30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پیش آئیں تب ہی ان سے اچھائی کی جائے بلکہ صلہ رحمی تو یہ ہے کہ اگر وہ سختی اور بے اعتنائی برتیں تو ان کے ساتھ نرمی اور بردباری سے پیش آیا جائے۔ ‘‘([1])
عمرمیں ستر(70)سال کااضافہ ہوگیا:
حضرتِ سیِّدُنا داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی خدمت بابرکت میں ایک خوبرو دولھا زیارت کے لیے حاضر ہوا۔ حضرت سیِّدُنا ملک الموت عَلَیْہِ السَّلَام و ہیں موجود تھے ، آپ نے پوچھا اے داؤد (عَلَیْہِ السَّلَام)! کیا آپ اسے جانتے ہیں؟ فرمایا : “ جی ہاں ، یہ مؤمن نوجوان مجھ سے محبت کرتا ہے ، اس کی آج ہی شادی ہوئی ہے اس نے مجھ سے ملاقات کیے بغیر اپنی دلہن کے پاس جانا گوارا نہ کیا لہٰذا ملنے آیا ہے ۔ ‘‘ حضرتِ سیِّدُنا ملک الموت عَلَیْہِ السَّلَام نے کہا : ’’اے داؤد(عَلَیْہِ السَّلَام)! اس دولھے کی عمر صرف چھ دن باقی رہ گئی ہے۔ ‘‘ یہ سن کر حضرتِ سیِّدُنا داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام رنجیدہ ہو گئے۔ اس واقعہ کو سات ماہ گزر گئے مگر وہ نوجوان فوت نہ ہوا۔ دریں اثنا ملک الموت عَلَیْہِ السَّلَام حاضر ہوئے تو حضرتِ سیِّدُنا داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا : ’’اے ملک الموت! وہ نوجوان توابھی تک زندہ ہے۔ ‘‘ ملکُ الموت عَلَیْہِ السَّلَام نے جواباً عرض کیا : ’’جب میں نے چھ دن کے بعد اُس کی روح قبض کرنی چاہی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا : ’’اے ملکُ الموت! میرے بندے کو چھوڑ دو کیوں کہ جب یہ(حضرت)داؤد (عَلَیْہِ السَّلَام)کے پاس سے ہو کر باہَر نکلا اور اُس نے ایک لاچار فقیر کو پایا تو اس کو اپنی زکوٰۃ دیدی ، اس محتاج نے خوش ہو کر اُس کو درازئ عُمربِالخیر اورجنَّت میں (حضرت)داؤد (عَلَیْہِ السَّلَام) کاپڑوسی بنائے جانے کی دعاء سے نوازا۔ میں نے وہ دُعا قَبول فرما لی اور میں نے اُس کے لیے اُن چھ دن کو ساٹھ سال لکھ دیا اور مزید دس سال بڑھا دیئے اور اس کے لیے جنّت میں (حضرت)داؤد (عَلَیْہِ السَّلَام)کا پڑوس لکھ دیا ہے۔ لہٰذا تم یہ (70سالہ) مدت پوری ہونے سے قبل اس کی روح قبض مت کرنا۔‘‘([2])
’’حطیم‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)صلہ رحمی کی برکت سے رزق اور عمر میں اضافہ ہوتا ہے۔
(2)صلہ رحمی کی برکت سے رشتہ داروں کے مابین الفت و محبت بڑھتی ہے۔
(3)رشتہ دار اگرچہ برا سلوک کریں لیکن ہمیں ہر حال میں ان سے صلہ رحمی کرنی چاہیے۔
(4)قضاءو تقدیر کے مسائل میں زیادہ غور و فکر کر نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یہ ہلاکت کا سبب ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرتے رہنے اور اس کی برکتوں سے فیضیاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے،نیزتقدیر پر کامل ایمان رکھنے اور ا س کے مسائل میں زیادہ غورو فکر کرنے سے محفوظ فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 320 رشتہ داروں پر پسندیدہ باغ کاتصدق
وَعَنْهُ قَالَ : کَانَ اَبُوْ طَلْحَةَ اَكْثَرَ الاَنْصَارِ بِالْمَدِيْنَةِ مَالًا مِنْ نَخْلٍ وَكَانَ اَحَبُّ اَمْوَالِهٖ اِلَيْهِ بَيْرُحَاءَ وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ وَکَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيْهَا طَيِّبٍ فَلَمَّا نَزَلَتْ هذِهِ الآيةُ : )لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ﱟ ( قَامَ اَبُوْ طَلْحَةَ اِلٰى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُوْلَ اللهِ اِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالیٰ یَقُوْلُ : ) لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ﱟ ( وَاِنَّ اَحَبَّ مَالِيْ اِلَيَّ بَيْرُحَاءُ ، وَ اِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلهِ تَعَالىٰ ، اَرْجُوْ بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللهِ تَعَالىٰ ، فَضَعْهَا يَا رَسُوْلَ اللهِ حَيْثُ اَرَاكَ اللهُ ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَخٍ! ذٰلِكَ مَالٌ رَابِحٌ ، ذٰلِكَ مَالٌ رَابِحٌ! وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ وَاِنِّيْ اَرٰى اَنْ تَجْعَلَهَا فيِ الْاَقْرَبِيْنَ ، فَقَالَ اَبُوْ طَلْحَةَ : اَفْعَلُ يَا رَسُوْلَ اللهِ ، فَقَسَّمَهَا اَبُوْ طَلْحَةَ فيِ اَقَارِبِهٖ وبَنِيْ عَمِّهٖ.([3])
ترجمہ : حضرت سَیِّدنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضرت ابوطلحہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مدینہ منورہ میں کھجور کے باغات کے لحاظ سے انصار میں سب سے زیادہ مال دار تھے اور انہیں اپنے اموال میں بَیْرُحَاء نامی باغ یا کنواں بہت پسند تھا اور وہ مسجد نبوی کے سامنے تھا ، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس میں تشریف لے جاتے اور اس کا عمدہ پانی نوش فرمایا کرتے تھے پس جب یہ آیت نازل ہوئی :
لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ﱟ (پ۴ ، آل عمران ، ۹۲)
ترجمۂ کنزالایمان : تم ہر گز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع