30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دنیا میں آنے کےمقصد کو ہرگز نہ بھولیے۔ ‘‘([1])
(3)ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حمص کے فقراءاور محتاجوں کی فہرست طلب کی تو اس میں حمص کے حاکم حضرت سیدنا سعید بن عامر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا نام بھی تھا ، معلوم ہوا کہ وہ اپنا سارا وظیفہ غریبوں اور محتاجوں میں تقسیم کردیتے ہیں ، پھر ان کے رویے کے متعلق اہل حمص نے چار شکایتیں کیں : (1) وہ ہمارے پاس دن چڑھنے کے بعد آتے ہیں۔ (2) رات کے وقت ملاقات نہیں فرماتے۔ (3) مہینے میں ایک دن غائب رہتے ہیں۔ (4) کبھی کبھی انہیں بےہوشی کا طویل دورہ پڑتا ہے۔ سیدنا فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ان سے جواب طلب کیا تو انہوں نےعرض کی : ’’میرا کوئی خادم نہیں ہے اور میری بیوی بیمار ہے ، سارے کام مجھے خود ہی کرنے پڑتے ہیں ، اس لیے میں دن چڑھنے کےبعد آتا ہوں۔ رات کے وقت میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کرتا ہوں ، اس لیے رات میں لوگوں سے ملاقات نہیں کرتا۔ میرے پاس ایک ہی جوڑا ہے مہینے میں ایک دن جب میں اسے دھوتا ہوں تو اس کے سوکھنے سے پہلے باہر نہیں آسکتا اور حضرت سیدنا خبیب بن عدی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی شہادت جب مجھے یاد آتی ہے تو مجھ پر غشی کا دورہ پڑتا ہے ، مجھ پر رنج واَلم کا پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے۔ ‘‘یہ جوابات سن کر سیدنا فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اس شدت سے روئے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی ہچکیاں بندھ گئیں۔([2])
’’انصاف‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)ہر شخص ذمہ دار ہے اور کل بروز قیامت اس سے ماتحت افراد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
(2)ہرذمہ دار کو چاہیے کہ اپنے ماتحت افراد کے ساتھ عدل وانصاف سے کام لے۔
(3)اپنی رعایا کے ساتھ عدل وانصاف کرنے والے حاکم یا ذمہ دار کے لیے بشارتیں اور ناانصافی یا دھوکہ دہی کرنے والے کے لیے سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔
(4)بروز قیامت جہاں حقوق اللہ پر باز پرس ہوگی وہاں حقوق العباد کے معاملہ میں بھی پوچھا جائے گا۔
(5)ہرشخص اپنے اندر احساس ذمہ داری پیدا کرے اور شریعت کے مطابق زندگی گزارے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں اپنے ماتحت افراد کے جملہ حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنی ذمہ داری کا احساس عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حديث نمبر : 301 اپنی اولاد کو نماز کا حکم دو
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ اَبِيْهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مُرُوْا اَوْلَادَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَهُمْ اَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِيْنَ وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا وَهُمْ اَبْنَاءُ عَشْرٍ وَفَرِّقُوْا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ. ([3])
ترجمہ : حضرت سیدنا عَمرو بن شعيب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاپنے والد اور وہ ان کے داداسے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : “ تمہاری اولاد جب سات سال کی ہوجائے تو انہیں نماز کا حکم دواور جب وہ دس سال کی عمر کو پہنچ کر نماز نہ پڑھیں تو انہیں مارو اور انہیں الگ الگ سُلاؤ۔ “
حديث نمبر : 302 اپنے بچّوں کو نماز سکھاؤ
عَنْ اَبِیْ ثُرَیَّۃَ سَبْرَۃَ بْن مَعْبَدٍ الجُھَنِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلِّمُوْا الصَّبِيَّ الصَّلَاةَ لِسَبْعِ سِنِيْنَ وَاضْرِبُوْهُ عَلَيْهَا ابْنَ عَشْرِ سِنِیْنَ. ([4])
ترجمہ : حضرت سیدنا ابو ثریہ سَبْرَہ بن مَعْبَد جُہَنِیْ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےروایت ہے ، فرماتے ہیں کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ارشاد فرمایا : “ بچہ جب سات سال کا ہوجائے تو اسے نماز سکھاؤ اور جب دس سال کی عمر کو پہنچ کر نماز نہ پڑھے تو اسے مارو۔ “
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع