30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تووہاں کفر کا اندھیرا کیوں رہے؟‘‘ یہ کہہ کر وہ اپنے سب گھر والوں کے ساتھ مسلمان ہوگیا۔ ([1])
’’عبادت‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں افضل شخص وہ ہے جو اپنے ساتھی اور پڑوسی کے حق میں بہتر ہے اور بُرا وہ ہے جو اپنے ساتھی اور پڑوسی کے حق میں بُرا ہے۔
(2)ساتھی خواہ دینی ہو یا دنیوی ، ادنیٰ ہو یا اعلیٰ یا مساوی ، بہرصورت اس کے ساتھ اچھا برتاؤ اور اچھا سلوک کرنا چاہیے۔
(3)عبادات اور معاملات دونوں کی درستی لازم ہے البتہ معاملات کی درستی زیادہ اہم ہے۔
(4)پڑوسیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ ان کے ساتھ میل جول زیادہ ہوتا ہے۔
(5)پڑوسی اگر کافر ہو تو بھی اس کے ساتھ حُسن سلوک سے پیش آنا چاہیے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں اپنے ساتھیوں اور پڑوسیوں کے حق میں بہتر بنائے اور ہمیں ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
باب نمبر : 40 صلہ رحمی کا بیان
والدین کے ساتھ نیکی اوررشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
میٹھے میٹھےاسلامی بھائیو! ماں باپ کو اللہتعالیٰ نے ایسی عظیم شان عطا فرمائی کہ وہ انسان کے لیے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ربوبیت ، اُس کی اور اُس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رحمت کے مَظہر ہیں ، والدکے راضی ہونے سےاللہ عَزَّ وَجَلَّ راضی ہوتا ہے اور اُس کے ناراض ہونے سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ناراض ہوتا ہے۔ بندہ اپنے والدین کی اِطاعت کرے تو وہی اس کے لیے جنت میں جانے کا سبب ہیں اوراگر ان کی نافرمانی کرے تو وہی اس کے لیے جہنم میں جانے کا ذریعہ ہیں۔ اسی طرح شریعت نے دیگررشتہ داروں کے ساتھ بھی خاص طور پر بھلائی اور نیک سلوک کرنے کا حکم دے کراُن کی عظمت و مقام کو واضح فرمایا ہے۔ یہ باب بھی والدین کےساتھ نیکی اور رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنے کے بارے میں ہے۔ علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اس باب میں6 آیات اور 24 اَحادیث ذکر فرمائی ہیں ۔ پہلے آیات اور اُن کی تفسیرملاحظہ کیجئے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتا ہے :
وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْــٴًـا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِۙ-وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْؕ- (پ۵ ، النساء : ۳۶)
ترجمۂ کنزالایمان : اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ سے بھلائی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے اور کروٹ کے ساتھی اور راہ گیر اور اپنی باندی غلام سے۔
مُفَسِّرِ قُرآن عَلَّامَہ اِسْمَاعِیْل حَقِّی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’اِس آیت میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے (اپنی عبادت اور وحدانیت کاحکم فرمانے کے بعد )سب سے پہلے والدین کے ساتھ اِحسان کرنے کا حکم دیا کیونکہ ان دونوں کا حق انسانی حقوق میں بہت بڑا ہے اور اُن کے ساتھ اِحسان کی صورت یہ ہے کہ بیٹا ان کی خدمت کرتا رہے ، ان کے سامنے اپنی آواز بلند نہ کرے ، ان کے ساتھ سخت انداز میں کلام نہ کرے ، ان کی مطلوبہ چیزیں انہیں دینے کی کوشش اور طاقت کے مطابق ان پر اپنا مال خرچ کرتا رہے۔ اور اپنے قرابت داروں یعنی بھائی ، چچا ، خالو اور ان جیسے دیگر قریبی رشتے داروں سے صلہ رحمی کرے اور ان پر مہربان ہو ، اگرچہ وہ اس سے مُستغنی ہوں اور اگر وہ حاجت مند ہوں تو اُن پر اچھے طریقے سے خرچ کرے اور اُن کے لیے وصیت کرے۔ ‘‘([2])
ارشادباری تعالیٰ ہے :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع