موجود ہیں  خواہ وہ اس کے استعمال میں ہوں یا نہ ہوں ،  یونہی اگر نصاب کی مقدار سے سونے چاندی کے  زیورات کم ہوں لیکن دوسرے اموال زکوۃ کے ساتھ مل کر نصاب کی مقدار کو پہنچ جاتے ہوں تو وہ ان کی زکوۃ ضرور ادا کرے  تاکہ قیامت کے دن آگ کے زیورات پہننے سے بچ سکے۔ دعا ہے کہ اللہتعالیٰ  ہمیں فرض ہونے والی زکوۃ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

غنی ہونے میں مالداری کا اعتبار:

مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اسی کلام کی شرح میں فرماتے ہیں : ’’ اس سے معلوم ہوا کہ غنی عورت کا خاوند اور غنی خاوند کی بیوی ایک دوسرے کے غنی سے غنی نہ مانے جائیں گے جیسے امیر کی بالغ اولاد باپ کی غنا سے غنی نہیں ہوتی۔ دیکھو حضرت ابن مسعود (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ)کی بیوی  غنیہ تھیں مگر خود ابن مسعود(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) مسکین تھے۔ ‘‘([2])

خود مسئلہ نہ پوچھنے کی وجہ:

حضرت سَیِّدُنا عبد اللہ بن  مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے زوجہ کے کہنے پر خود مسئلہ پوچھنے سے منع فرما دیا اور اپنی زوجہ سے ہی فرمایا کہ وہ خود جا کر مسئلہ پوچھ لیں۔  عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’ممکن ہے کہ آپ نے اس لیے منع کیا ہو کہ (یہ سوال کرنے پر)بعض لوگ انہیں لالچی نہ سمجھ لیں۔ ‘‘([3])

اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں : ایک یہ کہ  شوہر اپنی بیوی سے  گھر سے باہر کا  ضرور ی کام بھی کرو اسکتا ہے  جبکہ عورت پردہ و حجاب میں رہتے ہوئے کرے۔ دوسری یہ کہ جب شرعی مسئلہ پوچھنے میں کوئی مانع ہوتو خود پوچھنے کے بجائے کسی دوسرے  کے ذریعے معلوم کروالینا بھی درست ہے۔ جیساکہ حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے مذی کا مسئلہ حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے خود نہ پوچھا بلکہ حضرت مقداد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے پوچھوایا۔ ([4])

تاجدارِرسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہیبت:

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے لوگوں کے  دلوں میں اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہیبت ڈال دی تھی جس کی وجہ سے ہرشخص اجازت کے بغیرخدمت  اقدس میں حاضر ہونے اورعرض معروض کرنے کی ہمت نہ کرتا تھا اور آپ کی بارگاہ میں  حاضرین بھی ایسے خاموش اور با ادب بیٹھا کرتےتھے جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں۔ حالانکہ سرکار ِدو عالَم ، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم انتہائی با اَخلاق اور بہت ہی رحم و کرم فرمانے والے  تھے۔ یہاں موضوع کی مناسبت سے  سید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی  ہیبت سے متعلق صحابہ کرام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے دوواقعات ملاحظہ ہوں ، چنانچہ حضرت سَیِّدُنا براء بن عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’میں کسی کام کے بارے  میں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سوال کرنا چاہتا تھا لیکن آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہیبت کے سبب کئی برسوں تک اسے مؤخر کرتارہا۔ ‘‘([5])

حضرت سَیِّدُنا عَمر و بن عاصرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے وفات کے وقت اپنے بیٹے سے اپنی تین حالتیں بیان کیں۔ دوسری حالت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : “ میرے نزدیکرسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے زیادہ محبوب اور میری آنکھوں میں آپ سے زیادہ جلال و ہیبت والا کوئی نہ تھا۔ میں حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہیبت کے سبب آپ کی طرف نظر بھر کر نہ دیکھ سکتا تھا۔ ‘‘([6])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مدنی گلدستہ

’’عرفات‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور

اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول

   (1)عورت کے استعمالی زیور پر بھی زکوۃ فرض ہے۔

 



[1]    ترمذی ، کتاب الزکاۃ ، باب ما جاء فی زکاۃ الحلی ، ۲ / ۱۳۲ ، حدیث : ۶۳۷۔

[2]   مرآۃ المناجیح ، ۳ / ۱۱۸۔

[3]    مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الزکاۃ ، باب افضل الصدقۃ ، ۴ / ۴۲۴ ، تحت الحدیث : ۱۹۳۴۔

[4]    مرآۃ المناجیح ، ۳ / ۱۱۹ملخصًا۔

[5]    الشفاءبالتعریف حقوق المصطفیٰ ، الباب الثالث ، ۲ / ۴۰۔

[6]    مسلم ، کتاب الایمان  ، باب کون الاسلام یھدم ماقبلہ وکذالھجرۃ  والحج ، ص۷۵ ، حدیث : ۱۲۱۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن