30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُؕ-اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ(۳۴) وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْاۚ-وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ(۳۵) (پ۲۴ ، حم السجدہ ، : ۳۴ ، ۳۵)
ترجمۂ کنزالایمان : اور نیکی اور بدی برابر نہ ہوجائیں گی اے سننے والے برائی کو بھلائی سے ٹال جبھی وہ کہ تجھ میں اور اس میں دشمنی تھی ایسا ہوجائے گا جیسا کہ گہرا دوست ۔ اور یہ دولت نہیں ملتی مگر صابروں کو اور اسے نہیں پاتا مگر بڑے نصیب والا۔
حضرت سَیِّدُنا حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : “ تم ہر ایک کی رائے پر چلنے والے نہ بنو کہ تم یوں کہو کہ اگر لوگ اچھا سلوک کریں گے تو ہم بھی اچھا سلوک کریں گے اور اگر وہ ظلم کریں تو ہم بھی ظلم کریں گے بلکہ اپنے آپ کو اس بات کا عادی بناؤ کہ لوگ اگر اچھائی کریں تو تم بھی اچھائی کرو اور اگر وہ ظلم کریں تو تم پھر بھی ظلم نہ کرو۔ ‘‘([1])
امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنا علی المرتضیٰکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ اس سے رشتہ داری جوڑو جو تم سے توڑ دے اور اس سے اچھا سلوک کرو جو تم سے بُرا سلوک کرے اور حق بات کہو اگرچہ اپنے آپ کے خلاف ہو۔ ‘‘([2])
افسوس!فی زمانہ مسلمانوں کی بھی ایک تعداد اِسلام کی اِس عمدہ و اعلیٰ تعلیم پر عمل سے دور نظر آ رہی ہے اور شاید اسی وجہ سے آج مسلمان بھی بے امنی اور بے سکونی کی بدترین آفت کا شکار ہیں ۔ اگر آج بھی مسلمان اِس تعلیم پر کامل طریقے سے عمل پیرا ہو جائیں تو کوئی بعید نہیں کہ یہ معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بن جائے اور ہر فرد ِبشر چین و سکون سے اپنی زندگی کے دن گزارنے لگے۔ دعا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں برائی کو بھلائی سے ٹالنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
’’صدقہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)رشتہ داری جوڑنے میں کامل وہ ہے جو اسے توڑنے والوں کے ساتھ بھی جوڑے۔
(2)رشتہ داری توڑنے والوں کے ساتھ جوڑنا قیامت کے دن حساب میں آسانی اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے جنت میں داخلے کا سبب اور درجات بلند ہونے کا ذریعہ ہے۔
(3)بُرا سلوک کرنے والوں سے اچھا سلوک کرنے کی تعلیم دین اسلام کا انتہائی شاندار وصف ہے۔
(4)بُرا سلوک کرنے والوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی انتہائی اعلیٰ مثال اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سیرتِ مبارکہ ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں رشتہ داری توڑنے سے بچنے اور اسے توڑنے والوں سے جوڑنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے طفیل لوگوں کے بُرے سلوک سے بچائے اور بُرا سلوک کرنے والوں سے اچھا سلوک کرنے کی سعادت عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 323 عرش کو تھام کررشتے داری کی دعا
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اَلرَّحِمُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ تَقُوْلُ : مَنْ وَصَلَنِيْ وَصَلَهُ اللهُ وَمَنْ قَطَعَنِيْ قَطَعَهُ اللهُ.([3])
ترجمہ : اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے ، رسولِ اَکرم ، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ رشتہ داری عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی کہہ رہی ہے : جو مجھے ملائے رکھے گا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے ملائے گا اور جو مجھے توڑے گا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے توڑ دے گا۔ ‘‘
قرب کا ذریعہ اوررحمت سے دوری کا سبب:
عرش سے مراد یا تو عرش اعظم ہی ہے یا بلند مقام ، پہلا احتمال قوی ہے۔ ([4])نیز رشتہ داری کا کلام کرنا دو معنی کا احتمال رکھتا ہے یا تو یہ بطورِ خبر ہے یا بطورِ دعا۔ پہلی صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ رشتہ داری عرش کو تھامے ہوئے ہے اور خبر دے رہی ہے کہ جو رشتہ داروں کا حق ادا کرے گا وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں قرب پائے گا اور جو ادا نہ کرے گا ، یا ان پر ظلم کرے گا وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے دور ہوجائے گا۔ اور دوسرا معنی یہ ہے کہ رشتہ داری عرش کو تھام کر یہ دعا کر رہی ہے کہ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! جو رشتہ داروں کا حق ادا کرے تو اسے اپنی بارگاہ
[1] ترمذی ، کتاب البر والصلۃ ، باب ما جاء فی الاحسان والعفو ، ۳ / ۴۰۵ ، حدیث : ۲۰۱۴۔
[2] کنز العمال ، کتاب الاخلاق ، صلۃ الرحم والرغیب فیھاوالترھیب عن قطھا ، ۲ / ۱۴۵ ، حدیث : ۶۹۲۶ ، الجزءالثالث ۔
[3] مسلم ، کتاب البر والصلۃوالآداب ، باب صلۃ الرحم وتحریم قطعیتھا ، ص۱۳۸۳ ، حدیث : ۲۵۵۵۔
[4] مرآ ۃ المناجیح ، ۶ / ۵۲۲۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع