30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(2) کسی چیز کے معمولی ہونے کی وجہ سے اسے حقیر جان کر تحفہ دینے سے نہیں رُکناچاہیے۔
(3) عورتوں کی طرح مردوں کو بھی یہی حکم ہے کہ وہ ملنے والے معمولی تحفے کو حقیر نہ جانیں اور معمولی چیز کو حقیر جان کر تحفہ دینےسے باز نہ رہیں۔
(4) معمولی چیز کا ہدیہ یا تحفہ قبول کرلینا بھی سنت مبارکہ ہے کہ تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممعمولی چیز کی دعوت و ہدیہ بھی قبول فرمالیا کرتے تھے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں اپنی استطاعت کے مطابق اپنے پڑسیوں کو تحفہ دینے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کی طرف سے ہدیہ میں آنے والی معمولی اور حقیر چیز کو بھی خوش دلی سے قبول کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 307 پڑوسی کی دیوار میں لکڑی لگانا
وَعَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَايَمْنَعْ جَارٌ جَارَهُ اَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً في جِدَارِهِ.ثُمَّ يَقُوْلُ اَبُوْ هُرَيْرَةَ : مَالِیْ اَرَاكُمْ عَنْهَا مُعْرِضِيْنَ! وَاللهِ لَاَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ اَكْتَافِكُمْ.([1])
ترجمہ : حضرت سَیِّدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولِ اَکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ کوئی پڑوسی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی گاڑنے سے منع نہ کرے۔ “ پھر حضرت سَیِّدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے : “ کیا بات ہے کہ میں تمہیں اس حکم سے اعراض کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں ، اللہ (عَزَّ وَجَلَّ) کی قسم! میں اس حدیث کو تمہارے کندھوں کے درمیان رکھ دوں گا۔ ‘‘ (یعنی تمہارے سامنے علانیہ بیان کرتا رہوں گا۔ )
پڑوسی کی دیوار پر لکڑی رکھنے کا شرعی حکم:
اس حدیث پاک کا معنی یہ ہے کہ جب ایک پڑوسی کو دوسرے پڑوسی کے گھر کی دیوار پر لکڑی رکھنے کی حاجت ہو اور دوسرے کا اس میں کوئی نقصان نہ ہو تو یہ اسے لکڑی رکھنے سے منع نہ کرے۔ حضرت سَیِّدناامام اعظم ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے نزدیک اس حدیث پاک میں دیے گئے حکم پر عمل کرنا مستحب ہے واجب نہیں۔ ([2])
کیا پڑوسی کوکیل گاڑنے سےمنع کرسکتا ہے؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا جائے تو فی زمانہ صورت حال کچھ اس طرح ہے کہ پڑوسی دوسرے کی دیوار پر گارڈروغیرہ رکھ کے یا اپنے گھر کی چھت کا کچھ حصہ دوسرے کی دیوار پر ڈال کر اس کی ملکیت کے دعوے دار بن جاتے ہیں اور اس پر قبضہ کرلیتے ہیں ایسے حالات میں جب بندے کو اس بات کا ڈر ہو کہ اس کی دیوار وغیرہ پر قبضہ کیا جاسکتا ہے تو وہ خود کو نقصان سے بچانے کے لیے پڑوسی کو منع کرسکتا ہے۔ چنانچہ مُفَسِّرشہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’خیال رہے کہ فی زمانہ پڑوسی دوسرے کی دیوار میں کیل گاڑ کر دیوار کے دعوےدار بن جاتے ہیں ، اس لیے احتیاط چاہیے کہ یہ بھی ایک قسم کا نقصان ہے اور نقصان کی صورت میں منع کرنا بلا کراہت جائز ہے۔‘‘([3])
فرمانِ ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا پس منظر:
جب حضرت سَیِّدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مروان کی طرف سے مدینہ منورہ کے حاکم بنائے گئے اور وہاں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے لوگوں کے سامنے یہ حدیث پاک بیان کی تو انہوں نے اپنے سر جھکا لیے اس پر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے (مبالغہ کے طور پر) فرمایا : ’’ کیا بات ہے کہ میں تمہیں اس سے یعنی اس قول یا سنت سے اعراض کرتے ہوئے دیکھ رہاہوں ، اللہ(عَزَّ وَجَلَّ) کی قسم! میں اس حدیث کو تمہارے کندھوں کے درمیان رکھ دوں گا مطلب یہ کہ اگر تم نے اس حکم کو قبول نہ کیا اور اس پر عمل نہ کیا تو میں اسے تمہارے سامنے باربار بیان کروں گا اگرچہ تم اسے ناپسند کرو۔ “ ([4])
’’سنت‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) حاجت درپیش ہو اور نقصان کا اندیشہ نہ ہوتو پڑوسی کو دیوارپر لکڑی رکھنے یا کیل وغیرہ لگانے سے منع نہیں کرنا چاہیے ۔
(2) نقصان کا اندیشہ ہونے کی صورت میں پڑوسی کو دیوار پر لکڑی رکھنے اور کیل وغیرہ لگانے سے منع کرنا جائز ہےالبتہ اَحسن طریقے سےمنع کرنا چاہیے۔
(3) صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ خود بھی سنت پر عمل کرنے کے حریص ہوتے تھے اور دوسروں کو بھی سنتوں پر عمل کرنے کی ترغیب دیتے تھے۔
[1] بخاری ، کتاب المظالم والغصب ، باب : لا یمنع جار جارہ ان یغرز۔ ۔ ۔ الخ ، ۲ / ۱۳۲ ، حدیث : ۲۴۶۳۔
[2] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب البیوع ، باب الشفعۃ ، ۶ / ۱۶۲ ، تحت الحدیث : ۲۹۶۴ملخصًا۔
[3] مرآۃ المناجیح ، ۴ / ۳۲۶۔ ً
[4] عمدۃ القاری ، کتاب المظالم والغصب ، باب لا یمنع جار۔ ۔ ۔ الخ ، ۹ / ۲۱۶ ، ۲۱۷ ، تحت الحدیث : ۲۴۶۳ ملخصًا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع