دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

چاہیےکہ حدیث پاک میں تین مرتبہ ماں کا ذکر ہوا اور چوتھی بار باپ کا۔ حضرتِ سَیِّدُنا حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھاگیا کہ والدین کے ساتھ اچھائی کس طرح کی جائے؟ فرمایا : تمہاری ملکیت میں جو کچھ  ہے اسے والدین پر خرچ کرو اور معصیت کے علاوہ ہر بات میں ان کی اطاعت کرو۔ ‘‘([1])

خدمت گزار بیٹا:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث پاک کی شرح سے واضح ہوتا ہے کہ ماں اپنی اولاد کی خاطر کس قدر مصائب و آلام برداشت کرتی ہے اور کتنی محنت ومشقت سے اسے پال پوس کر بڑا کرتی ہے۔ اسی بنا پر اسلام نے ماں کو بہت بلند و بالا مقام و مرتبہ عطا کیا ہے اور مسلمانوں کو اس مقدس ہستی کی خدمت گزاری کا بڑی سختی سے پابند کیا ہے۔ لہٰذا ہر ایک پر لازم ہے کہ وہ اس اہم فریضہ کو سرانجام دینے کی بھرپور کوشش کرے اور دو جہاں کی سعادت مندی کا حقدار بنے۔ اسی ضمن میں ماں کے خدمت گزار سعادت مند بیتے کی ایک ایمان افروز حکایت پیش خدمت ہے۔ چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا با يزيد بسطامی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ سخت سردی کی ايک رات میں ميری والدہ نے مجھ سے پانی مانگا ، میں آبخورہ (گلاس) بھر کر لے آیامگر ماں کو نیند آگئی تھی ، میں نے جگانا مناسب نہ سمجھا ، پانی کا آبخورہ ليے اس انتظار میں ماں کے قریب کھڑا رہا کہ بیدار ہوں تو پانی پیش کروں۔ کھڑے کھڑے کافی دیر ہو چکی تھی اور آبخورے سے کچھ پانی بہ کر گر گیا تھااور سخت سردی کی وجہ سے میری انگلی پر برف بن کر جم گیا تھا بہرحال جب والدہ محترمہ بیدار ہوئیں تو میں نے آبخورہ پیش کیا ، چونکہ انگلی پر برف جم جانے کی وجہ سے وہ چپک گیا تھا لہٰذا برف سے چپکی ہوئی انگلی جوں ہی آبخورے (گلاس) سے جدا ہوئی اس کی کھال ادھڑ گئی اور خون بہنے لگا ،  ماں نے دیکھ کر پوچھا یہ کیا ؟ میں نے سارا حال بیان کیا تو انہوں نے بارگاہ خداوندی میں دعا کے ليے ہاتھ اٹھا ديے اور عرض کیا : ’’ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! میں اس سے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی رہنا۔ ‘‘([2])

ترتیب وار حقوق کی ادائیگی:

آخری حدیث کے آخر میں فرمایا : ’’پھر تمہارا قریبی ، پھر تمہارا قریبی۔ ‘‘مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ظاہر یہ ہے کہ قرابت داروں سے مراد نسبی قرابت دار ہیں ان میں جتنا قرب زیادہ اتنا حق زیادہ۔ چنانچہ پہلے بھائی بہن پھر ماموں چچا وغیرہ ۔ اور ہوسکتا ہے کہ قرابت دار عام مراد ہوں جن میں ساس ، سالا ، رضاعی ماں وغیرہ سب شامل ہوں۔ ([3])

صلہ رحمی کےمستحق افرادکی ترتیب:

عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی انسان کے حسن سلوک کے سب سے زیادہ مستحق افراد کی ترتیب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’حسن سلوک کی سب سے زیادہ حقدار ماں ہے ، پھر باپ ، پھر اولاد پھر دادا اور دادی ، پھر بہن اور بھائی ، پھر تمام ذی رحم محارم یعنی چچا ، پھوپھی ، ماموں اور خالہ۔ اور جس سے جتنا قریبی تعلق ہے اسے دوسرو ں پر مقدم کرے گا ، اور وہ قرابت دار جن کا تعلق ماں اور باپ دونوں کے ساتھ ہے ، اسے اس قرابت دار پر ترجیح دیں گے جس کا تعلق ماں یا باپ میں سے کسی ایک کے ساتھ ہے۔ پھر اس کے بعد چچا ، پھوپھی ، ماموں اور خالہ کی اولاد ، پھر اس کے بعد ان قرابت داروں کا حق ہے کہ جن سے حُرمتِ مُصاہرت (یعنی سُسرالی رشتہ داری) کی وجہ سے تعلق ہے۔ پھر درجہ بدرجہ غلام یا دوست کا حق ہے پھر پڑوسی کا حق ہے۔ لیکن دور کے رہنے والے رشتہ دار کو پڑوسی پر ترجیح دیں گے اور اگر قریبی رشتہ دار دوسرے شہر میں رہتا ہو تو اسے بھی اجنبی پڑوسی پر مقدم کریں گے اور پھر شوہر بیوی کے اور بیوی شوہر کے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرے۔ ‘‘([4])

مدنی گلدستہ

’’والدین‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور

اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول

   (1)ماں اور باپ دونوں کا حق  اولاد پر انتہائی عظیم ہے البتہ ماں کا حق باپ سے تین گنازیادہ ہے۔

   (2)ماں کا حق زیادہ ہونے کا ایک سبب یہ ہے کہ اس نے بچے کے حمل ،ولادت وغیرہ کے سلسلے میں  دوبرس تک انتہائی سختیاں اور تکلیفیں برداشت کی ہیں ۔

   (3)ماں کا حق زیادہ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ  خدمت کرنے اور دینے  میں ماں کو باپ پر ترجیح دی جائے، کہ کوئی چیز دونوں کو دینی ہو تو پہلے ماں کو دے، یہ معنی نہیں کہ ماں باپ میں جھگڑا ہو تو  ماں کی طرف داری میں باپ کو اذیت و  تکلیف دینا شروع کر دے، البتہ تعظیم میں باپ مقدم ہے ۔

   (4)والد کو اذیت دینا،اس پر سختی کرنا اور اس  سے بے ادبی والے انداز میں بات کرنا حرام ہے ۔

   (5)اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں کی جا سکتی اگرچہ والدین ہی کیوں نہ ہوں۔

 



[1]    عمدۃ القاری ، کتاب الادب ، باب من احق الناس بحسن الصحبۃ ، ۱۵ / ۱۴۲ ، تحت الحدیث : ۵۹۷۱ملتقطا۔

[2]   نزھۃ المجالس ،  باب بر الوالدين ، ۱ / ۲۶۱ ملخصًا۔

[3]    مرآۃ المناجیح ، ۶ / ۵۲۸۔

[4]    شرح مسلم للنووی ، کتاب البر والصلۃ والآداب ، باب برالوالدین وانھما احق بہ ، ۸ / ۱۰۳ ، الجزء السادس عشر۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن