30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس حدیث پاک کا معنی یہ ہے کہ جبریل عَلَیْہِ السَّلَام پڑوسی کے ساتھ احسان کرنے اور اس سے اذیت کو دور کرنے سے متعلق مسلسل مجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا حکم پہنچاتے رہے (تاکہ میں اسے امت تک پہنچا دوں ) ، یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ وہ پڑوسی کو وارثوں میں شامل کردیں گے اور میراث میں اسے شریک کردیں گے۔ ([1])
یاد رہے کہ اس حدیث پاک میں مذکور’’پڑوسی‘‘عام ہے ، لہذا پڑوسی خواہ مسلمان ہو یاکافر ، عابدہو یا فاسق ، دوست ہو یا دُشمن ، پردیسی ہو یا ہم وطن ، نقصان پہنچانے والا ہو یا نفع دینے والا ، رشتہ دار ہو یا اجنبی ، اس کا گھر قریب ہو یا دور سب ہی اس میں داخل ہیں۔ ([2])
حقوق کے اعتبار سے پڑوسیوں کی اقسام:
واضح رہے کہ پڑسیوں میں اگرچہ سب ہی داخل ہیں لیکن حقوق کے اعتبار سے ان میں فرق ہے جیساکہ حضرت سیدنا جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’پڑوسی تین ہیں : (1)وہ پڑوسی جس کا ایک حق ہے اور حق کے اعتبار سے ادنی پڑوسی ہے۔ (2)وہ پڑوسی جس کے دو حق ہیں۔ (3)وہ پڑوسی جس کے تین حق ہیں اور یہ حق کے اعتبار سے افضل پڑوسی ہے۔ بہر حال وہ پڑوسی جس کا ایک حق ہے تو یہ وہ مشرک پڑوسی ہے جس کے ساتھ کوئی رشتہ داری نہیں صرف حق پڑوس ہے۔ جس کے دو حق ہیں تو یہ وہ مسلمان پڑوسی ہے جو رشتہ دار نہیں ، اس کے لئے حقِ اسلام اور حق پڑوس ہے۔ وہ پڑوسی جس کے تین حق ہیں تو یہ وہ مسلمان پڑوسی ہے جس کے ساتھ رشتہ داری ہو ، اس کے لئے حقِ اسلام ، حقِ جوار اور رشتہ داری کا حق ہے۔ ‘‘([3])
’’رحمت‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) پڑوسی کے ساتھ ہمیشہ حسن سلوک سے پیش آئیے ، کیونکہ اِسلام میں پڑوسی کے تفصیلی حقوق بیان فرمائے گئے ہیں۔
(2) پڑوسی کے حقوق کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشاد فرمایا کہ مجھے اس کے وارث بنائے جانے کا گمان ہوا۔
(3) پڑوسی میں ہر طرح کے افراد داخل ہیں ، کسی کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔
(4) حقوق کے اعتبار سے پڑوسیوں کی تین اقسام ہیں ، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ جس پڑوسی کا جتنا زیادہ حق ہو اس کے ساتھ اتنے ہی زیادہ اچھے طریقے سے پیش آئیں۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں اپنے پڑوسیوں کے حقوق اچھی طرح ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 304 پڑوسیوں کے لئےسالن میں شوربہ زیادہ بناؤ
وَعَنْ اَبِيْ ذَرٍّرَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا اَبَا ذَرٍّ ، اِذَا طَبَخْتَ مَرَقَةً ، فَاَكْثِرْ مَاءَهَا ، وَتَعَاهَدْ جِيْرَانَكَ.وَفِيْ رِوَايَةٍ لَهُ عَنْ اَبِيْ ذَرٍّ ، قَالَ : اِنَّ خَلِيْلِيْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَوْصَانِيْ : اِذَا طَبَخْتَ مَرَقًا فَاَكْثِرْ مَاءَهُ ، ثُمَّ انْظُرْ اَهْلَ بَيْتٍ مِنْ جِيْرَانِكَ ، فَاَصِبْهُمْ مِنْهَا بِمَعْرُوْفٍ.([4])
ترجمہ : حضرت سَیِّدنا ابو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ اے ابو ذر! جب تم شوربہ پکاؤ تو ا ُس کا پانی زیادہ رکھو اور اپنے پڑوسی کا خیال رکھو۔ ‘‘
ایک اور روایت میں ان ہی سے مروی ہے فرماتے ہیں : “ بے شک میرے خلیل صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےمجھے وصیت فرمائی کہ جب تم شوربہ پکاؤ تو ا س کا پانی زیادہ رکھو ، پھر اپنے پڑوسی کے گھر والوں کو دیکھو اور انہیں اس میں سے بھلائی کے ساتھ (کچھ)شوربہ دے دو۔ “
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حدیث پاک میں سالن کے دیگر اجزاء کے بجائے شوربہ بڑھانے کا فرمایا گیا کیونکہ شوربہ بڑھانا ہر ایک کے لئے آسان ہو تا ہے جبکہ گوشت اور مصالحہ وغیرہ بڑھانا سب کے لئے آسان نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ مستحب کاموں میں سے جو آسان ہو اسے کرنے کی زیادہ ترغیب دینی چاہیے تاکہ بندہ آسانی سےعمل کرکے زیادہ سے زیادہ اجر و ثواب کما سکے۔آسان نیکیوں کی ترغیب اور ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبہ المدینہ کی 192 صفحات پر مشتمل کتاب’’آسان نیکیاں‘‘ کا مطالعہ کرنا
[1] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الآداب ، باب الشفقۃ والرحمۃ علی الخلق ، ۸ / ۶۹۹ ، تحت الحدیث : ۴۹۶۴۔
[2] ارشاد الساری ، کتاب الادب ، باب الوصاۃ بالجار ، ۱۳ / ۴۸ ، تحت الحدیث : ۶۰۱۴۔
[3] حلیۃ الاولیاء ، عطاء بن میسرہ ، ۵ / ۲۳۵ ، حدیث : ۶۹۴۸۔
[4] مسلم ، کتاب البر والصلۃ والاداب ، باب الوصیۃ بالجار والاحسان الیہ ، ص۱۴۱۳ ، حدیث : ۲۶۲۵۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع