دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول

   (1)والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد کی چھوٹی عمر سے ہی دینی تعلیم وتربیت کا اہتمام کریں۔

   (2)بچے جب سات سال کی عمر کو پہنچیں تو انہیں نماز وغیرہ کی تعلیم دینا شروع کردیں ، اور جب وہ بالغ ہوجائیں تو نماز نہ پڑھنے کی صورت میں مارنے کی بھی شرعاً اجازت ہے۔

   (3)نماز ایک اہم فریضہ ہے ،  اپنی اولاد کو سب سے پہلے نماز کی تلقین کرنی چاہیے۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا ہے وہ ہمیں اپنی اولاد کی دینی تعلیم وتربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں خود بھی نیک اعمال کرنے گناہوں سے بچانے کی توفیق عطا فرمائے۔

                                                                                                          آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

باب نمبر : 39                                                        پڑوسی کے حقوق  کا بیان

پڑوسیوں کے حقوق اور ان کے ساتھ خیر خواہی کرنے کا بیان

میٹھےمیٹھے اسلامی بھائیو! روز مرہ کے مختلف معاملات میں جن اَفراد کے ساتھ بندے کا تعلق ہوتا ہے ان میں ایک پڑوسی بھی ہے ، پڑوسی کو بڑی اہمیت حاصل ہے ، اسی لیے اسلام میں تفصیل کے ساتھ پڑوسیوں کے حقوق بیان کیے گئے ہیں ، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ، صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور بزرگانِ دِین کی سیرت کا مطالعہ کرنے سے پتا چلتا ہے کہ اپنے مسلمان پڑوسیوں کے حُسن سلوک کی وجہ سے کئی غیر مسلم دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے ، ایک مسلمان پر لازم ہے کہ اپنے پڑوسی کے ساتھ بھلائی کرے ، خوشی غمی میں اُس کا ساتھ دے ، اس کی طرف سے تکلیف پہنچے تو صبر کرے ، وہ مصیبت میں مبتلا ہوتو اس کی مدد کرے ، وہ بیمار ہوتو اس کی عیادت کرے ، اس کی عزت و آبرو کی حفاظت کرے۔ یہ باب بھی پڑوسیوں کے حقوق اور ان کے ساتھ خیر خواہی کرنے کے بارے میں ہے۔ علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اس باب میں 1آیت اور 9 احادیث مبارکہ ذکر فرمائی ہیں ، پہلے آیت مبارکہ اور اس کی تفسیر ملاحظہ کیجئے۔

پڑوسیوں کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم الٰہی

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :

وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْــٴًـا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِۙ-وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْؕ- (پ۵ ، النساء : ۳۶)

ترجمۂ کنزالایمان : اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ سے بھلائی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں  اور پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے اور کروٹ کے ساتھی اور راہ گیر اور اپنی باندی غلام سے۔

قریب اور دور کے ہمسائے:

اس آیت مبارکہ میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے  اپنی عبادت کرنے  اور کسی کو شریک نہ ٹھہرانے کا حکم دینے کے بعد والدین ، رشتہ داروں ، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ  بھلائی کرنے کا حکم دیا اور ان کے بعد قریب اور دور دونوں طرح کے  پڑوسیوں سے  بھلائی اور اچھا سلوک کرنے کا حکم ارشاد فرما ہے۔ ان پڑوسیوں کے بارے میں دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے ’’مکتبۃ المدینہ‘‘ کی مطبوعہ 495 صفحات پر مشتمل کتاب صراط الجنان جلد2 صفحہ201 پر تفسیراتِ احمدیہ کے حوالے سے لکھا ہے : ’’قریب کے ہمسائے سے مراد وہ ہے جس کا گھر اپنے گھر سے ملا ہوا ہوا ور دور کے ہمسائے سے مراد وہ ہے جو محلہ دار تو ہو مگر اس کا گھر اپنے گھر سے ملا ہوا نہ ہو ، یا جو پڑوسی بھی ہو اور رشتہ دار بھی وہ قریب کا ہمسایہ ہے اور وہ جو صرف پڑوسی ہو ، رشتہ دار نہ ہو وہ دور کا ہمسایہ ، یا جو پڑوسی بھی ہو اورمسلمان بھی وہ قریب کا ہمسایہ اور وہ جو صر ف پڑوسی ہو مسلمان نہ ہو وہ دور کا ہمسایہ ہے۔ ‘‘([1])

حدیث نمبر : 303                                                  پڑوسی کو وارث ہی بنادیں گے

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ وَعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا  ،  قَالَا  :  قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :  مَا زَالَ جِبْرِيْلُ يُوصِيْنِيْ بِالْجَارِ حَتّٰى ظَنَنْتُ اَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ.([2])

ترجمہ : حضرت سَیِّدنا ابن عمر اور ام المؤمنین حضرت سَیِّدتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : “ جبریل (عَلَیْہِ السَّلَام) مجھے پڑوسی کے بارے میں مسلسل تاکید کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ وہ پڑوسی کو وارث ہی بنا دیں گے۔ “

پڑوسی کو وارث بنائے جانے کا گمان:

 



[1]   تفسیرات احمدیہ ، النساء ، تحت الآیۃ : ۳۶ ، ص۲۷۵ماخوذا۔

[2]   بخاری  ، کتاب الادب ، باب الوصاۃ بالجار ، ۴ / ۱۰۴ ،  حدیث : ۶۰۱۵۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن