دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

(1)   حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عطا سے غیب کا علم رکھتے ہیں ، بلکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جو غیب کی خبر دی تھی وہ بالکل سچ اور حق واقع ہوئی۔

(2)   حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے جملہ فضائل سے نوازا ہے ، یہ بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا معجزہ ہے کہ آپ غیب کی خبریں ارشاد فرماتے ہیں۔

(3)   گناہ  روکنے کی استطاعت نہ ہوتے ہوئے اسے دل میں براجان کر خاموش رہنے والا  گناہگار نہیں۔

(4)   نماز کفراور اسلام کے درمیان فرق کرنے والی ہے ، لہذا جب تک حکام کفر اختیار نہ کریں ان کے خلاف خروج یا بغاوت جائز نہیں۔

(5)   اگر کوئی شخص حکام کے بُرے اور خلافِ شرع اَفعال کو روکنے کی استطاعت رکھتا ہو مگر پھر بھی نہ روکے تو وہ بھی ان کے گناہ میں برابر کا شریک ہے۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں گناہوں پر رضامند ہونے اور کسی بھی طرح اُن کی حمایت کرنے سے محفوظ فرمائے ، اگر برائی کو روکنے کی استطاعت رکھتے ہوں تو اسے روکنے نہیں تو کم ازکم دل میں برا جاننے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں خود بھی گناہوں سے بچنے اور دوسروں کو بھی بچانے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر : 189                                                                 گناہوں کی کثرت اور فتنوں کا نزول

عَنْ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ اُمِّ الْحَکَم زَیْنَبَ بِنْتِ جَحْشِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا اَنَّ النَّبِیََّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَیْہَا فَزِعاً یَقُوْلُ :  لاَ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ،  وَیْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ فُتِحَ الیَوْمَ مِنْ رَدْمِ یَاجُوْجَ وَمَاجُوْجَ مِثْلَ ہٰذِہِ وَحَلَّقَ بِاُصْبُعَیْہِ الْاِبْہَامِ وَالَّتِیْ تَلِیْہَا فَقُلْتُ :  یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَنَہْلِکُ وَفِیْنَا الصَّالِحُوْنَ؟ قَالَ :  نَعَمْ اِذَا کَثُرَ الْخَبَثُ. ([1])

ترجمہ : اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمّ حَکَمْ زینب بنت جَحَشْرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ حضور نبی پاک ، صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک دن گھبراہٹ کی حالت میں اُن کے ہاں تشریف لائےاورآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارشادفرما رہے تھے : ’’اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں ، عرب کے لیے اُس شر سے ہلاکت ہے جو قریب آچکا ہے۔ آج یاجوج ماجوج کی دیوار اتنی کھل چکی ہے۔ ‘‘اورآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے انگوٹھے اور شہادت والی انگلی کا حلقہ بنایا۔ حضرتِ سَیِّدَتُنازینبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں : ’’میں نے عرض کیا : یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے ؟حالانکہ ہم میں نیک لوگ بھی موجود ہیں۔ ‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’ہاں جب خبث (یعنی فسق وفجور اور کفر وشرک)کی کثرت ہو جائے گی۔ ‘‘

حدیث پاک کی باب سے مناسبت:

اس حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ جب خبث یعنی فسق وفجور اور کفروشرک کی کثرت ہوگی تو سب قہر الہی میں گرفتار ہوں گے۔ کثرت تبھی ہوگی جب لوگ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ ترک کردیں گے ، جب تک لوگ امر بالمعروف ونہی عن المنکر کرتے رہیں گے عذاب الٰہی سے بچے رہیں گے۔ یہ باب بھی امربالمعروف ونہی عن المنکر کا ہے اسی لیے علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے یہ حدیث ذکر فرمائی۔

ہلاکت اور اس کا استحقاق:

رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’عرب کے لیے اس شر سے ہلاکت ہے۔ ‘‘ہلاکت کے لیے عربی میں “ وَیْلٌ “ اور “ وَیْحٌ “ دونوں استعمال ہوتے ہیں لیکن ان دونوں میں یہ فرق ہے کہ “ وَیْلٌ “ اس شخص کے لیےبولا جاتا ہے جو اس ہلاکت میں پڑے جس کا وہ مستحق ہے اور “ وَیْحٌ “ اس شخص کے لیے بولا جاتا ہے جو اس ہلاکت میں پڑے جس کا وہ مستحق نہیں۔([2])

تو مذکورہ حدیث پاک میں “ وَیْلٌ “ کے الفاظ اس بات پر دال ہیں کہ مسلمان جس ہلاکت میں مبتلا ہوں گے وہ اس کے مستحق بھی ہوں گے اور اس استحقاق کی وجہ کثرتِ خبث یعنی فسق وفجور اور کفروشرک کا زیادہ ہونا ہے۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمان اگر امر بالمعروف ونہی عن المنکریعنی نیکی دعوت دینا اور برائی سے منع کرنا چھوڑ دیں تو وہ عذابِ الٰہی کے مستحق ہوں گے۔

عرب سے کون مراد ہیں۔۔۔؟

شارحین حدیث نے مسلمانوں کو عرب کے ساتھ خاص کرنے کی مختلف وُجوہات بیان فرمائی ہیں : (1)مسلمانوں کی اکثریت عربوں اور اُن کے آزاد کردہ غلاموں کی ہے ۔



[1]   بخاری ،  کتاب احادیث  الانبیا ، باب قصۃ یاجوج وماجوج  ،  ۲ / ۴۱۹ ،  حدیث : ۳۳۴۶۔

[2]   عمدۃ القاری ،  کتاب الفتن ،  باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم :  ویل للعرب ۔ ۔ ۔ الخ ، ۱۶ / ۳۳۴ ،  تحت الحدیث : ۷۰۵۹۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن