دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اعمال کی قبولیت کی بھی خبر ہے اور یہ بھی کہ کس کا کون سا عمل کس درجہ کا قبول ہے ، یہ باغ کیوں قبول نہ ہوتا ، باغ بھی اچھا تھا ، وقف کرنے والےبھی اچھے۔ یعنی صحابی اور جن کے طفیل وقف کیا گیا وہ اچھوں کے شہنشاہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم۔ حضرت ابو طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے صدقے کی تعریف کرنے کے بعد حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا : “ اے ابو طلحہ! میری رائے یہ ہے کہ تم یہ باغ اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کردو۔ “ یعنی اپنے عزیز و اقارب فقراء کو اس کا مصرف بنادو کہ ہمیشہ وہ اس کی آمدنی کھایا کریں تاکہ تمہیں صدقہ کے ساتھ اہل قرابت کے حقوق ادا کرنے کا بھی ثواب ملتا رہے۔ خیال رہے کہ بعض اوقاف وہ ہوتے ہیں جن سے امیروغریب حتی کہ وقف کرنے والا بھی نفع حاصل کرسکتا ہے جیسے کنواں ، مسجد ، قبرستان ، مسافر خانہ۔ ([1])

دُور کےرشتہ داروں پر صدقہ کرنا:

حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کے ارشاد پر عمل کرتے ہوئے حضرت سَیِّدُنَا ابو طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے وہ باغ اپنے رشتہ داروں اور چچازاد بھائیوں میں تقسیم کردیا۔ حضرت سَیِّدُنَا ابو طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نےیہ باغ اپنے چچا زاد بھائی حضرت سَیِّدُنَاحسان بن ثابت اور حضرت سَیِّدُنَا اُبَی بن کَعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو دیا تھا ، حضرت سَیِّدُنَا حسان اور حضرت سَیِّدُنَا ابو طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا نسب تیسری پیڑھی حرام بن عَمرو پر مل جاتا ہےاور حضرت سَیِّدُنَا اُبَی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا چھٹی پیڑھی عَمرو بن مالک بن نجار پر مل جاتا ہے۔ ([2]) عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’اس حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ اپنی پسندیدہ چیز کو خرچ کرنامستحب ہے اور اس کے ساتھ ساتھ صدقات کی کیفیت اور نیکیوں کی صورتوں  وغیرہ کے بارے میں اہل علم و فضل سے مشاورت کرنا مستحب ہے ۔ نیز اس حدیث میں دیگر  بیان کردہ فوائد کے علاوہ  یہ بھی ہے کہ دوسروں کی بنسبت اپنے قریبی رشتہ داروں پر خرچ کرنا افضل ہے جبکہ وہ اَقْرِباء محتاج ہوں ۔ نیز رشتہ دار صلہ رحمی کے زیادہ حق دار ہیں ، اگرچہ دُور ہی کے کیوں نہ ہوں کہ جب سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سَیِّدُنَا ابو طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو رشتہ داروں پر خرچ کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے دور کے رشتہ داروں پر خرچ کیا۔ ‘‘([3]) عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : “ اس حدیث پاک میں اس بات پر دلیل ہے تمام لوگوں سے اپنے رشتہ داروں اور کمزور گھروالوں پر صدقہ کرنا افضل ہےجبکہ وہ نفلی صدقہ ہو۔ “ ([4])

محبوب لونڈی راہِ خدامیں آزادکردی:

 حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ آپ نے ایک نہایت حسین و جمیل باندی خریدی اور آپ اس باندی سے بہت محبت کرتے تھے ، وہ باندی چند دن آپ کے پاس رہی کہ آپ نے اسے آزاد فرمادیا اور ایک شخص سے اس کی شادی کروادی جس سے اس کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا ، حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جب اس بچے سے ملتے تو اسے اپنے آپ سے چمٹا لیتے اور فرماتے : ’’میں تجھ سے تیری ماں کی خوشبو محسوس کرتا ہوں۔ ‘‘ تو آپ سے کسی نے کہاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کو اس لونڈی پر حلال طریقے سے قدرت عطا فرمائی تھی اور آپ اس سے بے حد محبت بھی فرماتے تھے تو پھر آپ نے اسے کیوں چھوڑ دیا؟ سَیِّدُنَا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : کیا تم نے نہیں سنا؟)لَنْ  تَنَالُوا  الْبِرَّ  حَتّٰى  تُنْفِقُوْا  مِمَّا  تُحِبُّوْنَ  ﱟ (  (پ۴ ، آل عمران ، ۹۲) ترجمۂ کنزالایمان : “ تم ہر گز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو۔ “ ([5])

نوٹ : مذکورہ حدیث پاک کی تفصیلی شرح باب نمبر37 ، حدیث نمبر 297کے تحت ملاحظہ کیجئے۔

مدنی گلدستہ

’’صدقات‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور

اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول

   (1)بھلائی تک پہنچنے کا ایک ذریعہ راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز خرچ کرنا بھی ہے۔

   (2)نفلی صدقات پوشیدہ طور پر دینا بہتر ہے البتہ وقف کاہر طرح سے  اعلان کر دینا ضروری ہے تاکہ اس کی حفاظت کی جاسکے۔

   (3)نفلی صدقات عزیز و اَقارب کو دینا افضل ہے، چاہےقرابت داری قریب کی ہو یا دور کی۔

   (4)کوئی بھی نیک کام کرنے سے پہلے علماء اور اہل فضل سے مشاورت کرنا مستحب ہے۔

   (5)صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اپنے صدقات حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دست اقدس سے تقسیم کروایا کرتے تھے تاکہ وہ آپ کے ہاتھ مبارک کی برکت سے قبول ہوجائیں۔

 



[1]    مرآۃ المناجیح ، ۳ / ۱۲۶ملخصًا۔

[2]    نزہۃ القاری ، ۲ / ۹۳۸ملخصًا۔

[3]   شرح مسلم للنووی  ، کتاب   الزکاۃ ،  باب فضل النفقۃ والصدقۃ علی الاقربین والزوج ،  ۴ / ۸۵ ،  ۸۶ ، الجزءالسابع ملخصًا۔

[4]   عمدۃ القاری ،  کتاب الزکاۃ  ،  باب الزکاۃ علی الاقارب ،  ۶ / ۴۶۹ ،  تحت الحدیث : ۱۴۶۱۔

[5]    عمدۃ القاری ،  کتاب الزکاۃ  ،  باب الزکاۃ علی الاقارب ،  ۶ / ۴۶۷ ،  تحت الحدیث : ۱۴۶۱۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن