30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے پڑوسیوں کے ساتھ تعاون کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 308 پڑوسی کو اذیت نہ دو
وَعَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، فَلَايُؤْذِ جَارَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا اَوْ لِيَسْكُتْ.([1])
ترجمہ : حضرت سَیِّدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو اذیت نہ دے اور جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اوریومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی خاطر تواضع کرے اور جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یاخاموش رہے۔ ‘‘
حدیث نمبر : 309 پڑوسی کے ساتھ اِحسان کرنا چاہیے
عَنْ اَبِيْ شُرَيْحِ الْخُزَاعِي رَضِيَ الله عَنْهُ: اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُحْسِنْ اِلٰى جَارِهِ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا اَوْ لِيَسْكُتْ.([2])
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنا ابو شُرَیح خُزاعی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے اپنے پڑوسی کے ساتھ احسان کرنا چاہیے اور جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اوریومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی خاطر تواضع کرے اور جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یاخاموش رہے۔ ‘‘
پڑوسی کو اذیت دینے سے کیا مرادہے؟
عَلَّامَہ شِھَابُ الدِّین احمد بِن مُحَمَّد قَسْطَلَّانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : ’’جو شخص اس اللہ عَزَّوَجَلَّ پر کامل ایمان رکھتا ہے جس نے اسے پیدا کیا اوراس آخری دن پر کامل ایمان رکھتا ہے جس کی طرف اس کو لوٹنا ہے اور جس میں اسے اس کے عمل کی جزا دی جائے گی تو وہ اپنے پڑوسی کو ایذا نہ دے۔ ‘‘([3])
مُفَسِّرِ شَھِیر ، مُحَدِّثِ کبیر حکیمُ الامَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان پڑوسی کو اذیت دینے کا مطلب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’یعنی اس کو تکلیف دینے کے لیے کوئی کام نہ کرے۔ ‘‘([4])
مروی ہے کہ ایک شخص حضرت سَیِدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : ’’میرا ایک پڑوسی ہے جو مجھے تکلیف پہنچاتا ہے ، بُرا بھلا کہتا اور مجھ پر تنگی کرتا ہے۔ ‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ’’واپس جاؤ! اگر ا س نے تمہارے بارے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی کی ہے تو تم اس کے بارے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی فرمانبرداری کرو۔ ‘‘([5])
سیدنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی فرماتے ہیں : ’’یاد رکھو!پڑوس کا حق صرف یہ نہیں کہ پڑوسی کو اذیت دینے سے رُکا جائے بلکہ اس کی طرف سے پہنچنے والی تکلیفوں کو برداشت کرنا بھی اس کے حق میں شامل ہے۔ کیونکہ بعض اوقات پڑوسی بھی تکلیف نہیں پہنچاتا لہذا صرف تکلیف نہ پہنچانے سے پڑوسی کا حق ادا نہیں ہوگا (کیونکہ یہ تو رکنے کے بدلے میں رکنا ہے کہ اُس نے اذیت نہیں دی تو اِس نے بھی نہیں دی) اسی لیے صرف پڑوسی کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف کو برداشت کرنا ہی کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ نرمی اور اچھے طریقے سے پیش آنا بھی ضروری ہے۔ منقول ہے کہ قیامت کے دن فقیر پڑوسی اپنے امیر پڑوسی کو پکڑ کر بارگاہِ الٰہی میں عرض کرے گا : “ اے میرے رب عَزَّ وَجَلَّ! ااس سے پوچھ کہ اس نے مجھے اپنے حسن سلوک سے کیوں محروم رکھا اور میرے لیے اپنے گھر کا دروازہ کیوں بند کیا۔ ‘‘([6])(حالانکہ میں اس کے فضل و احسان کا محتاج تھا۔ )
[1] مسلم کتاب الایمان ، باب الحث علی اکرام الجار والضیف۔ ۔ ۔ الخ ، ص۴۳ ، حدیث : ۴۷۔
[2] مسلم کتاب الایمان ، باب الحث علی اکرام الجار والضیف۔ ۔ ۔ الخ ، ص۴۳ ، حدیث : ۴۸۔
[3] ارشاد الساری ، کتاب الادب ، باب من کان یومن باللّٰہ۔ ۔ ۔ الخ ، ۱۳ / ۵۲ ، تحت الحدیث : ۶۰۱۸۔
[4] مرآۃ المناجیح ، ۶ / ۵۲۔
[5] احیاء العلوم ، کتاب آداب الالفۃ والاخوۃ ۔ ۔ ۔ الخ ، فصل حقوق الجوار ، ۲ / ۲۶۶۔
[6] احیاء العلوم ، کتاب آداب الالفۃ والاخوۃ ۔ ۔ ۔ الخ ، فصل حقوق الجوار ، ۲ / ۲۶۷۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع