30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گزاریئے۔ آپ کی ترغیب وتحریص کے لئے ایک مَدَنی بہار پیش کرتا ہوں ، چنانچِہ بابُ المدینہ(کراچی)کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ طویل عرصے سے میری زوجہ اور والِدہ یعنی ساس بَہُو میں خُوب ٹھنی ہوئی تھی ، نتیجۃً زوجہ رُوٹھ کر مَیکے جابیٹھی۔ میں سخت پریشان تھا ، سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اِس مَسئلےکو کیسے حل کروں۔ اَیسے میں دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی جاری کردہ ’’مَدَنی مُذاکرے ‘‘کی VCD’’گھر اَمن کا گہوارہ کیسے بنے!‘‘ میرے ہاتھ آئی۔ موضوع دیکھا تو بڑی اُمّید کے ساتھ یہ VCD خُود بھی دیکھی اوراپنی والِدۂ محترمہ کو بھی دِکھائی اورایک VCDاپنے سسرال بھی بھیج دی۔ میری والِدہ کو یہ VCDاتنی پسند آئی کہ اُنہوں نے اِسے دوبار دیکھا اور حیرت انگیز طور پر مجھ سے فرمانے لگیں : ’’چل بیٹا! تیرے سسرال چلتے ہیں۔ ‘‘میں نے سُکون کا سانس لیا کہ لگتا ہے جو کام میں بھر پور اِنفرادی کوشش کے باوُجود نہ کرسکا وہ اس VCDنے کردیا۔ میرے سسرال پہنچ کر والِدہ صاحِبہ نے بڑ ی مَحَبَّت سے میری زَوجہ کو منایا اور اُسے واپَس گھر لے آئیں۔ دوسری جانب میری زَوجہ نے بھی مُثبت طرزِ عمل کا مُظاہَرہ کیا اور گھر پہنچنے کے بعد دوسرے ہی دن اپنی ساس(یعنی میری والِدہ)سے کہنے لگیں : امّی جان !میرا کمرہ بَہُت بڑا ہے ، جبکہ دیگر گھر والے جس کمرے میں رہتے ہیں وہ قدرے چھوٹا ہے ، آپ میرا کمرہ لے لیجئے اور میں اُس چھوٹے کمرے میں رِہائش اختیار کر لیتی ہوں۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ ہمارا گھر جو فتنے اور فساد کا شکار تھا ، دعوتِ اسلامی کی بَرَکت سے امن کا گہوارہ بن گیا۔
’’اسلام ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے ایسے الفاظ استعمال کرنا منع ہے جو ا س کی شان کے لائق نہیں ۔
(2)رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے والوں پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنا رحم وکرم فرمائے گا اور ادا نہ کرنے والے اس کی رحمت سے محروم ہوسکتے ہیں۔
(3)قطع رحمی میں کوئی بھلائی اور کوئی خیر نہیں، قاطع رحم کے بار ے میں احادیث میں بہت سی وعیدیں بیان فرمائی گئی ہیں، لہذا قطع رحمی کو ترک کرکے صلہ رحمی کو اپنانا چاہیے۔
(4)صلہ رحمی کرنے سے مزید نیک کام کرنے کی توفیق ملتی ہے۔
(5)فساد پھیلانے والے اورشتہ داری توڑنے والوں پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے لعنت فرمائی ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ ہمیں رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنی رحمتوں سے خاص حصہ عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 316 اچھے سلوک کا زیادہ حق دار کون؟
وَعَنْهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ اِلٰى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُوْلَ اللهِ مَنْ اَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِيْ؟ قَالَ: اُمُّكَ ، قَالَ : ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ : اُمُّكَ ، قَالَ : ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ : اُمُّكَ ، قَالَ : ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ : اَبُوْكَ.([1])وَفِيْ رِوَايَةٍ : يَارَسُوْلَ اللهِ مَنْ اَحَقُّ بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ؟ قَالَ : اُمُّكَ ثُمَّ اُمُّكَ ثُمَّ اُمُّكَ ، ثُمَّ اَبَاكَ ، ثُمَّ اَدْنَاكَ اَدْنَاكَ. ([2])
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےروایت ہے کہ ایک شخص نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! لوگوں میں میرے اچھے برتاؤ کا زیادہ حق دار کون ہے؟‘‘ ارشاد فرمایا : ’’تمہاری ماں۔ ‘‘ اس نےعرض کی : ’’ پھر کون؟‘‘ ارشاد فرمایا : ’’تمہاری ماں۔ ‘‘ اس نے عرض کی : ’’پھر کون؟‘‘ارشادفرمایا : ’’تمہاری ماں۔ ‘‘ اس نے عرض کی : ’’پھر کون؟‘‘ ارشادفرمایا : ’’تمہارا باپ۔ ‘‘اور ایک روایت میں یوں ہے : (اس شخص نے عرض کی ) ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! لوگوں میں میرے اچھے سلوک کا زیادہ حق دار کون ہے؟‘‘ ارشاد فرمایا : “ تمہاری ماں ، پھر تمہاری ماں ، پھر تمہاری ماں ، پھر تمہارا باپ ، پھر تمہارا قریبی ، پھر تمہارا قریبی۔ “
مذکورہ حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ ماں کا حق باپ سے تین گنا زیادہ ہے۔ اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : ’’اولاد پرماں باپ کاحق نہایت عظیم ہے او رماں کاحق اس سے اعظم ، قَالَ اﷲ تَعَالٰی(اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : )
وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ اِحْسٰنًاؕ-حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًاؕ-وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًاؕ- (پ۲۶ ، الاحقاف : ۱۵)
اور ہم نے تاکید کی آدمی کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کی ، اسے پیٹ میں رکھے رہی اس کی ماں تکلیف سے ، اور اسے جنا تکلیف سے اور اس کا پیٹ میں رہنا اور دودھ چُھٹنا تیس مہینے میں ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع