30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(8)اس کی اجازت کے بغیر اپنا مکان اتنا اونچا نہ بناؤ کہ اس کی ہوا روک دو۔ (9)جب پھل خریدو تو اسے بھی ہدیۃً بھیجو اور نہ بھیج سکو تو چھپا کر رکھو ، اس پر ظاہر نہ ہونے دو اور تمہارے بچے بھی اس کے بچوں کے سامنے نہ کھائیں۔ (10)ہانڈی سے نکلنے والی خوشبودار بھاپ سے اسے اذیت نہ دو مگر یہ کہ ہنڈیا میں سے کچھ اس کے لیے بھی بھیج دو۔“([1])
مہمان کی تعظیم،کمالِ ایمان کی علامت:
حدیث پاک میں فرمایا گیا کہ جو اللہ عَزَّ وَجَلَّاوریوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی خاطر تواضع کرے۔ یاد رہے کہ اس حدیثِ پاک کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو مہمان کی خاطر تواضع نہیں کرے گا وہ کافر ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ مہمان کی تعظیم اور اس کی خاطرداری ایمان کا تقاضا اور کمالِ ایمان کی علامت ہے۔ ([2])
مہمان نوازی کے آداب میں سے ایک ادب یہ ہے کہ میزبان اپنے مہمان کا احترام اور ا س کی تعظیم کرے اور اس میں بہت سی چیزیں داخل ہیں جنہیں علماء کرام نے اپنی کتابوں میں مختلف مقامات پر بیان فرمایا ہے ، ان میں سے 4 درج ذیل ہیں : (1) میزبان اپنے مہمان سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملے۔ (2) مہمان کے لیے کھانے اور دوسری خدمات کا انتظام کرے۔ (3)حتی الامکان اپنے ہاتھ سے اس کی خدمت کرے ، جیسے مہمان کے سامنے خود دستر خوان بچھائے ، وہ ہاتھ دھونے لگے تو خود اس کے ہاتھوں پر پانی ڈالے یا نل خود کھول کر دے وغیرہ۔ (4) مہمان کے لیے بقدرِ طاقت اچھا کھانا بنائے۔ ([3])
اچھی بات کرنے سے پہلے بھی غور کرلے:
حدیث پاک میں یہ بھی فرمایا گیا کہ جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اوریوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اچھی بات کہے یاخاموش رہے۔امام شافعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: ”اچھی بات کہنے سے پہلے بھی غور کرلے، جب ظاہر ہو جائے کہ جو بات کرنے والا ہے اس میں صرف بھلائی ہے،فساد نہیں ہے اور نہ ہی وہ بات حرام یا مکروہ کی طرف لے جانے والی ہے تو وہ بات کہے۔“ اگر انسان اچھی بات نہیں کہہ سکتا تو اسے چاہیے کہ خاموش رہے مباح بات بھی نہ کرے کیونکہ بعض اوقات مباح کلام بھی حرام یا مکروہ کی طرف لے جاتا ہے اور بالفرض اگر مباح کلام حرام یا مکروہ کی طرف لے جانے والا نہ ہو تو بھی اس میں وقت کا ضیاع ہے کہ یہ فضول کام ہے۔([4])
’’کامل ایمان‘‘کے9حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے9مدنی پھول
(1)اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دینے والے کو کامل ایمان والوں میں شمار کیا گیا ہے۔
(2)پڑوسی کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف کو برداشت کرنا ہی پڑوسی کا حق نہیں بلکہ تکلیف برداشت کرنے کے ساتھ اس سے حسن سلوک کرنا بھی اس کے حقوق میں شامل ہے۔
(3)اگر پڑوسی کی اذیتوں پر صبر کرنا ممکن نہ رہے تو جائز طریقے اور حکمت عملی کے ساتھ اسے اذیت پہنچانے سے روکا جا سکتا ہے ۔
(4)بزرگانِ دِین اپنے پڑوسیوں کے لئے بھی وہی کچھ پسند کرتے تھے جو اپنے لئے پسند کرتے تھے ۔
(5)پڑوسی کو اذیت دینا اُخروی اعتبار سے بھی انتہائی نقصان دہ ہے کہ عبادت و ریاضت کے باوجود رب تعالی کی ناراضگی کی صورت میں جہنم کی وعید ہے۔
(6)پڑوسیوں کے حقوق اچھی طرح ادا کرنے کے لیے احادیث میں بیان کردہ دس امور پر عمل کرنا چاہیے۔
(7)مہمان کی تعظیم کیجئے کہ ا س کی تعظیم اور خاطر داری کرنا ایمان کا تقاضا ہے۔
(8)اچھی بات کہیں یا پھر خاموش رہیں کہ فضول بات کرنے سے خاموش رہنا بہتر ہے۔
(9)اچھی بات کرنے سے پہلے بھی غور کرلیں کہ میں جو بات کہناچاہتا ہوں اس میں کوئی فساد تو نہیں یا وہ بات مکروہ یا حرام کی طرف لے جانے والی تو نہیں جب ظاہر ہوجائے کہ اس بات میں کوئی قباحت نہیں ہے تو پھر وہ بات کریں۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں پڑوسیوں کو تکلیف نہ دینے ، اُن کی طرف سے پہنچنے والی تکالیف پر صبر کرنے ، اُن کے ساتھ حسن سلوک کرنے ، مہمان کی خاطر تواضع کرنے اور فضول گوئی سے بچتے ہوئے اچھی بات کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع