30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھلائی کرنے والا صلہ رحمی کرنے والا نہیں بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اُس سے قطع تعلق کیا جائے تو وہ تعلق جوڑے۔ ‘‘
’’صلہ ‘‘کے معنی ہیں : ’’کسی بھی قسم کی بھلائی اور احسان کرنا۔ ‘‘([1]) اور رحم سے مراد قرابت ، رشتہ داری ہے۔ ([2]) بہارشریعت میں ہے : ’’صلہ رحم کے معنی رشتے کو جوڑنا ہے۔ یعنی رشتے والوں کے ساتھ نیکی اور سلوک (یعنی بھلائی) کرنا۔ ‘‘([3])مذکورہ حدیث پاک میں حقیقی صلہ رحمی کرنے والے کے بارے میں بیان کیا گیا ہے کہ کامل صلہ رحمی کرنے والا وہ شخص ہے کہ جو رشتہ داروں کے بُرا سلوک کرنے کے باوجود اُن سے بھلائی کرے۔ مُفَسِّر شہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’جو شخص اپنے عزیزوں سے سلوک کرے مگر بدلہ میں کہ وہ کچھ کریں تو اس کی عوض یہ بھی کرے وہ ناقص ہے ، کامل رشتے جوڑنے والا وہ ہے جو اپنے عزیزوں کی برائی کا بدلہ بھلائی سے کرے کہ وہ اس پر زیادتی کریں تو یہ سلوک کرے ، اس کی تفسیر حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا عمل شریف ہے۔ یوسف عَلَیْہِ السَّلَامنے بھائیوں کے ظلم سہہ کر ان کی پرورش فرمائی ، رب تعالیٰ فرماتا ہے : ) اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَؕ-( (پ۱۸ ، المؤمنون : ۹۶) ترجمۂ کنزالایمان : سب سے اچھی بھلائی سے بُرائی کو دفع کرو۔ غرضیکہ یہ حدیث کمال اخلاق کی تعلیم دے رہی ہے۔ ‘‘([4])
حقیقی صلہ رحمی پربڑے اجر کا وعدہ:
امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’صلہ رحمی یہ نہیں کہ تو اسی سے تعلق جوڑ جو تجھ سے جوڑتا ہے بلکہ یہ تو بدلہ ہے ، صلہ رحمی یہ ہے کہ تو اس سے جوڑ جو تجھ سے قطع تعلق کرتا ہے اور یہی وہ حقیقی صلہ رحمی ہے کہ جس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے بندوں سے بہت بڑے اجر کا وعدہ فرمایا ہے ، اللہ عَزَّوَجَلَّارشادفرماتا ہے : ) وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ ((پ۱۳ ، الرعد : ۲۱) ترجمۂ کنزالایمان : اور وہ کہ جوڑتے ہیں اسے جس کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا۔ ([5])
اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ رشتہ داری جوڑکر رکھنے والوں سے جوڑنا کمال نہیں بلکہ جو رشتہ داری توڑتے ہیں ان سے جوڑنا کمال ہے ، ترغیب کے لیےدو فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ ہوں : (1) “ جس میں تین اوصاف ہوں گے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے آسان حساب لے گا اور اسے اپنی رحمت سے جنت میں داخل کر دے گا (اور وہ اوصاف یہ ہیں کہ) جو تمہیں محروم کرے تم اسے عطا کرو ، جو تم پر ظلم کرے تم اسے معاف کردو اور جو تم سے قطع تعلق کرے تم اس سے تعلق جوڑو۔ ‘‘([6])(2) “ کیا میں اس چیز پر تمہاری رہنمائی نہ کروں جس کے ذریعے اللہ عَزَّوَجَلَّ درجات بلند فرماتا ہے؟‘‘ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نےعرض کی : ’’ جی ہاں ، یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!‘‘ ارشاد فرمایا : “ جو تم سے جاہلانہ سلوک کرے تم اس سے بُردباری کا مظاہرہ کرو ، جو تم پر ظلم کرے تم اسے معاف کردو ، جو تمہیں محروم کرے تم اسے عطا کرو اور جو تم سے رشتہ داری توڑدے تم اس سے جوڑو۔ ([7])
حضرت سیدنا فقیہ ابواللیث سمرقندی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’صلہ رحمی کرنے کے 10 فائدے ہیں : (1) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔ (2) لوگوں کی خوشی کا سبب ہے۔ (3) فرشتوں کو مسرت ہوتی ہے۔ (4) مسلمانوں کی طرف سے اس شخص کی تعریف ہوتی ہے۔ (5) شیطان کو اس سے رنج پہنچتا ہے۔ (6) عمر بڑھتی ہے۔ (7) رزق میں برکت ہوتی ہے۔ (8) فوت ہوجانے والے آباء واجداد (یعنی مسلمان باپ دادا) خوش ہوتے ہیں۔ (9) آپس میں محبت بڑھتی ہے۔ (10) وفات کے بعد اس کے ثواب میں اضافہ ہوجاتا ہے ، کیونکہ جب لوگوں کو اس کا احسان یاد آتا ہے تو لو گ اس کے حق میں دعائے خیر کرتے ہیں۔‘‘([8])
دِین اِسلام کی اعلیٰ اخلاقی تعلیم:
دِینِ اسلام کاایک اعلیٰ امتیازی وصف یہ ہے کہ اس میں اخلاقیات کی بہترین اور عمدہ تعلیمات دی گئی ہیں ، ان میں سے ایک یہ ہے کہ اگر تمہارے ساتھ کوئی برا سلو ک کرے تو اس کے بدلے میں تم بھی اس کے ساتھ برا سلوک نہ کروبلکہ اِس سے اچھا سلوک کرو اور اس کی طرف سے پہنچنے والی برائی کواس کے ساتھ بھلائی کر کے ٹال دو ، یہاں اِس حسین تعلیم کی جھلک ملاحظہ ہو ، چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :
[1] الزواجرعن اقتراف الکبائر ، ۲ / ۱۵۶۔
[2] لسان العرب ، ۱ / ۱۴۷۹۔
[3] بہارشریعت ، ۳ / ۵۵۸ ، حصہ۱۶۔
[4] مرآ ۃ المناجیح ، ۶ / ۵۲۳۔
[5] عمدۃ القاری ، کتاب الادب ، باب لیس الواصل بالمکافی ، ۱۵ / ۱۵۹۔
[6] موسوعۃ ابن ابی دنیا ، مکارم الاخلاق ، ۳ / ۴۳۲ ، حدیث : ۲۱۔
[7] الترغیب والترھیب ، کتاب الحدود وغیرھا ، باب الترغیب فی العفو عن القتال۔ ۔ الخ ، ۳ / ۲۴۵ ، حدیث : ۳۷۶۰۔
[8] تنبیہ الغافلین ، باب صلۃ الرحم ، ص۷۳ ملخصًا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع