30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مذکورہ حدیث پاک میں اس شخص کی فضیلت بیان کی گئی ہےکہ جو رشتہ داروں کے قطع رحمی کرنے کے باوجود ان سے صلہ رحمی کرے۔ حدیث پاک میں بیان کیا گیا ہے ایک صاحب نے حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کی بارگاہ میں اپنے رشتہ داروں کی شکایت کرتے ہوئے عرض کی : ’’ یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں اپنے رشتہ داروں کے ساتھ ہر طرح سے بھلائی کرتا ہوں ، ان کی جفا کا جواب اپنی وفا سے دیتا ہوں لیکن وہ پھر بھی اپنی رَوِش پر قائم ہیں ، اب آپ ہی ارشاد فرمائیں میں کیا کروں؟ ‘‘یاد رہے کہ یہ کلام دوسروں کی بطور غیبت برائی کرنا یا اپنی اچھائی بیان کرنے کے لیے نہیں ہے بلکہ حضور نبی رحمت شفیع امت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مسئلہ دریافت کرنے کے لیے ہے۔ ‘‘([1])
سرکارِ دوعالَم نورِ مجسم شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس شخص کی شکایت سننے کے بعد ارشاد فرمایا : ’’ اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا تم بیان کررہے ہو۔ یعنی قرابت داروں کی تمہارے ساتھ بد سلوکی کے باوجود تم ان سے حسن سلوک ہی سے پیش آتے ہو تو تم اُن کے منہ میں گرم راکھ بھر رہے ہو۔ اِس جملے کےعَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی نے مختلف معنی بیان کیے ہیں ان میں سے تین یہ ہیں : ’’(1)تیری بھلائی کا بدلہ احسان فراموشی سے دینے کے باوجود بھی اگر وہ تیرا مال لیں تو یہ ان پر حرام ہے اور ان کے پیٹ میں آگ کی مانند ہے۔ (2) تم ان کی برائی کا بدلہ بھلائی سے دینے کی وجہ سے انہیں خود ان کی نظر میں گرا دیتے ہو اور انہیں ذلیل و رسوا کرتے ہو جیساکہ جب کوئی آدمی گرم راکھ منہ میں ڈالے تو اسے خود پر شرمندگی ہوتی ہے۔ (3)تمہارا ان پر احسان کرنا ان کا منہ کالا کرتا ہے جیسے گرم راکھ چہرے کو سیاہ کردیتی ہے۔ ‘‘([2])
رحمت عالم نور مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’تمہارا قطع رحمی کرنے والے رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرنا ان کے منہ میں گرم راکھ بھرنے کی مثل ہے اور جب تک تم اپنے اس حسن سلوک پر قائم رہوگے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے تیرے لیے ان کے خلاف ایک مددگار رہے گا۔ ‘‘مُفَسِّر شہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’یعنی جب تک تیرا یہ حلم اور برائی کی عوض بھلائی ہے ، تب تک اللہتعالیٰ کی طرف سے تجھے مدد پہنچتی رہے گی یا تجھ پر رب کی طرف سے فرشتہ مقرر رہے گا جو تجھے ان کی شر سے بچائے گا اور تیرے عزت و مال میں برکت دے گا۔ ‘‘([3])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث پاک سے ہمیں یہ مدنی ذہن ملتا ہے کہ رشتہ داروں کے ساتھ ہر حال میں بھلائی اور صلہ رحمی کرنی چاہیے اگرچہ ان کی طرف سے بدسلوکی اور قطع رحمی کی جائے کیونکہ صلہ رحمی اسی کانام نہیں کہ جب وہ حسن سلوک کریں تو ہم بھی ان کے ساتھ بھلائی کریں بلکہ یہ تو مکافاۃ یعنی اَدْلَا بَدْلَا ہے کہ اس نے تمہارے پاس کوئی چیز بھیجی تو تم نے بھی اس کے پاس بھیج دی ، وہ تمہارے یہاں آیا تو تم اس کے پاس چلے گئے۔ حقیقتاً صلہ رحمی یہ ہے کہ وہ کاٹے اور تم جوڑو ، وہ تم سے جدا ہونا چاہتا ہے ، بے اعتنائی (لاپرواہی) کرتا ہے اور تم اس کےساتھ قرابت داری کے حقوق کی رعایت کرتے رہو۔ ([4]) اور حدیث پاک میں بھی قطع رحمی کرنے والے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنے کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا ابی بن کَعْب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرکارِ دو جہاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : “ جسے پسند ہوکہ اس کے لیے (جنت میں)محل بنایاجائے اور اس کے درجات بلند کیے جائیں تواسے چاہیے کہ جو اس پر ظلم کرے اسے معاف کردے ، جو اسے محرو م کرے اسے عطا کرے اور جواس سے قطع تعلقی کرے اس کے ساتھ صلہ رحمی کرے۔ “ ([5])
علامہ غلام رسول رضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اس میں اختلاف نہیں کہ صلہ رحمی فی الجملہ واجب ہے اور اس کو قطع کرنا کبیرہ گناہ ہے۔ صلہ رحمی کے کچھ درجات ہیں ، کم ازکم درجہ یہ ہے کہ ناراضگی ترک کردے اور سلام وکلام سے صلہ (یعنی اچھاسلوک) کرے ، قدرت اور حاجت کے اختلاف سے صلہ (یعنی سلوک) کی مختلف حالتیں ہیں ، بعض حال میں صلہ رحمی واجب ہے اور بعض صورت میں مستحب ہے۔ اگر بعض حالت میں صلہ کیا اور پوری طرح نہ کیا تو اس کو قطع رحمی نہیں کہتے۔‘‘([6])
’’جبلِ نور‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع