30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے : ’’رشتہ کاٹنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔ ‘‘([1])عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی اس حدیث پاک کے تحت علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے حوالے سےفرماتے ہیں : ’’یاتو اسے اس شخص پر محمول کیا جائے گا جو بغیر کسی سبب اور بغیر کسی شبہے اور قطع رحمی کے حرام ہونے کے علم کے باوجود اسے حلال اور جائز سمجھتا ہو۔ (یقینا ً ایسا شخص کافر ہے اورکافر ہمیشہ جہنم میں رہے گا جنت میں نہیں جائے گا۔ اور اگر حدیث میں مؤمن قاطع رحم کے داخلے کی ممانعت ہے تو) مراد یہ ہے کہ (وہ مؤمن) پہلے جانے والوں کے ساتھ جنت میں نہیں جائے گا (بعد میں جائے گا) ، یا یہ مرا دہے کہ عذاب سے نجات پانے والوں کے ساتھ نہیں جائے گا۔ ‘‘([2]) (بلکہ سزا پانے کے بعد جنت میں جائے گا۔ )
’’تم میرے بھائی نہیں ہو‘‘کہنا کیسا؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! قطع رحمی کی وبا ہمارے معاشرے میں بہت عام ہوچکی ہے ، چھوٹی چھوٹی باتوں پر بہن بھائی ایک دوسرے سے ، ماں باپ اپنی اولاد سے اور لوگ اپنے رشتہ داروں سے بلاوجہِ شرعی قطع تعلقی کرلیتے ہیں: (1)’’آج کے بعد تم سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ ‘‘(2) ’’آج کے بعد تمہارا اور میرا کوئی رشتہ نہیں۔ ‘‘ (3) ’’آج سے تمہارا اور میرا رشتہ ختم۔ ‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کے جملے بولنا ہمارے معاشرے میں بالکل عام ہوچکا ہے ، اس بات کی ذرہ سی بھی پرواہ نہیں کی جاتی کہ یہ کتنے سخت جملے ہیں ، ان جملوں پر ہماری پکڑ بھی ہوسکتی ہے۔ چنانچہ فتاوی رضویہ ، ج۱۳ ، صفحہ۶۴۷پر ہے : ’’اگر زید اپنے حقیقی بھائی بکرکو کسی سازش سے ایک مجلس میں بآواز کلمہ طیبہ پڑھ کر کہے کہ تم میرے بھائی نہیں ہو ، ایسی صورت میں زید پربموجبِ شرع شریف کچھ کفارہ لازم ہے اگر ہے تو کیا وکس قدر؟‘‘جواب : ’’اگر اس کے بھائی نے اس کے ساتھ کوئی معاملہ خلافِ اخوت کیا جو بھائی بھائی سے نہیں کرتا تو اس پر اس کہنے میں الزام نہیں کہ اس نفی (انکار)سے نفیِ حقیقت مراد نہیں ہوتی بلکہ نفی ثمرہ(ہے یعنی بھائی جیسا سلوک نہیں کیا) اور اگر ایسا نہیں بلکہ بلاوجہ شرعی یوں کہاتوتین کبیروں کا مرتکب ہوا : (1) کذبِ صریح (یعنی کھلا جھوٹ)(2)وقطع رحم (یعنی رشتہ کاٹنا) وایذائے مسلم(یعنی مسلمان کو تکلیف دینا) ، اس پر توبہ فرض ہے اور بھائی سے معافی مانگنی لازم۔ ‘‘
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!رشتہ داروں سے ہمیشہ اپنی استطاعت کے مطابق صلہ رحمی کرتے رہنا چاہیے کہ اس سے نیکیوں میں اضافہ ہوتا ہے اور رِزق میں وُسعت ہوتی ہے۔ چنانچہ کہا گیا ہے کہ جس شخص میں یہ پانچ عادتیں ہوں ، اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے بلند و بالا پہاڑوں جیسی نیکیاں عطا فرماتا اور اس کے رزق میں وسعت پیدا کردیتا ہے : (1) ہمیشہ صدقہ کرتے رہنا خواہ کم ہو یا زیادہ۔ (2)صلہ رحمی کرنا خواہ کم ہو یا زیادہ۔ (3) ہمیشہ جہاد کرتے رہنا۔ (4)پانی کے اِسراف کے بغیر ہمیشہ باوضو رہنا۔ (5)ہمیشہ والدین کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا۔ ‘‘([3])
حدیث پاک میں کامل مؤمن کی تیسری خصلت یہ بیان کی گئی کہ وہ اچھی بات کہے یا پھر خاموش رہے ، اچھی بات کرنے سے مراد ایسا کلام کرنا ہے جس پر ثواب دیا جائے خواہ وہ بات واجب ہو یا فرض یا سنت یا مستحب اور بُری بات سے مراد ایسا کلام ہے جو حرام یا مکروہ ہو۔ صوفیاء فرماتے ہیں کہ مباح بات بھی زیادہ نہ کرے تاکہ ناجائز بات میں نہ پھنس جائے۔ تجربہ ہے کہ زیادہ بولنے سے اکثر ناجائز باتیں منہ سے نکل جاتی ہیں۔ مشہور مقولہ ہے کہ جو خاموش رہا وہ سلامت رہا ، جو سلامت رہا وہ نجات پا گیا۔ پچانوے 95 فیصد گناہ زبان سے ہی ہوتے ہیں اور پانچ 5فیصد دوسرے اعضاء سے۔ خیال رہے کہ بات ہی ایمان ہے ، بات ہی کفر ، بات ہی مقبول ہے ، بات ہی مردود۔ ([4])
’’ایمان‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)مہمان کی خاطر تواضع کرنا، رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرنا اور اچھی بات کرنا یاپھر خاموش رہنا کامل ایمان کی علامت ہے۔
(2)رشتہ داری توڑنا گویا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور یوم آخرت پر کامل ایمان نہ رکھنا ہے ۔
(3)رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرنا واجب اور قطع رحمی کرنا کبیرہ گناہ ہے نیز شرعی وجوہات کے بغیررشتہ داری توڑنا اس بات کی علامت ہے کہ توڑنے والا قطع رحمی کی سزا سے بے خوف ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع