دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

ترجمۂ کنزالایمان : اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے ہُوں (اُف تک) نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا۔ اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا  نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان  دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن (چھوٹی عمر) میں پالا۔ ‘‘([1])

امام مجاہد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی مذکورہ آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : “ جب والدین تیرے پاس بڑھاپے کو پہنچ جائیں اور (کپڑوں وغیرہ میں ہی) بول و براز کریں تو ان سے گھن نہ کھا اور جب ان سے گندگی دور کر تو “ اُف “ نہ کہہ جیساکہ وہ تجھ سے گندگی دور کرتے ہوئے تکلیف کا اظہار نہ کرتے تھے اس وقت جب کہ  تو بچہ تھا۔ ‘‘([2])

والدین کی خدمت کرنے کی ترغیب:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! والدین بوڑھے ہوں یا جوان ، ہر حال میں ان کی خدمت کرکے اور ان پر اپنا  مال وغیرہ خرچ کر کے ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا چاہیے لیکن بالخصوص بڑھاپے میں انہیں خدمت کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔  مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’خیال رہے کہ بڑھاپے میں طبیعت چڑچڑی ہوجاتی ہے ، غصہ بڑھ جاتا ہے ، اس وقت ان کی سخت بات برداشت کرے ، ان کی سختی کی پرواہ نہ کرے ، وہ وقت تو سنبھالنے کا ہے جس نے وہ وقت سنبھال لیا اس نے کمائی کرلی ، ایسے آڑے وقت میں ان پر دل کھول کر خرچ بھی کرے ، ان کی خدمت بھی کرے ، ان کے لیے دعا بھی کرے۔ بچپن میں یہ مجبور تھا تو ماں باپ نے اسے سنبھالا اور وہ مجبور ہیں تو یہ انہیں سنبھالے ، اللہ (عَزَّ  وَجَلَّ) کی رحمت اسے سنبھالے گی۔ ‘‘([3])

مدنی گلدستہ

’’آب زم زم‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور

اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول

   (1)بڑھاپے اور ضعیفی کے ایام میں والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنا جنت میں داخلے کا سبب ہے اور اس حال میں ان کی نافرمانی کرنا اور ان کے حقوق ادا نہ کرنا  جنت سے محرومی کا ذریعہ ہے۔

   (2)بوڑھے والدین کے ساتھ نیک سلوک نہ کرنے والے کے لیے حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ذلت و خواری کی دعا فرمائی ہے۔

   (3)والدین بوڑھے ہوں یا جوان ہر حال میں ان کی خدمت کرنی چاہیے  البتہ جوانی کے مقابلے بڑھاپے میں وہ خدمت کے زیادہ حق دار ہیں۔

   (4)بوڑھے والدین کی خدمت کرکے ان سے دعائیں لینی چاہئیں کہ بوڑھے کی دعا رب تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول ہوتی ہے۔

   (5)بوڑھے والدین کی سخت باتوں پر بھی صبر کرنا چاہیے اور ان کی سختی کی طرف توجہ نہیں کرنی چاہیے ۔

   (6)جو اپنے بوڑھے والدین کو سنبھالے گا تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رحمت اسے سنبھالے گی۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہمیں والدین  کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے اور خاص طورپر بڑھاپے کی حالت میں ان کی خدمت گزاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

          آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                        صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر : 318    رشتہ داری توڑنے والوں کے ساتھ صلہ رحمی

وَعَنْهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَجُلاً قَالَ :  يَا رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ لِيْ قَرَابَةً اَصِلُهُمْ وَيَقْطَعُوْنِيْ وَاُحْسِنُ اِلَيْهِمْ وَيُسِيْئُوْنَ اِلَيَّ وَاَحْلُمُ عَنْهُمْ وَيَجْهَلُوْنَ عَلَيَّ ،  فَقَالَ :  لَئِنْ كُنْتَ كَمَا قُلْتَ فَكَاَنَّمَا تُسِفُّهُمُ الْمَلَّ وَلَا يَزَالُ مَعَكَ مِنَ اللهِ ظَهِيْرٌ عَلَيْهِمْ مَا دُمْتَ عَلٰى ذٰلِكَ.([4])

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےروایت ہے  کہ ایک شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میرے کچھ قریبی رشتہ دار ہیں ، میں ان سے صلہ رحمی کرتا ہوں اور وہ مجھ سے قطع تعلق کرتے ہیں ، میں ان سے اچھا سلوک کرتا ہوں لیکن وہ مجھ سے بُرا سلوک کرتے ہیں ، میں ان کے ساتھ بُردباری سے پیش آتا ہوں لیکن وہ میرے ساتھ جاہلانہ برتاؤ کرتے ہیں۔ ‘‘ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ارشاد فرمایا : “ اگر ایسا ہی ہے جیسا تونے کہا توتم ان کے منہ میں گرم راکھ ڈال رہے ہو اور جب تک تو اس حالت پر رہے گا تب تکاللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے تیرے لیے ان کے خلاف  ایک مددگار رہے گا۔ “

مسئلہ دریافت کرنے کے لیے دوسروں کا ذکر:

 



[1]    شرح طیبی ، کتاب الآداب ، باب البر والصلۃ ، ۹ / ۱۷۲ ، تحت الحدیث : ۴۹۱۲۔

[2]    تفسیر بغوی ، پ۱۵ ، بنی اسرائیل ، تحت الایۃ : ۲۳ ، ۳ / ۹۲۔

[3]    مرآۃ المناجیح ، ۶ / ۵۱۶ ملتقطًا۔

[4]    مسلم ، کتاب البر والصلۃوالآداب ،  باب صلۃ الرحم وتحریم قطعیتھا ، ص۱۳۸۴ ، حدیث : ۲۵۵۸۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن