30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(1)جب رشتہ دار ضرورت مند ہوں تو ان ہی پر صدقہ کرنا چاہیے۔
(2)رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرنا عام مسکین پر صدقہ کرنے سے افضل ہے لیکن جب کوئی مسیکن زیادہ حاجت مند ہوتو اسی کو صدقہ دینا افضل ہے۔
(3)ماں کے عظیم مرتبے کے پیش نظر اس کے رشتہ داروں کے ساتھ زیادہ صلہ رحمی کرنی چاہیے۔
(4)بیوی اپنے مال میں شوہر کی اجازت کے بغیر تصرف کر سکتی ہے۔
دعا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں اپنے محتاج رشتہ داروں پر صدقہ کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 325 مُشرِکہ ماں کے ساتھ صلہ رحمی
وَعَنْ اَسْمَاءَ بِنْتِ اَبِيْ بَكْرِ الصِّدِّيْقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَتْ : قَدِمَتْ عَلَيَّ اُمِّي وَهِيَ مُشرِكَةٌ فِيْ عَهْدِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَفْتَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ : قَدِمَتْ عَلَيَّ اُمِّي وَهِيَ رَاغِبَةٌ اَفَاَصِلُ اُمِّي؟ قَالَ : نَعَمْ صِلِيْ اُمَّكِ.([1])
ترجمہ : حضرت سَیِّدَتُنااسماء بنت ابو بکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سےروایت ہے ، فرماتی ہیں : رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زمانے میں میرے پاس میری ماں آئی اور ا س وقت وہ مشرکہ تھی تو میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سوال کرتے ہوئے عرض کی : ’’میری ماں میرے پاس آئی ہے اوراسے کچھ طمع ہے ، کیا میں اپنی ماں سے صلہ رحمی کروں ؟ ‘‘ارشادفرمایا : ’’ ہاں ، اپنی ماں سے صلہ رحمی کرو۔ “
کافروالدین سےبھی صلہ رحمی لازم ہے:
مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’معلوم ہوا کہ کافرومشرک ماں باپ کی بھی خدمت اولاد پر لازم ہے۔ فقہاء فرماتے ہیں کہ مشرک باپ کو بت خانہ لے نہ جائے مگر جب وہاں پہنچ چکا ہو تو وہاں سے گھر لے آئے کہ لے جانے میں بت پرستی پر مدد ہے اور لے آنے میں خدمت ہے ، دوسرے عزیز و قرابت داربھی اگر مشرک و کافر ہوں مگر محتاج ہوں تو ان کی مالی خدمت کرے۔ ‘‘([2])علامہ سید محموداحمدرضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث سے واضح ہوا کہ کافر ماں باپ سے صلہ رحمی کرنا جائز ہے بلکہ بعض علماء نے اس حدیث سے یہ بھی استدلال کیا ہے کہ والدین اگر کافر ہوں اور محتاج ہوں تو ان کا نان نفقہ مسلمان بیٹے پر واجب ہے۔ ‘‘([3])
مشرک والدین سے ہدیہ قبول کرناجائز ہے:
حضرت عبد اللہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ اسی موقع پر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے یہ آیت نازل فرمائی :
لَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ لَمْ یُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَیْهِمْؕ- (پ۲۸ ، الممتحنۃ : ۸)
ترجمۂ کنزالایمان : اللہ تمہیں ان سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین میں نہ لڑے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہ نکالا کہ ان کے ساتھ احسان کرو اور ان سے انصاف کا برتاؤ برتو۔
مشرک والدین اور عزیز و اقارب سے تحفے تحائف قبول کرنا اور ان کے ساتھ نیک سلوک کرنا جائز ہے یعنی مجرد معاملت ، دنیا داری اور خون کے رشتہ کے میلِ طبعی کی بنا پر سلوک کرنا جائز ہے۔ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ریشمی حُلّہ بطور ہدیہ عطا فرمایا ، حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے وہ حُلّہ اپنے رضاعی کافر بھائی کو بھجوادیا۔ جس سے معلوم ہوا کہ اپنے کافر و مشرک بھائی بہن ، ماں باپ کو ہدیہ دینا جائز ہے۔ واضح ہوکہ مجرد معاملت ہر کافر سے جائز ہے یعنی اگر کسی قسم کا دینی و دنیوی نقصان کا اندیشہ نہ ہو اور نہ ہی اس میں اعانت کفر ہو اور نہ نقصانِ اسلام و شریعت ہو۔
کافر والدین سے بھی بہر حال نیک سلوک کرنا واجب ہے لیکن ان معصیت و شرک میں ان کی اطاعت نہیں کی جائے گی ، قرآنِ مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌۙ-فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا٘- (پ۲۱ ، لقمٰن : ۱۵)
ترجمۂ کنزالایمان : اور اگر وہ دونوں تجھ سے کوشش کریں کہ میرا شریک ٹھہرائے ایسی چیز کو جس کا تجھے علم نہیں تو ان کا کہنا نہ مان اور دنیا میں اچھی طرح ان کا ساتھ دے۔
اس آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ اگر والدین کفر و شرک کا حکم کریں تو ان کی اطاعت نہ کی جائے کیونکہ خالق کی نافرمانی کرنے میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں ہے البتہ کافر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع