30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(6)ہدیہ سبھی پڑوسیوں کو دینا چاہیے البتہ قریب والے پڑوسی کو ترجیح دی جائے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھنے اور انہیں ہدیہ دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 311 پڑوسی کیلئےبہتر رب کے یہاں بھی بہتر
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَيْرُ الْاَصْحَابِ عِنْدَ اللهِ تَعَالٰى خَيْرُهُمْ لِصَاحِبِهٖ ، وَخَيْرُ الْجِيْرَانِ عِنْدَ اللهِ تَعَالٰی خَيْرُهُمْ لِجَارِهٖ.([1])
ترجمہ : حضرت سَیِّدنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سےروایت ہے ، تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک بہترین ساتھی وہ ہیں جو اپنے ساتھی کے لیے اچھے ہوں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک بہترین پڑوسی وہ ہیں جو اپنے پڑوسی کے لیے اچھے ہوں۔ ‘‘
بارگاہِ الہٰی میں اعلیٰ مرتبے والا:
اِس حدیث پاک کا معنی یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں اس ساتھی کا ثواب اور مرتبہ زیادہ ہے جو اپنے ساتھی کو نفع پہنچانے اور اس سے اذیت دور کرنے کے معاملے میں اچھا ہے اور بارگاہ ِربُّ العزت میں اس پڑوسی کا اجر و ثواب اور مقام و مرتبہ زیادہ ہے جواپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتا ہے۔ ([2])
خلاصہ یہ ہے کہ جو اپنے ساتھی اور پڑوسی کے لئے زیادہ بہتر ہو گا وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں بھی افضل ہوگا اور اس حدیث پاک سے یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک بد ترین ساتھی اور پڑوسی وہ ہے جو اپنے ساتھی اور پڑوسی کے لئے بُرا ہو۔ ([3])
ہر ساتھی کے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہئے:
علامہ عبد الرؤف مناوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ساتھی کا اطلاق ہر ا س شخص پر ہوتا ہے جس کے ساتھ دینی یا دنیاوی صحبت ہو ، خواہ وہ ادنیٰ درجے کا ہو ، اعلیٰ درجے کا ہو یا مساوی درجے کا ہو ، یونہی سفر کی حالت میں اس کے ساتھ صحبت ہو یااقامت کی حالت میں ہو۔ ‘‘([4])
لہٰذا مسلمان کو چاہیے کہ وہ ہر ساتھی کے ساتھ اچھا سلوک کرے اوراس میں ساتھی کی خیر خواہی کرنا ، اس سے اچھا برتاؤ کرنا ، اُسے بری باتوں سے روکنااوراچھی راہ دکھانا سب داخل ہے۔
پڑوسی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کی ضرورت و اہمیت:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یاد رہے کہ عبادات اور معاملات دونوں کو درست کرنا ضرور ی ہے ، البتہ عبادات کو درست کرنے سے زیادہ اہم معاملات کو درست کرنا ہے کیونکہ عبادات میں جو کمی کوتاہی رہ جائے گی وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے فضل و کرم سے چاہے گا تو معاف فرمادے گا جبکہ حقوق العباد میں اللہ تعالی نے خود ہی یہ اصول بنادیا کہ جب تک صاحب معاملہ معاف نہ کرے وہ بھی معاف نہ فرمائے گا۔ اور معاملات کے حوالے سے دیکھا جائے تو پڑوسی کے ساتھ کوئی نہ کوئی معاملہ درپیش رہتا ہی ہے کیونکہ اس کا گھر دوسروں کے مقابلے میں زیادہ قریب ہوتا ہے۔ اس لئے پڑوسی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا بہت ضروری ہے ، اس کے بچوں کو اپنی اولاد کی طرح سمجھیں جیسا سلوک اپنی اولاد سے کرتے ہیں ویسا ہی اس کی اولاد سے کریں ، اس کی عزت و ذلت کو اپنی عزت وذلت سمجھیں اور جو چیزاس کی عزت پر حرف آنے اور تذلیل کا باعث بنے اسے دور کریں ، یہاں تک کہ پڑوسی اگر کافر بھی ہو تو اس کے بھی دین اسلام میں مقررہ حقوق ادا کئے جائیں۔ بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن بھی اپنے پڑوسیوں کے ساتھ بہت اچھے طریقے سے پیش آتے تھے۔ چنانچہ ،
بایزید کے چراغ سے کفر کا اندھیرا دور ہوگیا:
حضرت سیدنا بایزید بسطامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا ایک پڑوسی یہودی تھا ، وہ اپنے بال بچوں کو گھر میں چھوڑ کر سفر پر چلا گیا ، رات کے وقت یہودی کا بچہ روتا تھا ، ایک دن آپ نے اس کی ماں سے پوچھا : “ بچہ کیوں روتا ہے؟‘‘ یہودن بولی : ’’گھر میں چراغ نہیں ہے اور بچہ اندھیرے میں گھبراتا ہے۔ ‘‘ اس دن سے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ روزانہ چراغ میں خوب تیل بھرتے اور اسے روشن کر کے یہودی کے گھر بھیج دیتے ، جب یہودی سفر سے لوٹا اور اس کی بیوی نے یہ واقعہ سنایا تو یہودی بولا : ’’جس گھر میں حضرت بایزید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا چراغ آ گیا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع