30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حدیث نمبر : 310 قریبی پڑوسی کا حق زیادہ ہے
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُوْلَ اللهِ ، اِنَّ لِيْ جَارَيْنِ ، فَاِلٰى اَيِّهِمَا اُهْدِي؟ قَالَ : اِلٰى اَقْرَبِهِمَا مِنْكِ بَابًا.([1])
ترجمہ : حضرت سیِّدتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے ، فرماتی ہیں ، میں نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے دو۲پڑوسی ہیں ، تو میں ان میں سے کس کی طرف ہدیہ بھیجوں؟ “ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ارشاد فرمایا : ’’دونوں میں سے جس کا دروازہ تجھ سے زیادہ قریب ہے۔ “
پڑوسی کا اِکرام کرنے کی ایک صورت:
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی مذکورہ حدیث پاک کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں : “ اُمّ المؤمنین حضرت سیِّدتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے عرض کی : ’’ یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے دو 2پڑوسی ہیں اور آپ نے پڑوسی کا اکرام کرنے کا مطلق حکم دیا ہے اور میں ایک ساتھ دونوں کی طرف ہدیہ بھیجنے کی قدرت نہیں رکھتی تو ان دونوں میں سے کس کی طرف ہدیہ بھیجوں تاکہ میں پڑوسیوں کا اکرام کرنے والوں میں داخل ہو جاؤں؟‘‘ تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے ارشاد فرمایا : ’’دونوں میں سے جس کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہے (اس کی طرف ہدیہ بھیج دو)۔ ‘‘([2])
اُمُّ المومنین حضرت سَیِّدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے ہدیہ دینے سے پہلے اس کے بارے میں معلومات حاصل کیں ، معلوم ہوا کہ پہلے علم حاصل کرنا چاہیے ، پھر عمل کرنا چاہیے ۔ فی زمانہ لوگوں کا حال اس کے برعکس نظر آتا ہے کہ عبادات اور معاملات وغیرہ میں پہلےعمل کرتے اور بعد میں علم حاصل کرتے ہیں اور علم کی ضرورت بھی اس وقت محسوس کرتے ہیں جب اپنا نقصان نظر آ رہا ہو ورنہ جب تک فائدہ ہو رہا ہو تب تک حصولِ علم کی طرف متوجہ بھی نہیں ہوتے ۔ ایسے لوگوں کے لئے اس حدیث پاک میں بہت نصیحت ہے۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ایک شخص نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سوال کیا : ’’کون سا عمل افضل ہے؟‘‘ارشاد فرمایا : ’’علم۔ ‘‘اس نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں نے آپ سے عمل کے بارے میں پوچھا لیکن آپ نے مجھے علم کابتایا۔ ‘‘(اس میں حکمت کیا ہے؟)ارشاد فرمایا : ’’علم کے ساتھ قلیل عمل کثیر ہے اور جہالت کے ساتھ کثیر عمل قلیل ہے۔ ‘‘([3])
پڑوس کے قریب ہونے کا مدارکس پر ہے؟
مُفَسِّرِ شَھِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحکیمُ الامَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : “ اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے : ایک یہ کہ پڑوسیوں کو ہدیہ دینا سنت ہے کہ اس سے محبت بڑھتی ہے۔ دوسرا یہ کہ ہدیہ دینے کی وجہ پڑوسی ہونا ہے لہذا جس قدر پڑوس مضبوط ہوگا اتنا ہی ہدیہ کا استحقاق زیادہ ہوگا۔ تیسرا یہ کہ پڑوس کا قریب ہونا دروازہ سے ہوتا ہے ، چھت اور دیوار سے نہیں ، اگر ایک شخص کے مکان کی دیوار اورچھت تو ہمارے مکان سے ملی ہو مگر دروازہ دُور ہو اور دوسرے کی نہ چھت ملی ہو نہ دیوار مگر دروازہ قریب ہو تو زیادہ قریب یہ دوسرا ہی مانا جائے گا اور اس کی وجہ بھی ظاہر ہے کیونکہ دروازہ کی وجہ سے ملاقات ہوتی ہے اور اسی کے ذریعہ زیادہ خلط ملط رہتا ہے اور ایک کو دوسرے کے درد وغم میں شرکت کا زیادہ موقع ملتا ہے۔ یہ حدیث اس آیتِ کریمہ کی تفسیرہے )وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ ((پ۵ ، النساء : ۳۶) (ترجمۂ کنزالایمان : اور پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے۔ ) اس حدیث پاک میں قریب والے پڑوسی کو ہدیہ دینے کی ترغیب دلائی گئی ہے ، حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ دور والے پڑوسی کو بالکل نہ دو مطلب یہ ہے کہ سب کو دو مگر قریب کو ترجیح دو۔ ‘‘([4])
’’ ہدیہ دو‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1)پڑوسی کو ہدیہ دینا اس کا اِکرام کرنے میں داخل ہے۔
(2)جو عمل اعلیٰ اور اولیٰ ہو ُاسے ترجیح دینی چاہیے۔
(3)عمل کرنے سے پہلے ا س کے بارے میں علم حاصل کرنا چاہیے۔
(4)پڑوسی کو ہدیہ دینا سنت ہے اور ا س کی علت پڑوسی ہونا ہے۔
(5)پڑوسی کے قریب ہونے کا دارو مدار دروازے پر ہے چھت اور دیوار پر نہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع