30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حددرجہ کی جلدی وکوشش کرنا اور اپنے مال سے ان کاقرض اداہونے کو دونوں جہاں کی سعادت سمجھنا ، آپ قدرت نہ ہو تو اور عزیزوں قریبوں پھر باقی اہل خیر سے اس کی ادامیں امداد لینا۔ (5) ان پرکوئی فرض رہ گیا توبقدرقدرت اس کے ادامیں سعی بجالانا ، حج نہ کیاہوتو ان کی طرف سے حج کرنا یاحج بدل کرانا ، زکوٰۃ یاعشر کامطالبہ ان پر رہا تو اسے اداکرنا ، نمازیا روزہ باقی ہوتو اس کاکفارہ دینا۔ وعلیٰ ہذاالقیاس ہرطرح ان کی براءت ذمہ میں جدوجہد کرنا۔ (6) انہوں نے جو وصیت جائزہ شرعیہ کی ہو حتی الامکان اس کے نفاذ میں سعی کرنا اگرچہ شرعاً اپنے اوپر لازم نہ ہو ، اگرچہ اپنے نفس پربارہو ، مثلاً وہ نصف جائداد کی وصیت اپنے کسی عزیز غیر وارث یا اجنبی محض کے لیے کرگئے توشرعاً تہائی مال سے زیادہ میں بے اجازت وارثان نافذ نہیں مگر اولاد کومناسب ہے کہ ان کی وصیت مانیں اور ان کی خوشخبری پوری کرنے کو اپنی خواہش پر مقدم جانیں۔ (7) ان کی قسم بعدمرگ بھی سچی ہی رکھنا۔ مثلاً ماں باپ نے قسم کھائی تھی کہ میرابیٹا فلاں جگہ نہ جائے گا یافلاں سے نہ ملے گا یافلاں کام کرے گا تو ان کے بعد یہ خیال نہ کرنا کہ اب وہ تو نہیں ان کی قسم کاخیال نہیں بلکہ اس کاویسے ہی پابند رہنا جیساان کی حیات میں رہتا جب تک کوئی حرج شرعی مانع نہ ہو اور کچھ قسم ہی پرموقوف نہیں ہرطرح امورجائزہ میں بعد مرگ بھی ان کی مرضی کا پابند رہنا۔ (8) ہرجمعہ کو ان کی زیارت قبر کے لیے جانا ، وہاں یٰس شریف پڑھنا ایسی آواز سے کہ وہ سنیں اور اس کا ثواب ان کی روح کوپہنچانا ، راہ میں جب کبھی ان کی قبرآئے بے سلام وفاتحہ نہ گزرنا۔ (9) ان کے رشتہ داروں کے ساتھ عمربھر نیک سلوک کئے جانا۔ (10) ان کے دوستوں سے دوستی نباہنا ہمیشہ ان کااعزاز واکرام رکھنا۔ (11)کبھی کسی کے ماں باپ کوبراکہہ کرجواب میں انہیں برانہ کہلوانا۔ (12) سب میں سخت تر وعام تر ومدام تریہ حق ہے کہ کبھی کوئی گناہ کرکے انہیں قبرمیں ایذا نہ پہنچانا ، اس کے سب اعمال کی خبرماں باپ کوپہنچتی ہے ، نیکیاں دیکھتے ہیں توخوش ہوتے ہیں اور ان کاچہرہ فرحت سے چمکتا اوردمکتاہے ، اور گناہ دیکھتے ہیں تو رنجیدہ ہوتے ہیں اور ان کے قلب پرصدمہ ہوتاہے ، ماں باپ کایہ حق نہیں کہ انہیں قبرمیں بھی رنج پہنچائے۔ ‘‘([1])
والدین سے حسن سلوک کرنے کی فضیلت:
حضرت سَیِّدُنا ابوہریر ہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : “ لوگوں کی عورتوں کو پاک دامن رہنے دو تمہاری عورتیں پاک دامن رہیں گی ، اپنے والدین کے ساتھ اچھاسلوک کیا کرو تمہارے بیٹے تمہارے ساتھ اچھا سلوک کریں گے اور جس کے پاس اس کا بھائی معذرت کرنے کے لیے آیا تواسے چاہیے کہ اپنے بھائی کو معاف کردے خواہ وہ جھوٹاہو یا سچا ، جو ایسا نہیں کرے گا وہ حوضِ کوثرپر نہ آسکے گا۔ ‘‘([2])
’’شیرِخدا‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1)اگر جہاد فرض عین نہ ہو اور مسلمان ماں باپ کو خدمت کی حاجت ہو تو جہاد کرنے کے مقابلے میں ان کی خدمت کرنا مقدم ہے اور جہاد پر جانے کے لیے ان کی اجازت حاصل کرنا ضروری ہے۔
(2)فرض جہاد کے لیے والدین سے اجازت لینا بہتر ہے اور اگر وہ اجازت نہ دیں تو بغیر اجازت چلا جائے اور اس موقع پر والدین کو منع کرنے کا اختیار نہیں، منع کریں گے تو گنہگار ہوں گے۔
(3)نفلی عبادات کے لیے جانے سے پہلے والدین سے اجازت لے لے اگر منع کریں تو نہ جائے۔
(4)اجازت لینے کا حکم مؤمن والدین کے بارے میں ہے، کافر والدین سے فرض اور نفل دونوں صورتوں میں اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔
(5)جہاد میں جانے سے اگر والدین کے فوت ہوجانے کا اندیشہ ہو تو نہ جانے کی اجازت ہے۔
(6)جو اپنے ماں باپ سے حسن سلوک کر ے گا اس کی اولاد اس کے ساتھ حسن سلوک کرے گی۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں اپنے والدین کی خدمت اور جائز امور میں ان کی اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 322 صلہ رحمی کیا ہے؟
وَعَنْهُ عَنِِ النَّبِيّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِىءِ وَلٰكِنَّ الوَاصِلَ الَّذِيْ اِذَا قَطَعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا.([3])
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہبن عَمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے ، تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا : “ بدلے کے طورپر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع