30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1)اچھے سلوک کے جواب میں بُرا سلوک کرنے والے رشتہ دار قابل ملامت ہیں اور انہیں اس کے وبال کا سامنا ہو گا۔
(2)رشتہ داروں کی بُرائی کے بدلے ان سے اچھائی کرنا انہیں خود ان کی نظر میں گرا دیتا ہے۔
(3)رشتہ داروں کے بُرے سلوک کے باوجود ان سے اچھا سلوک کرنے کی صورت میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مدد نصیب ہوتی ہے یا محافظ فرشتے کا ساتھ ملتا ہے۔
(4)صلہ رحمی یہ نہیں کہ جو اچھا سلوک کرے صرف اسی کے ساتھ بھلائی کی جائے بلکہ صلہ رحمی تو یہ ہے کہ جو قطع تعلق کرے اس کے ساتھ بھی حسن سلوک کیا جائے۔
(5)بُرا سلوک کرنے والے رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرنا نہیں چھوڑنا چاہیے، اُن کا جیسا عمل ہو ویسا ان کو صلہ ملے گا اور اِس کا جیسا عمل ہو گا ویسا اِس کو صلہ ملے گا۔
(6)قاطعِ رحم رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرنے والے کے لیے جنتی محل کی بشارت ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں رشتہ داروں کے صلہ رحمی کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کی بُرائی کے بدلے بھی ان سے اچھائی کرنے سعادت نصیب فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 319 رزق اورعمر میں کشادگی کا ذریعہ
وَعَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ اَحَبَّ اَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِيْ رِزْقِهٖ ، ويُنْسَاَ لَهُ فِيْ اَثَرِهٖ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ.([1])
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرکار مکہ مکرمہ سردار مدینہ منورہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’جسے یہ پسند ہو کہ اس کے لیے اس کے رزق میں فراخی اور عمر میں وسعت کی جائے تو اسے چاہیے کہ اپنے رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرے۔ ‘‘
رزق اور عمرمیں اِضافے کی صورتیں:
شارحین نے اس کی کئی صورتیں بیان فرمائی ہیں : (1) رزق میں فراخی سے مراد یہ ہے کہ اس میں برکت و وسعت دی جائے اور عمر میں زیادتی سے مراد یہ ہے کہ اس بندے کی عمر میں برکت دی جائے۔ (2)عمر میں زیادتی کا تعلق لوح محفوظ میں لکھی ہوئی اس عمر سے ہے کہ جو فرشتوں کو معلوم ہے۔ مثلاً : فرشتوں کو لوح محفوظ پر یہ دکھایا جاتا ہے کہ اس آدمی کی عمر ساٹھ 60برس ہےلیکن اگر اس نے صلہ رحمی کی تو اس کی عمر میں چالیس40 سال کا اور اضافہ کردیا جائے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کو علم ہوتا ہے کہ یہ صلہ رحمی کرے گا یا نہیں لیکن مخلوق کو معلوم نہیں ہوتا تو جب وہ صلہ رحمی کرتا ہے تو لوح محفوظ میں لکھی ہوئی عمر میں اضافہ کردیا جاتا ہے۔ تو یہ زیادتی مخلوق کے علم کے لحاظ سے ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے علم کے اعتبار سے نہیں۔ ([2])(3)عمر میں زیادتی سے یا تو نیک ذریت مراد ہے جو اس کے لیے دعا کرنے والی اور اس کی نیک نامی کو زندہ رکھنے والی ہے۔ ‘‘ ([3])(4) عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’عمر میں زیادتی کا معنی یہ ہے کہ مرنے کے بعد بھی دنیا میں اس شخص کا ذکر جمیل باقی رہے گا اور لوگوں کی زبانوں پر اس کی تعریف رہے گی تو گویا کہ مرنے کے بعد بھی وہ نہیں مرا ، اب یہ تعریف چاہے اس بنا پر ہو کہ اس نے لوگوں کو ایسا علم پہنچایا جس سے ان کو نفع حاصل ہوا یا اس نے صدقۂ جاریہ کیا ہو یا اپنے پیچھے نیک اولاد چھوڑ گیا ہو۔ ‘‘([4])(5) عَلَّامَہ شِھَابُ الدِّین احمد بِن مُحَمَّد قَسْطَلَّانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : ’’رزق میں فراخی سے مراد اس میں برکت دینا ہے کیونکہ صلہ رحمی ایک صدقہ ہے اور صدقہ مال کو بڑھاتا ہے اور عمر میں اضافے سے مراد یہ ہے کہ کہ بدن میں قوت و طاقت آئے گی ، نیز رزق اور عمر میں اضافے کی یہ صورت بھی ہو سکتی ہے کہ جب بندہ ماں کے پیٹ میں تھا تو اس وقت (اس کی تقدیر میں)یہ لکھ دیاگیاکہ اگر یہ رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرے گا تو اس کا رزق اور عمر اتنی(مثلاً رزق دس کروڑ اور عمرپچاس سال) ہے اور اگر صلہ رحمی نہیں کرے گا تو اتنی(مثلاً رزق ایک کروڑ اور عمربیس سال) ہے۔ ‘‘([5])
علامہ سید محموداحمدرضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ صلہ رحمی کی مختلف صورتیں ہیں : مثلاً ان کو ہدیہ و تحفہ دینا ، ان کی امداد و اعانت کرنا ، ان کے ساتھ لطف و مہربانی سے پیش آنا ، انہیں سلام کرنا ، ان کے ساتھ ملاقات کرنا ، ان کے پاس اٹھنا بیٹھنا ، ان کے ساتھ خط و کتابت رکھنا ، غرضیکہ ہر وہ اچھا فعل جس سے جانبین میں محبت و اُلفت پیدا ہو صلہ رحم ہے۔ بہتر یہ ہے ملاقات میں ناغہ کرے ، ایک دن ملے تو دوسرے دن نہ جائےکہ اس طرح محبت و اُلفت زیادہ ہوتی ہے۔ نیز صلہ رحمی اسی کا نام نہیں کہ جب وہ اچھی طرح
[1] بخاری ، کتاب الادب ، باب من بسط لہ فی الرزق بصلۃ الرحم ، ۴ / ۹۷ ، حدیث : ۵۹۸۶۔
[2] شرح مسلم للنووی ، کتاب البر والصلۃ والآداب ، باب صلۃ الرحم وتحریم قطیعتھا ، ۸ / ۱۱۴ ، الجزء السادس عشرملخصًا۔
[3] اشعۃ اللمعات ، کتاب الآداب ، باب البروالصلۃ ، ۴ / ۱۰۹۔
[4] عمدۃ القاری ، کتاب الادب ، باب من بسط لہ فی الرزق بصلۃ الرحم ، ۱۵ / ۱۵۴ ، تحت الحدیث : ۵۹۸۵۔
[5] ارشاد الساری ، کتاب البیوع ، باب من احب البسط فی الرزق ، ۵ / ۳۳ ، تحت الحدیث : ۲۰۶۷ملخصًا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع