دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا(۲۳) وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴) (پ۱۵ ، بنی اسرائیل : ۲۳ ،  ۲۴)                                                                                                                                                                                                       

ترجمۂ کنزالایمان : اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پُوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے ہُوں (اُف تک) نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا۔ اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا  نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن (چھوٹی عمر) میں پالا۔

والدین کے بارےمیں6احکام:

مذکورہ بالا آیات میں اللہتعالیٰ نے فقط والدین کے متعلق یہ6 اَحکام بیان فرمائے ہیں : (1)ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو یعنی ہر طرح سے والدین کی خدمت گاری کرو کیونکہ وہ تمہارے  وجود اور زندگی کا ظاہری سبب ہیں ۔ ([1]) (2)جب والدین بڑھاپے کی حالت کو پہنچ جائیں توانہیں اُف تک نہ کہو : یعنی ایسا کوئی کلمہ زبان سے نہ نکالنا جس سے یہ سمجھا جائے کہ ان کی طرف سے  طبیعت پر کچھ گرانی (بوجھ) ہے۔ ([2])یاد رہے کہ تعظیم اور توہین کادارو مدارعرف پر ہے ، لہٰذا جو کلمہ عرف میں والدین کی توہین شمار ہوتا ہے وہ والدین کے لیے استعمال کرناان کی بے ادبی اور گستاخی ہے۔ (4)والدین کو جھڑکنا نہیں۔ (5)والدین سے خوبصورت ، نرم بات کہنا۔ (6)والدین کے لیے نرم دلی سے  عاجزی کا بازو جھکا کر رکھو۔ (7)والدین کے لیے دعا کرو۔

بوڑھے والدین  اورمعاشرہ:

میٹھےمیٹھے اسلامی بھائیو!ہر ایک کو یہ بات معلوم ہے کہ والدین اپنی اولاد کی تربیت اور پرورش وغیرہ پر جو بے انتہاء تکالیف برداشت کرتے ہیں ، اس میں ان کے پیشِ نظر ایک مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ بڑھاپے کے ایام میں اولاد ان کا سہارا بنے اور محتاجی وبے بسی کے ان دنوں میں ہر طرح سے  ان کا خیال رکھے۔ فی زمانہ معاشرتی حالات پر ایک طائرانہ نظر دوڑائی جائے  تو مظلوم ترین طبقات میں سے ایک  طبقہ والدین کا نظر آتا ہے ، جہاں تک غیر مسلم ممالک کا تعلق ہے تو ان میں  بوڑھے والدین جس نازک ترین صورت حال کا شکار ہیں وہ کسی سے ڈھکی چھی نہیں کہ ان کی جوان اولاد بڑھاپے کی بے کسی میں انہیں سنبھالنے ، سہارا دینے اور ان کی خدمت کرنے پر کسی طرح بھی تیار نہیں اور اس بے رحم صورت  حال کے پیش نظر وہاں کے حکمران ’’اولڈ ہاؤس Old House‘‘(بوڑھوں کی قیام گاہ)کے  نام سے جگہ جگہ  ایسی  پناہ گاہیں  بنانے پر مجبور ہیں  جن میں  بوڑھے ، بیمار اور لاچار  والدین ایک چھت کے نیچےاپنے سانسوں کی گنتی پوری کر سکیں  اور درد و آلام سے بھری زندگی کے  آخری ایام گزار کر  دنیا سے رخصت ہو جائیں اور اس  سے زیادہ افسوسناک امر یہ ہے کہ اب مسلم ممالک میں بھی بوڑھے والدین اسی درد انگیزصورت حال کا شکار نظر آ رہے ہیں  اور اس کی کرب ناک مثالیں ہم فٹ پاتھوں پر نگاہ اٹھا کر اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں کہ کہیں والدین فٹ پاتھ  پر مختلف  پرانے کپڑوں  کو جوڑ کر بنائی گئی چادر تان کر دھوپ کی گرمی سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں اورکہیں  چار پہیوں والے لکڑی کے پرانے سے ٹھیلے  پر  بے بسی و بے کسی کی مثال بنے  اپنی زندگی کے دن اور سانسوں کی گنتی پوری ہونے کا انتظار کر رہے ہیں اور اس صورت حال میں آئے دن اضافہ ہوتا دیکھ کر مسلم حکمران بھی اپنے ممالک میں’’اولڈ ہاؤس‘‘ قائم کرنے  پر مجبور ہوچکے ہیں۔ اے کاش! مسلمان اپنے رب تعالیٰ کے دئیے ہوئے اِن اَحکام پر پھر سے عمل پیرا ہو جائیں کہ اگر تیرے والدین پر کمزوری کا غلبہ ہو جائے اور اُن کے اَعضا میں طاقت نہ رہے اور جیسا تو بچپن میں اُن کے پاس بے طاقت تھا ایسے ہی وہ اپنی آخری عمر میں تیرے پاس ناتواں رہ جائیں تو ان سے اُف تک نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے خوبصورت ، نرم بات کہنا اور حسن ادب کے ساتھ اُن سے خطاب کرنا ، ان کے لیے  نرم دلی سے عاجزی کا بازو بچھانا اور عرض کرنا کہ اے میرے رب! تو  بڑھاپے کی بے کَسی میں اِن دونوں پر اُسی طرح رحم کر جیسا کہ اِن دونوں نے مجھے بچپن کی بے بسی و لاچاری میں پال پوس کر مجھ پر رحم کیا۔ ‘‘

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                             صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

(6)ماں باپ کا حق ماننے کی تاکید

اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِۚ-حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَؕ-     (پ۲۱ ، لقمن : ۱۴)

ترجمۂ کنزالایمان : اور ہم نے آدمی کو اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید فرمائی  اس کی ماں نے اسے پیٹ میں رکھا کمزوری پر کمزوری جھیلتی ہوئی   اور اس کا دودھ چھوٹنا دو برس میں ہے یہ کہ حق مان میرا اور اپنے ماں باپ کا۔

والدین کا حق ادا نہیں ہو سکتا:

اعلیٰ حضرت ، امام اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’والدین کا حق وہ نہیں کہ انسان اس سے کبھی عُہدہ برآہو ، وہ اس کے حیات ووجود کے سبب



[1]    روح البیان ، پ۱۵ ، بنی اسرائیل ، تحت الایۃ : ۲۳ ،  ۵ / ۱۴۶۔

[2]   تفسیرخزائن العرفان ، پ۱۵ ، بنی اسرائیل ، تحت الآیۃ : ۲۳۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن