30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’یہ حکم وجوبی ہے ، اور اس میں لڑکا لڑکی دونوں شامل ہیں ، اسی طرح اس پر واجب ہے کہ اپنی زوجہ اورخادم کو بھی نماز کا حکم دے ۔ نماز کا حکم دینے سے مراد یہ ہے کہ انہیں وہ تمام باتیں سکھائے جن پر نماز کا دارو مدار ہے یا جن پر نماز موقوف ہےکیونکہ جب کسی شے کے متعلق حکم دیا جاتا ہے وہ حکم ان تمام چیزوں کو شامل ہوتا ہے جن کے بغیر وہ شے مکمل نہیں ہوسکتی۔ اور بچے کو پورے سات سال کا ہونے کے بعد نماز کا حکم دے ، سات سال کی عمر ایسی ہوتی ہے کہ بچہ اس عمر میں تمیز سیکھ لیتا ہے اور خود ہی کھا پی لیتا ہے اور استنجاء کرلیتا ہے۔ ‘‘([1]) ایک اور مقام پرفرماتے ہیں : ’’بچے کے ولی پر واجب ہے کہ جب بچہ سمجھ بوجھ والا ہوجائے تو اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ، اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور تمام رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حق میں جن باتوں کا اعتقاد رکھنا واجب ، جائز یا محال ہے اور ان کا سیکھنا ضروری ہے وہ تمام باتیں بچے کو سکھائے ، اسے بتائے کہ پچھلی تمام شریعتیں ہمارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شریعت سے منسوخ ہوچکی ہیں اور اب یہی شریعت قیامت تک رہے گی ، محمد بن عبداللہ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول عربی ہیں ، آپ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے اور مدینہ منورہ میں آپ کا وصال ہوا اور بچے کو احکام شرعیہ کی تعلیم دے تاکہ وہ اس کے ذہن نشین ہو جائیں کیونکہ بچپن میں جن باتوں کی تعلیم دی جاتی ہے وہ پتھر پر نقش کی طرح ہے۔ ‘‘ ([2])
سات سال اور دس سال کی قید کی حکمت:
علامہ ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’سات سال کی عمر میں نماز کی ادائیگی کا حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ تاکہ انہیں نماز کی عادت پڑے اور وہ نماز سےمانوس ہوجائیں۔ نیز بچپن یعنی دس سال کی عمر میں بچوں کے بستر الگ کرنے اور نماز نہ پڑھنے کی صورت میں انہیں مارنے کی وجہ ان کو ادب سکھانا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حکم کی محافظت مقصود ہے کیونکہ نماز عبادات کی اصل ہے ، نیز اس سے ان کو لوگوں میں معاشرتی آداب کی تعلیم دینا بھی مقصود ہے اور یہ کہ وہ تہمت کی جگہوں پر نہ کھڑے ہوں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حرام کردہ تمام اُمور سے اپنے آپ کو بچائیں۔‘‘([3])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جہاں اس حدیث پاک سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اپنے بچوں کو نماز کی تعلیم دیں ، انہیں نماز کے مسائل سکھائیں وہیں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ ہم خود بھی نماز کے معاملے میں سستی نہ کریں ، نماز کے ضروری مسائل کو تفصیل سےسیکھیں ، جب تک ہم خود نماز کے مسائل کو اچھی طرح سے نہیں سیکھیں گے تو اپنی اولاد کو کیسے سکھائیں گے؟ مگر افسوس! آج کل ہماری اکثریت نمازوں سے غافل ہے ، نماز پڑھنا تو دور کی بات ، نماز کے ضروری مسائل سے بھی آگاہ نہیں۔ اپنا اور اپنے بچوں کا نماز کے حوالے سے مدنی ذہن بنائیے ، نماز کے فضائل اور اس کے ترک کی وعیدوں پر غور کیجئے۔ یقیناً نماز دین کا ستون ہے ، نماز اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خوشنودی کا سبب ہے ، نماز سے رحمت نازل ہوتی ہے ، نماز برائیوں اور بے حیائی کے کاموں سے روکتی ہے ، نماز سے گناہ معاف ہوتے ہیں ، نماز دعاؤں کی قبولیت کا سبب ہے ، نماز سےروزی میں برکت ہوتی ہے ، نماز اندھیری قبر کا چراغ ہے ، نماز جنت کی کنجی ہے ، نماز جہنم کے عذاب سے بچاتی ہے ، نماز پیارے آقا مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ، نماز پل صراط کےلیے آسانی ہے ، نمازی کو کل بروز قیامت حضور نبی رحمت شفیع امت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شفاعت نصیب ہوگی۔ جبکہ بے نمازی سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سخت ناراض ہوتا ہے ، بے نمازی کے چہرے سے حقیقی نورانیت ختم ہوجاتی ہے ، بے نمازی اطمینان قلب سے محروم ہوجاتا ہے ، بے نمازی کے رزق میں بے برکتی پیدا ہوجاتی ہے ، جو جان بوجھ کر ایک نماز چھوڑ دیتا ہے اس کا نام جہنم کے دروازے پر لکھ دیا جاتا ہے ، بے نمازی کو کل بروز قیامت سخت ذلت ورسوائی کا سامنا ہوگا۔ لہذا خود بھی نماز کی پابندی کیجئے اور اپنی آل ، اولاد کو بھی نماز پڑھنے کا حکم دیجئے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اگر اپنی اولاد کی اچھی تربیت کریں گے اور انہیں نماز روزہ اور اس کے علاوہ دیگر احکام شرعیہ پر عمل کرنے کا پابند بنائیں گے تو یہ اولاد دنیا میں بھی آپ کے لیے راحت اور آنکھوں کی ٹھنڈک بنے گی اور آپ کے مرنے کے بعد آپ کے لیے ایصال ثواب اور دعائے خیر کرکے آپ کے لیے آخرت میں بھی بخشش کا سامان ہو گی۔ تاجدار مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ جب آدمی مر جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے سوائے تين کاموں کے کہ ان کا سلسلہ جاری رہتا ہے : (1)صدقۂ جاريہ (2)وہ علم جس سے فائدہ اُٹھايا جائے۔ (3)نيک اولاد جو اس کے حق ميں دعائے خير کرے۔ ‘‘([4])
’’دعا‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
[1] دلیل الفالحین ، باب فی وجوب امرہ اھلہ و اولادہ۔ ۔ ۔ الخ ، ۲ / ۱۳۲ ، تحت الحدیث : ۳۰۲۔
[2] دلیل الفالحین ، باب فی وجب امرہ اھلہ و اولادہ۔ ۔ ۔ الخ ، ۲ / ۱۳۳ ، تحت الحدیث : ۳۰۳۔
[3] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الصلاۃ ، الفصل الثانی ، ۲ / ۲۷۵ ، ۲۷۶ ، تحت الحدیث : ۵۷۲ملتقطًا۔
[4] مسلم ، کتاب الوصیۃ ، باب مایلحق الانسان من الثواب بعد وفاتہ ، ص۸۸۶ ، حدیث : ۱۶۳۱۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع