30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(2) گناہوں کی نحوست صرف گناہگار کے ساتھ خاص نہیں بلکہ اس کا اثر پورے معاشرے پر پڑتا ہےبلکہ بسا اوقات چند افراد کا جرم پورے معاشرے کا ناسور بن جاتا ہےاورجس طرح گناہوں کا اثر پورے معاشرے پر ہوتا ہے اسی طرح برائیوں کو ترک کرنے کا فائدہ بھی صرف ترکِ معاصی کرنے والے کے ساتھ خاص نہیں بلکہ تمام لوگوں کو پہنچتا ہے کہ معاشرہ میں بے راہ روی نہیں پھیلتی۔
(3) دو افراد کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرنے کے لیے قرعہ اندازی کرنا سنت ہے۔
(4) اپنے گھر میں ایسی کوئی تبدیلی نہ کریں جس سے پڑوسی کی عمارت کو نقصان پہنچے اور نہ ہی کوئی ایسا کام کریں جس سے انہیں تکلیف ہو۔
(5) برائی کو مٹانے کی قدرت ہونے کے باوجود شرم ، طمع اور گھبراہٹ کی بنا پر امر بالمعروف ونہی عن المنکر ترک کرنا شریعت میں ناپسندیدہ فعل ہےالبتہ اگر کسی سے واقعی نقصان پہنچنے کا صحیح اندیشہ ہے تو پھر اسے ترک کرنے میں مضائقہ نہیں۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں اپنی رضا والے کا م کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، حقوق العباد کی صحیح ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 188 حُکَّام کے بُرے اَعمال اور اُن پر رَدِّ عمل
عَنْ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ اُمِّ سَلَمَۃَ ہِنْدٍ بِنْتِ اَبِیْ اُمَیَّۃ حُذَیْفَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا عَنِِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّہُ قَالَ : اِنَّہُ یُسْتَعْمَلُ عَلَیْکُمْ اُمَرَاءُ فَتَعْرِفُوْنَ وتُنْکِرُوْنَ ، فَمَنْ کَرِہَ فَقَدْ بَرِءَ ، وَمَنْ اَنکَرَ فَقَدْ سَلِمَ وَلٰکِنْ مَنْ رَضِیَ وَتَابَعَ قَالُوْا : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ !اَلَا نُقَاتِلُہُمْ؟ قَالَ : لَا مَا اَقَامُوْا فِیْکُمُ الصَّلاۃَ. ([1])
ترجمہ : اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنااُمِّ سلمہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’عنقریب تم پر ایسے حاکم بنائے جائیں گے کہ تم اُن کے کچھ اَعمال کو (شریعت کےموافق ہونے کی وجہ سے) اچھا سمجھو گے اورکچھ (خلاف شرع) اُمور کا انکار کرو گے ، تو جس نے (اُن کے برے کاموں سے) نفرت کا اظہارکیا وہ بری الذمہ ہو گیا اور جس نےانکار کیا وہ سلامت رہا مگر جو راضی ہوا اور اُن کی اتباع کی (وہ ہلاک ہوگیا)۔ ‘‘ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا ہم اُن سے جنگ نہ کریں؟‘‘ فرمایا : ’’نہیں !جب تک وہ تم میں نماز ادا کرتے رہیں۔ ‘‘
اِس باب کی ابتدائی احادیث میں بھی بُرائی کو روکنے سے متعلق تین طرح کے لوگوں کا بیان ہوا : (1) برائی کو ہاتھ سے روکنے والے (2)برائی کو زبان سے روکنے والے اور(3) برائی کو دل میں برا جاننے والے۔ اور اس حدیث مبارکہ میں بھی تین قسم کے افراد کا بیان ہے : (1) برے کاموں سے نفرت کا اظہار کرنے والے(2) برے کاموں کا انکار کرنے والے اور(3) برے کاموں پر راضی رہنے والے۔
حضور عَلَیْہِ السَّلَام کا علم غیب:
اس حدیث پاک میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آنے والے زمانے کے متعلق غیب کی خبر ارشاد فرمائی جو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ربّ کریم کی طرف سے عطا کردہ علم غیب کا واضح ثبوت ہے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’عنقریب تم پر ایسے حاکم بنائے جائیں گے جن کے کچھ اَعمال خلاف شرع ہوں گے۔ ‘‘ عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’ حضور نبی رحمت شفیع امت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کایہ فرمان غیب کی خبروں سے متعلق ہے۔ ‘‘([2])عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نےاس حدیث پاک کے تحت شرح صحیح مسلم میں ، عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے دلیل الفالحین میں اور اِمَام شَرَفُ ا لدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نےبھی یہی فرمایا ہے۔ ([3])
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’اس فرمان عالی میں غیب کی خبرہے۔ مقصد یہ ہے کہ اُن بادشاہوں اور حکام کے اَعمال
[1] مسلم ، کتاب الامارۃ ، باب وجوب الانکارعلی الامراءفیما یخالف الشرع۔ ۔ ۔ الخ ، ص ۱۰۳۱ ، حدیث : ۱۸۵۴۔
[2] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الامارۃ والقضاء ، الفصل الاول ، ۷ / ۲۵۲ ، تحت الحدیث : ۳۶۷۱۔
[3] شرح مسلم للنووی ، کتاب الامارۃ ، باب وجوب الانکار علی الامراء ۔ ۔ ۔ الخ ، ۶ / ۲۴۳ ، الجزء الثانی عشر ۔
دلیل الفالحین ، باب فی الامربالمعروف ، ۱ / ۴۷۴ ، تحت الحدیث : ۱۸۹۔
شرح الطیبی علی مشکاۃ المصابیح ، کتاب الامارۃ والقضاء ، ۷ / ۲۲۶ ، تحت الحدیث : ۳۶۷۱۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع