30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہیں تو جوکچھ نعمتیں دینی ودنیوی پائے گا سب انہیں کے طفیل میں ہوئیں کہ ہرنعمت وکمال وجود پرموقوف ہے اور وجود کے سبب وہ ہوئے ، تو صرف ماں باپ ہونا ہی ایسے عظیم حق کاموجب ہے جس سے بری الذمہ کبھی نہیں ہوسکتا۔ نہ کہ اس کے ساتھ اس کی پرورش میں ان کی کوششیں ، اس کے آرام کے لیے ان کی تکلیفیں خصوصاً پیٹ میں رکھنے ، پیداہونے میں ، دودھ پلانے میں ماں کی اذیتیں ، ان کا شکر کہاں تک ادا ہو سکتاہے؟ خلاصہ یہ کہ وہ اس کے لیے ﷲ ورسول جَلَّ جَلَالُہُ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکے سائے اور ان کی ربوبیت ورحمت کے مظہرہیں ، ولہٰذا قرآن عظیم میں اللہ جَلَّ جَلَالُہُ نے اپنے حق کے ساتھ ان کا ذکرفرمایا کہ : ) اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَؕ-( (پ۲۱ ، لقمن : ۱۴)’’حق مان میرا اور اپنے ماں باپ کا۔ ‘‘حدیث شریف میں ہے کہ ایک صحابیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے حاضر ہوکر عرض کی : یارسولَ اللہ!ایک راہ میں ایسے گرم پتھروں پر کہ اگرگوشت ان پرڈالا جاتاکباب ہوجاتا ، میں ۶میل تک اپنی ماں کو گردن پرسوار کر کے لے گیاہوں ، کیا میں اب اس کے حق سے بری ہوگیا؟رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم نےفرمایا : “ تیرے پیداہونے میں جس قدر دردوں کے جھٹکے اس نے اٹھائے ہیں شاید ان میں سے ایک جھٹکے کابدلہ ہو سکے۔ ([1])اللہ عَزَّ وَجَلَّ عقوق(یعنی والدین کی نافرمانی) سے بچائے اور ادائے حقوق کی توفیق عطافرمائے۔ ([2])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 312 والدین کے ساتھ نیکی کرنے کی فضیلت
عَنْ اَبِيْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سَاَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَيُّ الْعَمَلِ اَحَبُّ اِلَى اللهِ تَعَالىٰ؟ قَالَ : اَلصَّلَاةُ عَلٰى وَقْتِهَا ، قُلْتُ : ثُمَّ اَيُّ؟ قَالَ : بِرُّ الوَالِدَيْنِ ، قُلْتُ : ثُمَّ اَيُّ؟ قَالَ:اَلْجِهَادُ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ.([3])
ترجمہ : حضرت سَیِّدنا ابو عبد الرحمٰن عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں عرض کیا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں کونسا عمل زیادہ پسندیدہ ہے؟‘‘ ارشاد فرمایا : ’’وقت پر نماز ادا کرنا۔ ‘‘ میں نے عرض کی : “ پھر کونساہے؟‘‘ ارشاد فرمایا : ’’والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ ‘‘ میں نے عرض کی : ’’پھر کونسا ہے ؟‘‘ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں جہاد کرنا۔ ‘‘
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’یہ تینوں(یعنی وقت پر نماز ادا کرنا ، والدین کے ساتھ نیکی کرنا ، اللہ کی راہ میں جہاد کرنا) ایمان کے بعد افضل اعمال میں سے ہیں اور جس نے نماز کو جو کہ دِین کا ستون ہے ، اس کی فضیلت جانتے ہوئے ضائع کیاتو وہ ا س کے علاوہ دینی امور کوبہت زیادہ ضائع کرنے لگے گا ، اسی طرح جس نے والدین کی خدمت کرنا تر ک کر دیا تو وہ اس کے علاوہ یعنی اللہتعالیٰ کے حقوق کو بہت زیادہ ترک کرنے لگے گا ، یونہی جس نے قدرت کے باوجود اور جہاد کے لیے متعین ہونے کی صورت میں اسے ترک کیاتو وہ اِس کے علاوہ اُن اعمال کو بہت زیادہ چھوڑنے لگے گا جن کے ذریعے اللہتعالیٰ کا قرب حاصل کیا جاتا ہے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ جوان تین اعمال کی حفاظت کرے گاوہ ان کے علاوہ اعمال کی بھی حفاظت کرے گااور جو ان تینوں کو ضائع کرے گاوہ دوسرے اعمال کو زیادہ ضائع کرے گا۔ ‘‘([4])
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’والدین یا دونوں میں سے ایک کے فوت ہوجانے کی صورت میں دوسرے کے ساتھ بھلائی کرے اور حضور عَلَیْہِ السَّلَام کے اس ارشاد میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان کی طرف اشارہ ہے : ) وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-( (پ۱۵ ، بنی اسرائیل : ۲۳) (ترجمۂ کنزالایمان : اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پُوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ )اسی لیے کہا گیا کہ جو شخص پانچ نمازیں ادا کرے اور ہر نماز کے بعد والدین کے لیے مغفرت کی دعا کرے تو اس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ اور والدین کا حق ادا کردیا (بشرطیکہ وہ شخص اللہتعالیٰ اور والدین کے دیگر حقوق ادا کرتا ہو)۔ ([5]) یاد رہے کہ بعض احادیث میں بارگاہِ الٰہی کے پسندیدہ اعمال کی ترتیب مذکورہ حدیث پاک کی ترتیب سے برعکس لکھی ہوئی ہےاور ترتیب کا یہ اختلاف حالات ، اوقات اور حاضرین کے مختلف ہونے کی وجہ سے ہے اورمذکورہ حدیث پاک میں جس ترتیب سے بارگاہ ِ الٰہی میں پسندیدہ اعما ل کا ذکر ہوا ، اس میں حضرت سَیِّدُنا عبد اللہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے حال کا لحاظ کیاگیاہے۔
’’ماں‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
[1] معجم صغیر ، باب من اسمہ ابراھیم ، ص۹۲ ، الجزءالاول۔
[2] فتاوی رضویہ ، ۲۴ / ۴۰۱۔
[3] مسلم ، کتاب الایمان ، باب بیان کون الایمان باللّٰہ تعالیٰ افضل الاعمال ، ص۵۸ ، حدیث : ۸۵۔
[4] عمدۃ القاری ، کتاب مواقیت الصلوۃ ، باب فضل الصلاۃ لوقتھا ، ۴ / ۲۰ ، تحت الحدیث : ۵۲۷۔
[5] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الصلاۃ ، الفصل الاول ، ۲ / ۲۷۱ ، تحت الحدیث : ۵۶۸۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع