30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(4)جان بوجھ کر قطع رحمی کو جائز اور حلال سمجھنا کفر ہے، اور کافر کبھی بھی جنت میں نہیں جائے گا، البتہ اگر کوئی مؤمن قاطع رحم ہو تو وہ بالآخر جنت میں جائے گا۔
(5)ہمیشہ ایسی بات کرنی چاہیے کہ جو ثواب کا باعث ہو اور ایسی گفتگو سے اجتناب کرناچاہیے کہ جو گناہ کا سبب بنے۔ نیز مباح کلام کرنے سے بھی حتی الامکان گریز کرنا مناسب ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں مہمان نوازی کرنے ، صلہ رحمی کرنے اور ہمیشہ اچھی بات کہنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں رشتہ داری توڑنے اور بُری بات کہنے سے محفوظ و مامون فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 315 رشتہ داری کو عطاکیا جانے والا شرف
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ اللهَ تَعَالیٰ خَلَقَ الْخَلْقَ حَتّٰى اِذَا فَرَغَ مِنْهُمْ قَامَتِ الرَّحِمُ فَقَالَتْ : هَذَا مَقَامُ الْعَائِذِ بِكَ مِنَ القَطِيْعَةِ ، قَالَ : نَعَمْ اَمَا تَرْضَيْنَ اَنْ اَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ ، وَاَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ؟ قَالَتْ: بَلٰى ، قَالَ : فَذٰلِكَ لَكِ ، ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اِقْرَؤُوْا اِنْ شِئْتُمْ : (فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ(۲۲) اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ(۲۳)).([1])
وَفِيْ رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيْ : فَقَالَ اللهُ تَعَالَى : مَنْ وَصَلَكِ وَصَلْتُهُ وَمَنْ قَطَعَكِ قَطَعْتُهُ.([2])
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےروایت ہے ، حضور نبی کریم رَ ؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مخلوق کو پیدا فرمایا حتی کہ جب وہ ان سے فارغ ہوگیا (یعنی ان کی تخلیق مکمل فرمادی) تو رحم نے کھڑے ہو کر عرض کی : ’’یہ قطع رحم سے پناہ مانگنے والے کا مقام ہے۔ ‘‘ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا : “ ہاں ، کیا تواس بات پر راضی نہیں کہ جو تجھے جوڑے میں اس سے تعلق جوڑ وں اور جو تجھے توڑے میں اس سے تعلق توڑ دوں۔ ‘‘ رحم نے عرض کی : ’’ کیوں نہیں۔ ‘‘ ارشاد فرمایا : ’’یہ شرف تجھے دے دیا۔ ‘‘پھر رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو :
فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ(۲۲) اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ(۲۳) (پ۲۶ ، محمد : ۲۳ ، ۲۲)
ترجمۂ کنزالایمان : تو کیا تمہارے یہ لچھن (انداز) نظر آتے ہیں کہ اگر تمہیں حکومت ملے تو زمین میں فساد پھیلاؤ اور اپنے رشتے کاٹ دو۔ یہ ہیں وہ لوگ جن پر اللہ نے لعنت کی اور انہیں حق سے بہرا کردیا اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں ۔ ‘‘
بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے : (جب رشتہ داری نے عرض کی )تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا : “ جو تجھے جوڑے گا میں اس سے تعلق جوڑوں گا اور جو تجھے توڑے گا میں اس سے تعلق توڑلوں گا ۔ “
اللہ عَزَّوَجَلَّ فراغت سے پاک ہے:
مذکورہ حدیث پاک میں صلہ رحمی کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جب مخلوق کو پیدا کیا یعنی تمام مخلوقات کو پیدا کیا یا مکلفین کو پیدا کیا حتی کہ جب وہ انہیں تخلیق فرماکر فارغ ہو گیا یعنی ان کی تخلیق مکمل فرمادی۔ یاد رہے کہ اللہتعالیٰ کے لیے لفظ “ فارغ “ کا استعمال نہیں کر سکتے کیونکہ اللہتعالیٰ مصروفیت و فراغت کے وصف سے پاک ہے اور قرآن وحدیث میں جہاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لیے یہ لفظ استعمال ہوا ہے وہاں اس کے حقیقی معنی نہیں بلکہ مجازی معنی مراد ہیں ، جیسے اسی حدیث ِ پاک میں مذکور لفظ “ فَرَغَ “ سے متعلق عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’اس سے تخلیق کو پورا اور مکمل کرنا وغیرہ مجازی معنی مراد ہیں کیونکہاللہ عَزَّوَجَلَّ کو ایک کام میں مشغولیت دوسرے کام سے مانع نہیں (فراغت مشغولیت کے بعد ہوتی ہے اور)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو کوئی چیز مشغول نہیں کر سکتی۔ (وہ اس سے پاک اور بلند و بالا ہے) تو جب اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مخلوقات کو تخلیق فرمادیا تو رحم یعنی رشتہ داری نے کھڑے ہوکر عرض کی۔ ہوسکتا ہے کہ رحم نے آسمانوں اور زمینوں کی تخلیق کے بعد یا بنی آدم کی ارواح کے پیدا ہونے کے بعد یہ کلام کیا ہو۔ نیز حدیث پاک میں جو رحم کے کلام کرنے کا فرمایا گیا ہے تو ممکن ہے کہ رحم نے زبانِ حال سے یہ کلام کیا ہو یا زبان قال سے یہ کلام کیا ہو یا اللہ عَزَّوَجَلَّ نے کلام کے وقت اس میں حیات اور عقل کو پیدا فرمادیا ہو۔ ‘‘([3])
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’رحم سے مراد رحمی رشتہ داری ہے ، اُس عالم میں ہر چیز کی شکل ہے۔ لہٰذا یہ رشتہ داری
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع