دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

مخلوط (یعنی ملے جلے) ہوں گے ، کچھ اچھے ، کچھ بُرے ، کہ نماز بھی پڑھیں گے ، داڑھی بھی منڈائیں گے ، اِنصاف بھی کریں گے ، شراب بھی پئیں گے۔ ‘‘([1])

گناہ وسزاسے بَری ہونے کا طریقہ:

عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’حدیث پاک کامعنیٰ یہ ہے کہ  جس نے محض اپنے دل میں حاکموں کے بُرے کام کو ناپسند کیا ، جبکہ وہ ہاتھ یا زبان سے اس عمل بدکو روکنے کی طاقت نہیں رکھتا تو وہ اس برائی پرملنے والےگناہ اورسزا سےبَری ہوگیا۔ ‘‘مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ ’’جس نے ان کے برے کاموں کوپہچان لیاوہ بَری ہوگیا۔ ‘‘علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اس کا معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’جس نے بغیر کسی شک وشبہ کے حکام کے کسی فعل کابُراہوناجان لیاتو اس کے

لیے گناہ اور سزاسے بَری ہونے کا ایک طریقہ ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ اپنے ہاتھ یا اپنی زبان سے اس برائی کو بدل دے اور اگر وہ اس گناہ کو روکنے سے عاجز ہے تو اسے چاہیے کہ اس فعل کو دل میں برا جانے۔ ‘‘([2])

مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’انکار سے مراد زبان سے انکار کردینا ہے اور بَری ہونے سے مراد نفاق اور مداہنت یعنی پِلپلا پَن ہے ، کَرِہَ سے مراد دل سے ناپسندیدگی ہے ، سلامتی سے مراد گناہ اور وبالِ فسق سے محفوظ رہنا ہے۔ یعنی ایسے بادشاہوں کے بُرے اعمال کو زبان سے برا کہہ دینے والا پختہ مسلمان ہے اور اُن کے اَعمال کو صرف دِل سے بُرا سمجھنے والا ، زبان سے خاموش رہنے والا پہلے کی طرح پختہ تو نہ ہوگا مگر گناہ سے وہ بھی بچ جائےگا۔‘‘([3])

گناہ کو روکنا، حق بات کہنا لازم ہے:

حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابفرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’جس نے اِنکار کیا وہ سلامت رہا ۔ ‘‘یعنی گناہ پر اقرارکرنے کی بناپر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف سے جوعذاب اسے ملنے والاتھا ، وہ اس سےمحفوظ ہوگیااوراس گناہ کودل میں ناپسندکرنے اور اس کی پیروی نہ کرنے کےسبب گناہ سے بری الذمہ ہوگیا۔ نیز اس حدیث پاک میں اس بات پردلیل ہے کہ  گناہ کو روکنااورحق بات کہنالازم ہے۔ ‘‘([4])

گناہ میں اعانت کرنا گناہ ہے:

مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’جو شخص اُن فاسق حکام کے بُرے کاموں سے دل سے راضی ہوا اور عمل میں اُن کے ساتھ شریک ہوگیا کہ وہ بھی اُن کے سے کام کرنے لگا تو وہ بھی گناہ فسق و فجوروبال میں اُن کے ساتھ شریک ہوگیا۔ ‘‘([5])

حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاب فرماتے ہیں : ’’جو شخص حکام کےگناہوں پر رضامند ہواور اپنے قول ، فعل یا پیروی کے ساتھ ان کے  بُرے افعال میں ان کی اعانت کرے یا وہ اس برائی کو روکنے پر قدرت ہونے کے باوجوداسے نہ روکے تو وہ بھی انہیں کی طرح ہے۔ ‘‘([6])

نماز کفر و اسلام میں فارق ہے:

مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانصحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے قول (کیا ہم ان سے جہاد نہ کریں؟) کے تحت فرماتے ہیں : ’’یعنی ان بادشاہوں حاکموں کو ہاتھ سے اور بذریعہ قوت و طاقت گناہوں سے نہ ردکریں جو کہ تبلیغ کی اعلی قسم ہے۔ (توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : نہیں جب تک وہ تم میں نماز ادا کرتے رہیں) نمازی رہنے سے مراد ہے مسلمان رہنا کیونکہ نماز ہی کفرو اسلام میں فارق(یعنی فرق کرنے والی)ہے۔ لہذا یہ مطلب نہیں کہ بے نمازی بادشاہ و حکام کی بغاوت درست ہے ، دوسرے گناہوں کی طرح ترک نماز بھی ایک گناہ ہے۔ قرآن کریم دوزخی کفار کا ایک قول نقل فرماتا ہے جو وہ فرشتوں سے کہیں گے : (لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَۙ(۴۳)) (پ۲۹ ، المدثر : ۴۳) ہم نمازیوں میں سے نہ تھے “ یعنی مسلمان نہ تھے۔ خیال رہےکہ سلطان کی بغاوت بڑے فتنوں ، خون ریزیوں ، ملک کی تباہیوں کا باعث ہے اس لیے بڑے اہتمام کے ساتھ اس سے روکا گیا۔ ‘‘([7])

مدنی گلدستہ

’’تبلیغ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور

اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول

 



[1]   مرآ ۃ المناجیح ، ۵ / ۳۴۴ملتقطاً۔

[2]   شرح مسلم للنووی ، کتاب الامارۃ  ،  باب وجوب الانکار علی الامراء ۔ ۔ ۔ الخ ، ۶ /  ۲۴۳ ،  الجزء الثانی عشر ۔

[3]   مرآۃ المناجیح ، ۵ / ۳۴۴۔

[4]   اکمال المعلم ،  کتاب الامارۃ  ،  باب وجوب الانکار علی الامراء ۔ ۔ ۔ الخ ، ۶ /  ۲۶۴ ، تحت الحدیث : ۱۸۵۴۔

[5]   مرآ ۃ المناجیح ، ۵ / ۳۴۴۔

[6]   اکمال المعلم ،  کتاب الامارۃ  ،  باب وجوب الانکار علی الامراء ۔ ۔ ۔ الخ ، ۶ /  ۲۶۴ ، تحت الحدیث : ۱۸۵۴۔

[7]   مرآۃ المناجیح ، ۵ / ۳۴۴۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن