دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

پڑوسی کے تکلیف دینےپر حکمت عملی:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واضح رہے کہ پڑوسی کی طرف سے پہنچنے والی  اذیت و تکلیف کو برداشت کرنا اور اس پر صبر کرنا بہتر اور اجر و ثواب کا باعث ہے لیکن  اگر صبر کرنا ممکن نہ رہے تو اسے موقع کی مناسبت سے بہتر حکمت عملی کے ساتھ روکا بھی جاسکتا ہے۔ چنانچہ حضرت سَیِّدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اپنے پڑوسی کی شکایت کی تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام نےارشاد فرمایا : “ واپس چلے جاؤ اور صبر کرو۔ ‘‘ پھر وہ دو یا تین مرتبہ دوبارہ  بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں حاضر ہواتو آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے ارشاد فرمایا : “ جاؤ اور اپنا سامان راستے میں رکھ دو۔ ‘‘ چنانچہ اس نے اپنا سامان راستے میں رکھ دیا ، لوگ اس سے اس کی وجہ پوچھنے لگے اس نے لوگوں کو اپنے پڑوسی کا حال بتایا تو لوگوں نے اس کے پڑوسی پر لعن طعن  کرنا شروع کر دی اور اسے بُرا بھلا کہنے لگے ، (جب اس پڑوسی کو صورت حال کا علم ہوا) تو وہ اس کے پاس آیا اور کہنے لگا : “ واپس چلو ، اب میری طرف سے تمہیں کوئی ایسی بات نہ پہنچے گی جس سےتمہیں کوئی  تکلیف ہو۔ ‘‘([1])

پڑوسی کو اذیت دینے کا نقصان:

حضرت سَیِّدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عرض کی گئی : “ فلاں عورت دن میں روزہ رکھتی ہے اور رات میں قیام کرتی ہے  اور اپنے پڑوسیوں کو اپنی زبان سے ایذاء پہنچاتی ہے۔ ‘‘ ارشاد فرمایا : ’’اس میں کوئی بھلائی نہیں ، وہ جہنمی ہے۔ ‘‘([2])

شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : “ پڑوسی کو تکلیف دینے کی وجہ سے وہ عورت جہنم میں جائے گی اور اس کے نماز ، روزے اور صدقہ افضل ترین عمل ہونے کے باوجود اس کے گناہ کا کفارہ نہ بن سکیں گے۔ “ ([3]) مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : “ یہ کام دوزخیوں کے ہیں اگر یہ عبادت گزار بی بی اپنی تیز زبان سے توبہ نہ کرے گی تو اولًا دوزخ میں جاوے گی ، نوافل سے لوگوں کے حق معاف نہیں ہوتے ، پھر سزا بھگت کر جنت میں جاوے گی۔ “ ([4])

بلی کے سبب پڑوسی کو نقصان کا خدشہ:

معلوم ہوا کہ پڑوسی کو اذیت دینے کی شدید وعید بیان فرمائی گئی ہے ، لہذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے پڑوسی کو اذیت دینے سے بچتا رہے ، ہمارے بزرگان دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن پڑوسیوں  کا بہت احساس فرماتے اور کوئی بھی ایسا کام نہ کرتےجس سے پڑوسی کو اذیت پہنچنے کا اندیشہ ہوتا۔ چنانچہ  دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبہ المدینہ کی مطبوعہ1393 صفحات پر مشتمل کتاب  احیاء العلوم جلد 2 صفحہ771پر ہے کہ کسی بزرگ نے  اپنے دوستوں سے  گھر میں چوہوں کی کثرت کی شکایت کی  تو ان سے کہا گیا : “ آپ بلی کیوں نہیں پال لیتے؟‘‘ فرمایا : ’’مجھے اس بات کا خوف ہے کہ بلی کی آواز سن کر چوہے پڑوسیوں کے گھروں میں چلے جائیں گے ، یوں میں ان کے لئے اس بات کو پسند کرنے والاہو جاؤں گا  جس بات کو اپنی ذات کے لئے پسند نہیں کرتا۔ ‘‘ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہمیں بھی اپنے پڑوسیوں کا احساس کرنے اور انہیں اذیت و تکلیف پہنچانے والے کام کرنے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

پڑوسی پر احسان کرنے کے طریقے:

حدیث نمبر 308 مذکور ہے کہ جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّاور آخرت پر ایمان رکھتا ہےاسے چاہیے کہ پڑوسی کو اذیت نہ دے اور حدیث نمبر 309 میں ہے کہ جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے پڑوسی کے ساتھ احسان کرنا چاہیے۔  عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : “ مُصَنِّفْ یعنی امام نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے ان دونوں احادیث کو جمع کرکے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ کامل ایمان اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا جب تک دونوں چیزوں کو جمع نہ کیا جائے یعنی پڑوسی کو اذیت دینے سے بھی بچا جائے اور اپنی قدرت کے مطابق اس کے ساتھ حُسن سلوک بھی کیا جائے۔ “ ([5])

حدیث پاک میں پڑوسی کے ساتھ احسان کرنے کے چند طریقے بیان کیے گئے ہیں ، چنانچہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ (1) جب وہ تم سے مدد مانگے تو اس کی مددکرو۔ (2)اگر تم سے قرض مانگے تو اسے دے دو۔ (3)اگر وہ غریب ہو تو اس کا خیال رکھو۔ (4)وہ بیمار ہو تو اس کی مزاج پُرسی کرو۔ (بلکہ ضرورت ہو تو تیمارداری کرو۔ ) (5)اگر اس کا انتقال ہو جائے تو اس کے جنازہ کے ساتھ جاؤ (6)اس کی خوشی میں خوشی کے ساتھ شرکت کرو۔ (7)اس کے غم و مصیبت میں ہمدردی کے ساتھ شریک رہو۔



[1]   ابو داود ، کتاب الادب ، باب فی حق الجوار ،  ۴ / ۴۳۶ ،  حدیث : ۵۱۵۳۔

[2]   مستدرک ، کتاب البر والصلۃ ،  باب ان اللہ لا یعطی الایمان الا من یحب ، ۵ / ۲۳۱ ،  حدیث : ۷۳۸۵۔

[3]    اشعۃ اللمعات ، کتاب الآداب ، باب الشفقۃ والرحمۃ علی الخلق ، ۴ / ۱۳۸۔

[4]   مرآۃ المناجیح ، ۶ / ۵۷۷۔

[5]   دلیل الفالحین ، باب فی حق الجار والوصیۃ بہ ، ۲ / ۱۴۰ ،  تحت الحدیث : ۳۱۰۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن