دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہمیں بھی اپنی پیاری چیزیں راہ خدا میں خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے عزیز و اقارب پر صدقہ کرکے صلہ رحمی کرنے کی سعادت مرحمت فرمائے۔

          آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                        صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر : 321             والدین کی خدمت بھی جہاد ہے           

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ :  اَقْبَلَ رَجُلٌ اِلیٰ نَبِيِّ اللهِ  صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ :  اُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَالْجِهَادِ اَبْتَغِي الْاَجْرَ  مِنَ اللهِ تَعَالیٰ. قَالَ :  فَهَلْ لَكَ مِنْ وَالِدَيْكَ اَحَدٌ حَيٌّ؟ قَالَ :  نَعَمْ! بَلْ كِلَاهُمَا ،  قَالَ :  فَتَبْتَغِي الْاَجْرَ  مِنَ اللهِ تَعَالىٰ؟ قَالَ :  نَعَمْ! قَالَ :  فَارْجِعْ اِلىٰ وَالِدَيْكَ فَاَحْسِنْ صُحْبَتَهُمَا.([1])وَفِيْ رِوَايَةٍ لَهُمَا : جَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَاْذَنَهُ فيِ الْجِهَادِ فَقَالَ :  اَحَيٌّ وَالِدَاكَ؟ قَالَ :  نَعَمْ! قَالَ :  فَفِيْهِمَا فَجَاهِدْ.([2])

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہبن عَمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں : ’’ایک شخص بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کی : ’’میں ہجرت اور جہاد پر آپ کی بیعت کرتا ہوں اور اللہتعالیٰ سے (اس کے) اجر و ثواب کا طلبگار ہوں۔ ‘‘ ارشاد فرمایا : “ کیا تیرے والدین میں سے کوئی ایک زندہ ہے؟ “ عرض  کی : ’’جی ہاں! بلکہ دونوں زندہ ہیں۔ ‘‘ ارشادفرمایا : “ کیاتو اللہتعالی سے اجر و ثواب کا طلبگار ہے؟ “ عرض کی : ’’جی ہاں۔ ‘‘آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ اپنے والدین کی طرف لوٹ جا اور اُن سے اچھا سلوک کر۔ “ اور بخاری و مسلم کی ایک اورروایت میں ہے  کہ ایک شخص نے بارگاہِ اَقدس میں حاضر ہوکر جہاد کے لیے اجازت طلب کی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ کیا تیرے ماں باپ زندہ ہیں؟ “ عرض کی : ’’جی ہاں۔ ‘‘ ارشاد فرمایا : “ تو تم اُن  کی خدمت کرو یہی تمہارا جہاد ہے ۔ “

نیک اَفعال میں والدین کی اجازت کاحکم:

مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’غالب یہ ہے کہ جس شخص نے جہاد میں شرکت  کی اجازت طلب کی  اس کے ماں باپ کو اس کی خدمت کی حاجت تھی ، وہ اکیلا بیٹا خدمت گار تھا اور جہاد اس وقت فرض عین نہیں بلکہ فرض کفایہ تھا ، ایسی صورت میں ماں باپ کی خدمت جہاد پر مقدم ہے ، اگر یہ دونوں صورتیں نہ ہوں تو جہاد مقدم ہے۔ اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ اگر جہاد فرض عین نہ ہو تو والدین کی اجازت کے بغیر جہاد میں نہیں جانا چاہیے اوراگر جہاد فرض ہو تو ان سے اجازت لینا بہتر ہے  اور اگر وہ اجازت نہ دیں تو بھی چلا جائے کہ اس پر جہاد فرض عین ہے  جس سے منع کرنا والدین کے لیے جائز نہیں  اوراگر وہ منع کریں گے تو گنہگار ہوں گے ، یہ حکم مؤمن والدین کے لیے ہے جبکہ کافر ماں باپ سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں خواہ جہاد فرض ہو یا نفل۔ خیال رہے کہ مسلمان ماں باپ کی اجازت کے بغیرکسی نفلی عبادت کے لیے نہ جائے جیسے نفلی حج ، نفلی عمرہ ، زیارت وغیرہ حتی کہ اگر مسلمان ماں باپ اجازت نہ دیں نفلی روزہ بھی نہ رکھے۔ ‘‘([3])

والدین کی خدمت کرنے کی تاکید:

عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں ماں باپ کی خدمت اور اُن کے ساتھ بھلائی کرنے کی فضیلت پر دلیل ہے اور یہ کہ ماں باپ کی خدمت کرنے کی جہاد سے زیادہ تاکید ہے۔ مسلمان ماں باپ کی اجازت بغیر ایسے جہاد میں جانا جائز نہیں جو فرض کفایہ ہو ، ہاں اگر جہاد فرض ہوتو ان سے اجازت لینا شرط نہیں۔ ‘‘([4])

فرض جہاد کے ساقط ہونےکی صورت:

اگر بالفرض ماں باپ ایسی حالت میں ہیں کہ اِس کے جانے سے اُن کی جان پر بن آئے گی تو پھر اس صورت میں جہاد میں شرکت کرنے کی فرضیت ساقط ہوجائے گی۔ ([5])

فوت شدہ والدین کے اولاد پر12حقوق:

اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اہلسنت ، مُجَدِّدِدِین وملت ، پروانۂ شمع رسالت ، مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن نے  والدین کی وفات کے بعد اولاد پر لاگو ہونے والے بارہ (12) حقوق بیان فرمائے ہیں : ’’(1)سب سے پہلاحق بعدموت ان کے جنازے کی تجہیز ، غسل وکفن ونماز ودفن ہے اور ان کاموں میں سنن ومستحبات کی رعایت جس سے ان کے لیے ہرخوبی وبرکت ورحمت ووسعت کی امیدہو۔ (2) ان کے لیے دعاواستغفار ہمیشہ کرتے رہنا اس سے کبھی غفلت نہ کرنا۔ (3) صدقہ وخیرات واعمال صالحہ کاثواب انہیں پہنچاتے رہنا ، حسب طاقت اس میں کمی نہ کرنا ، اپنی نماز کے ساتھ ان کے لیے بھی نماز پڑھنا ، اپنے روزوں کے ساتھ ان کے واسطے بھی روزے رکھنابلکہ جونیک کام کرے سب کاثواب انہیں اور سب مسلمانوں کوبخش دینا کہ ان سب کو ثواب  پہنچ جائے گا اور اس کے ثواب میں کمی نہ ہوگی بلکہ بہت ترقیاں پائے گا۔ (4) ان پرکوئی قرض کسی کاہو تو اس کے ادا میں



[1]    مسلم ،  کتاب البر والصلۃوالآداب ،  باب برالوالدین وانھما احق بہ ، ص۱۳۸۰ ، حدیث : ۲۵۴۹۔

[2]    بخاری ، کتاب الجھاد والسیر ، باب الجھادباذن الابوین ، ۲ / ۳۱۰ ، حدیث : ۳۰۰۴۔

[3]    مرآۃ المناجیح ، ۵ / ۴۳۰ملخصًا۔

[4]    شرح مسلم للنووی ، کتاب البر والصلۃ والآداب ، باب برالوالدین وانھما احق بہ ، ۸ / ۱۰۴ ، الجزء السادس عشر۔

[5]    رد المحتار ،  کتاب الجھاد ،  مطلب طاعۃ الوالدین فرض عین ،  ۶ / ۱۹۹۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن