دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

   (1)والد کے احسانات کا بدلہ دینا اور ان کے حقوق کو کما حقہ ادا کرنا نتہائی مشکل ہے۔

   (2)اگر بیٹا اپنے باپ کو کسی کا غلام پائے اور وہ اسے مالک سے خرید لے توباپ اسی وقت آزاد ہو جائے گا۔

   (3)بیٹا اپنے باپ کا مالک نہیں بن سکتا۔

دعا ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہمیں اپنے والد کے احسانات یاد رکھنے  اور ان کی بھرپور خدمت کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔       آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                             صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر : 314                               صلہ رحمی کمالِ ایمان کی علامت 

وَعَنْهُ اَيْضًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ  صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ :  مَنْ كَانَ يُوْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ،  وَمَنْ كَانَ يُوْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ ،  وَمَنْ كَانَ يُوْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا اَوْ لِيَصْمُتْ. ([1])

ترجمہ : حضرت سَیِّدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ہی روایت ہے کہ حضور نبی کریم ، رَ ؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’جو شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ  مہمان کی تعظیم کرے ، جو شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ اوریومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ  اپنے رشتہ دار سے صلہ رحمی کرے ، جو شخص  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اورقیامت پر ایمان رکھتا ہے تو وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔ ‘‘

مہمان کی خاطرتواضع کرنا:

مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ ایمان مسلمان سے تین چیزوں کا تقاضا کرتا ہے کہ مسلمان : (1) مہمان کی عزت کرے (2) رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرے (3) اچھی بات کہے یا پھر خاموش رہے۔ جو شخص ان تین باتوں پر عمل نہیں کرتا گویا اس کا ایمان کامل نہیں۔

محرم اور ذی رحم میں فرق:

حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھنے والا رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرے ۔ ‘‘یعنی اپنے ذی رحم قرابتداروں کے حقوق ادا کرے۔ ذی رحم وہ عزیز ہے جس کا رشتہ ہم سے نسبی ہو۔ محرم وہ ہے جس سے نکا ح کرنا حرام ہو ، لہذا داماد محرم ہے ذی رحم نہیں اور چچا زاد بھائی ذی رحم ہے محرم نہیں اور سگا بھائی بھتیجا ذی رحم بھی ہے اور محرم بھی ، یہاں ذی رحم عزیز مراد ہیں خواہ محرم ہوں یا نہ ہوں اگرچہ ساس ، سسر ، بیوی کے حقوق بھی ادا کرنا ضروری ہے مگر اِن کو صلہ رحمی نہیں کہتے۔ ([2])

قَاضِی عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابفرماتے ہیں : ’’فی الجملہ صلہ رحمی کرنا واجب ہے اور  قطع رحمی کرنا گناہ کبیرہ ہے اور کثیر احادیث اس کے کبیرہ ہونے پر شاہد ہیں۔ البتہ صلہ رحمی کے درجات ہیں جو ایک دوسرے سے ادنیٰ و اعلیٰ ہیں۔ صلہ رحمی کا سب سے ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ دوری ختم کی جائے اور تعلق قائم کیا جائے خواہ کلام و سلام کے ذریعے ہو۔ اور قدرت و حاجت کے مختلف ہونے کے ساتھ تعلق قائم کرنے کے بھی مختلف درجات ہیں اور ان درجات میں سے کچھ واجب ہیں اور کچھ مستحب۔ اگر کسی شخص نے رشتہ داروں سے تھوڑا بہت تعلق رکھا اور کامل طورپر صلہ رحمی نہ کی تو وہ قطع تعلق کرنے والا نہیں اور اگر کسی شخص نے قدرت ہونے کے باوجود رشتہ داروں سے تعلقات رکھنے میں کمی کی تو وہ صلہ رحمی کرنے والوں میں شمار نہ ہوگا۔ ‘‘([3])

رشتہ داری توڑنے والا سزا سے بے خوف ہے:

جو اللہ عَزَّوَجَلَّ اور آخرت پر یقین رکھتا ہے وہ رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرے۔ عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’حضور نبی رحمت شفیع امت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس فرمان عالیشان میں اس  بات کی طرف اشارہ ہے کہ  رشتہ داری توڑنے والا گویا اللہ عَزَّوَجَلَّ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتا کیونکہ اسے رشتہ داری توڑنے پر ملنے والی شدید سزا کا خوف نہیں۔‘‘ ([4])(جبھی تو وہ اسے توڑ ررہا ہے۔ )

عمداًقطع رحمی کو حلال اورجائز سمجھنا کفر ہے:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!عمداً یعنی جان بوجھ کر قطع رحمی کو جائز سمجھنا کفر ہے۔ شیخ طریقت ، امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی مایہ ناز تصنیف ’’کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب‘‘ صفحہ۳۸۸ پر فرماتے ہیں : ’’کسی بھی صغیرہ یا کبیرہ گناہوں کو حلال سمجھنا کفر ہے جبکہ اس کا گناہ ہونا دلیلِ قطعی سے ثابت ہو ، اسی طرح گناہ کو ہلکا جاننا بھی کفر ہے۔ ‘‘



[1]    بخاری ، کتاب الادب ، باب اکرام الضیف وخدمتہ ایاہ بنفسہ ، ۴ / ۱۳۶ ، حدیث : ۶۱۳۸۔

[2]    مرآۃ المناجیح ، ۶ / ۵۳۔

[3]    اکمال المعلم ، کتاب البر والصلۃوالآداب ،  باب صلۃ الرحم وتحریم قطعیتھا ، ۸ / ۲۰ ، تحت الحدیث : ۲۵۵۵ملخصًا۔

[4]    مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الاطعمۃ ، باب الضیافۃ ، ۸ / ۷۰ ، تحت الحدیث : ۴۲۴۳۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن