30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بَلِ اِئْتِيْهِ اَنْتِ ، فَانْطَلَقتُ ، فَاِذَا اِمْرَاَةٌ مِنَ الْاَنْصَارِ بِبَابِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتِيْ حَاجَتُهَا ، وَكَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ اُلْقِيَتْ عَلَيْهِ الْمَهَابَةُ ، فَخَرجَ عَلَيْنَا بِلاَلٌ ، فَقُلْنَا لَهُ : اِئْتِ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاَخْبِرْهُ اَنَّ اِمْرَاَتَيْنِ بِالْبَابِ تَسْاَلَانِكَ : اَتُجْزِىءُ الصَّدَقَةُ عَنْهُمَا عَلىٰ اَزْوَاجِهِمَا وَعَلٰى اَيْتَامٍ فِيْ حُجُورِهِمَا؟ وَلَاتُخْبِرْهُ مَنْ نَحْنُ ، فَدَخَلَ بِلاَلٌ عَلیٰ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَاَ لَهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ هُمَا ، قَالَ : امْرَاَةٌ مِنَ الْاَنْصَارِ وَزَيْنَبُ ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اَيُّ الزَّ يَانِبِ هِيَ؟ قَالَ : اِمْرَاَةُ عَبْدِ اللهِ ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَهُمَا اَجْرَانِ : اَجْرُ القَرَابَةِ وَاَجْرُ الصَّدَقَةِ.([1])
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی زوجہ حضرت سَیِّدَتُنَا زینب ثَقَفِیَّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم نورِمجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو اگرچہ اپنے زیور سے ہی کرو۔ ‘‘ فرماتی ہیں : ’’میں حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس آئی اور ان سے کہا کہ ’’آپ خالی ہاتھ اور تنگدست آدمی ہیں اور رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا ہے ، لہٰذاآپ خدمت اقدس میں حاضر ہو کر پوچھ آئیں کہ اگر میرا آپ (اور آپ کی اولاد )پرصدقہ کرنا جائز ہے تو ٹھیک ، ورنہ میں آپ لوگوں کے علاوہ کسی اور کو صدقہ دے دوں۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَاعبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ’’تم خود جاؤ۔ ‘‘ فرماتی ہیں کہ میں گئی تو دیکھا کہ ایک انصاری خاتون سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دروازے پر کھڑی ہے اور اسے بھی یہی مسئلہ درپیش تھا۔ رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو قدرتی ہیبت عطا کی گئی تھی(جس کی وجہ سے ہم خدمت اقدس میں حاضر ہونے کی جرأت نہ کر سکیں) اتنے میں حضرت سَیِّدُنَا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ باہر تشریف لائے تو ہم نے ان سے عرض کی : ’’رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں جاکر عرض کیجئے کہ دو۲عورتیں دروازے پر کھڑی ہیں ، آپ سے یہ مسئلہ پوچھنا چاہتی ہیں کہ اگر وہ اپنے شوہروں اور زیر کفالت یتیموں پرمال خرچ کریں تو کیا یہ صدقہ ہوجائے گا؟ اور یہ نہ بتائیے گا کہ ہم کون ہیں۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے مسئلہ معلوم کیا تو رسول اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’وہ عورتیں کون ہیں؟‘‘ عرض کی : ’’ایک انصاری خاتون ہیں اور دوسری حضرت زینب ہیں۔ ‘‘ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ کون سی زینب؟‘‘ عرض کی : ’’حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی زوجہ۔ ‘‘ رحمت عالم نور مجسم شاہ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ ان کے لیے دو اجر ہیں۔ ایک رشتہ داری کا اور دوسرا صدقہ کرنے کا۔ ‘‘
شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے حدیث پاک کی جو شرح فرمائی اسی کی روشنی میں اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی زوجہ حضرت سَیِّدَتُنَا زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانےاپنے شوہر حضرت سَیِّدُنَا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے کہا : ’’آپ کچھ مسکین اور تنگدست انسان ہیں اور رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا ہے ، لہذا آپ وہاں حاضر ہو کر پوچھ آئیں کہ ازدواجی اعتبار سے میرا ہر چیز میں آپ کے ساتھ اشتراک ہے ، اس کے باوجود میرا آپ پر اور آپ کی اولاد پر صدقہ کرنا ثواب کے لیے کافی ہوگا یا نہیں ، اگر کافی ہوگا تومیں آپ لوگوں پر اپنا مال صرف کر دیتی ہوں اور اگر کافی نہیں تو میں دوسرے لوگوں پر خرچ کر دیتی ہوں۔ ‘‘ حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے (گویا کہ شرم و حیاء کی بنا پر) فرمایا : ’’میں نہیں بلکہ تم ہی جاؤ اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے یہ مسئلہ دریافت کر لو۔ ‘‘ حضرت سَیِّدَتُنَا زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے جو سیدنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے یہ کہا کہ ان کی خدمت میں ہمارا نام عرض نہ کیجئے گا۔ تاکہ وہ ہمیں اپنے پاس بلانے کی تکلیف محسوس نہ کریں اور ہماری وجہ سے ان کا وقت ضائع نہ ہو۔ چونکہ بہت سی صحابیات کا نام زینب تھا اس لیے نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا : “ کون سی زینب؟ عرض کی : حضرت عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی زوجہ۔ تب رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ ہاں انہیں کافی ہوگا اورانہیں دو اَجر ملیں گے ، ایک رشتہ داری کا اور دوسرا صدقہ کرنے کا ، لہذا ان پر صدقہ کرنا دوسروں پر صدقہ کرنے سے افضل و اکمل ہو گا۔ ‘‘([2])
عورت کے استعمالی زیور پر زکاۃ فرض ہے:
ظاہر یہ ہے کہ اس حدیث پاک میں نفلی صدقہ مراد ہے اور اگر صدقہ سے زکوۃ مراد ہو تواس سے معلوم ہوتا ہےکہ(سونے اور چاندی کا ) جو زیور عورت کے استعمال میں ہےاس پر بھی زکوۃ فرض ہے خواہ وہ زیور اس نے خود خریدا ہو یا کسی اور نے جیسے میکے یا سسرال والوں نےاُسے اِس زیور کا مالک بنا دیا ہو اور یہ زکوۃخود اس عورت پر فرض ہے اس کے شوہر پر نہیں۔ مذکورہ حدیث پاک کے علاوہ یہاں مزید دو ایسی احادیث ملاحظہ ہوں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سونے چاندی سے بنے ہوئے استعمالی زیورات پر بھی زکوۃ فرض ہے۔ (1)چنانچہ اُم المومنین حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں : ’’میں سونے کے زیور پہنا کرتی تھی ، (ایک دن ) میں نے عرض کی : یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیا یہ(وہ) کنز ہے(جس کے متعلق وعید آئی ہے)؟‘‘ ارشاد فرمایا : “ جو زکوۃ ادا کیے جانے کی حد کو پہنچ جائے اور (اس کی) زکوۃ ادا کر دی جائے تو وہ کنز نہیں۔ “ ([3])(2)دوسری حدیث پاک میں ہے کہ دو عورتیں خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں اور ان کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن تھے۔ حضورنبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ کیا تم ان کی زکوۃ ادا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع