دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’حاکم ، شوہر ، زوجہ اور خادم ان تمام افراد کو اگرچہ ایک ہی لفظ یعنی ذمہ دار سے تعبیر فرمایا گیا ہے لیکن ان سب کی ذمہ داریاں مختلف ہیں ، حاکم کی ذمہ داری ہے کہ وہ حدود قائم کرے اور لوگوں کے درمیان شرعی طریقے کے مطابق احکام جاری کرے ، مرد پر اپنے گھروالوں کے اعتبار سے یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے معاملات کو اچھے طریقے سے چلائے نیز کھانے پینے ، کپڑے اور دیگر ضروریات زندگی کے لحاظ سے ان کے حقوق کو پورا کرے ، عورت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شوہر کے گھر کے معاملات کو اچھے طریقے سے چلائے ، اس کی خیر خواہ ہو ، شوہر کے مال اور اپنی ذات میں کسی قسم کی خیانت نہ کرے ، خادم کی ذمہ داری ہے کہ آقا کا جو مال اس کے پاس ہو اس کی حفاظت کرے اور آقا کی خدمت کا جو حق ہے اس پوری طرح ادا کرے۔ اور اگر کوئی ایسا شخص ہے کہ جو نہ حاکم ہے ، نہ اس کے اہل و عیال ہیں اور نہ وہ خادم ہے تو ایسا شخص اپنے دوستوں کا ذمہ دار ہے اسے چاہیے کہ ان کے ساتھ اچھے طریقے سے حُسن معاشرت کرے اور اگر اس کا کوئی دوست بھی نہ ہو تو وہ شخص اپنی جان ، اپنے اعضاء و جوارح ، اپنی قوت اور اپنے حواس کاذمہ دار ہے اور یہی اُس کی رعایا ہیں۔ ([1]) (لہٰذا اسے چاہیے کہ انہیں غیر شرعی اُمور میں استعمال نہ کرے کہ کل بروزِ قیامت اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ )

رعایا کے ساتھ عدل کرنے والوں کےفضائل:

اپنی رعایا یا ماتحت افراد کے ساتھ عدل وانصاف سے کام لینے والوں کے متعلق تین فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ کیجئے : (1)’’بے شک انصاف کرنے والے بروز ِقیامت اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے قرب میں عرش کے دائیں جانب نور کے منبروں پر ہوں گے جواپنی رعایااور اہل و عیال کے درمیان فیصلہ کرتے وقت عدل وانصاف سے کام لیتے تھے۔ ‘‘([2]) (2) ’’عدل وانصاف کرنے والا حاکم کل بروز قیامت اللہ عَزَّوَجَلَّکا سب سے پسندیدہ اور سب سے زیادہ اس کا قرب حاصل کرنے والا ہوگا۔ ‘‘([3])(3) ’’عدل وانصاف کرنے والا اور عاجزی اختیار کرنے والا حاکم زمین میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رحمت کا سایہ اور اس کا نیزہ ہے ، اس حاکم کے لیے ستر صدیقین کے عمل کے برابر درجات بلند کیے جاتے ہیں۔‘‘([4])

رِعایا کے ساتھ ناانصافی کرنے والوں کی وعیدیں:

اپنی رعایا یا ماتحت افراد کے ساتھ ناانصافی کرنے والوں کے متعلق تین فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ کیجئے : (1) ’’جسے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے کسی رعایا کا نگران بنایا اور پھر اس نےان کےساتھ خیر خواہی نہ کی تو  وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا۔ ‘‘([5])(2) ’’جس حاکم کا انتقال ا س حال میں ہوا کہ اس نے اپنی رعایا کے ساتھ دھوکہ دہی سے کام لیا تھا تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس پر جنت کو حرام فرمادے گا۔ ‘‘([6])(3) ’’جو حاکم اپنی رعایا کے ساتھ دھوکہ دہی سے کام لے وہ جہنمی ہے۔ ‘‘([7])

اِحساسِ ذمہ داری پیدا کیجئے:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے ، اور کوئی اس ذمہ داری سے سبکدوش بھی نہیں ہوسکتا ، لہذا ہمیں چاہیے کہ اپنے اندر اِحساسِ ذمہ داری پیدا کریں ، عدل وانصاف سے کام لیں ، شریعت کے احکام کے مطابق اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور اِن مدنی پھولوں پر عمل کریں تاکہ ہماری دنیا وآخرت بہتر ہو جائے : (1) آپ کتنے ہی بڑے ذمہ دار کیوں نہ ہو خود کو ماتحت جانیں۔ (2) جو اپنے لیے پسند کریں ، اپنے ماتحت افراد کے لیے بھی وہی پسند کریں۔ (3) اپنے ماتحت افراد کی بیمار ہونے کی صورت میں عیادت ، کسی کے انتقال کی صورت میں تعزیت اور مشکل درپیش ہوتو ان کی مدد کریں۔ (4)  چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑائی جھگڑے اور ڈانٹ ڈپٹ کی بجائے عفوودرگزر اورنرمی سے کام لیں۔ (5) غصے کو اپنے قریب نہ آنے دیں  کہ غصے کو چھوڑ دینا اچھے اخلاق میں شمار فرمایا گیا ہے۔ (6) سب سے یکساں تعلقات رکھیے ، کسی بھی مخصوص فرد پر آپ کی غیر ضروری اِنفرادی توجہ دوسروں کے لیے تشویش کا باعث بلکہ دل آزاری کا بھی باعث بن سکتی ہےجو شرعاً ممنوع ہے۔ (7) سنی علمائے کرام سے رابطے میں رہیں ، ہرہرمعاملے میں شرعی رہنمائی کو اپناوطیرہ بنالیں۔ (8) اِطاعت کو اپنا شعار بنالیجئے ، جب تک شریعت منع نہ کرے تب تک اپنے ذمہ دار کی  ہر ہر معاملے میں اطاعت کی کوشش کیجئے۔ (9)  اپنے



[1]   عمدۃ القاری ،  کتاب الجمعۃ ،  باب الجمعۃ فی القری والمدن ،  ۵ / ۴۴ ،  تحت الحدیث :  ۸۹۳ملخصًا۔

[2]   مسلم ،  کتاب الامارۃ  ،  باب  فضیلۃ الامام العادل۔ ۔ ۔ الخ ،  ص۱۰۱۵ ،  حدیث : ۱۸۲۷ملخصًا۔

[3]   ترمذی ،  کتاب الاحکام ،  باب ما جاء فی الامام العادل ،  ۵ / ۱۶۴ ،  حدیث :  ۱۲۵۰۔

[4]   کنزالعمال ،  کتاب الامارۃ ،  باب الترغیب فیھا ،  ۶ / ۶ ،  حدیث :  ۱۴۵۸۹۔

[5]   بخاری ،  کتاب الاحکام ،  باب من استرعی رعیۃ۔ ۔ ۔ الخ ،  ۶ / ۲۶۱۴ ،  حدیث :  ۶۷۳۱۔

[6]   بخاری ،  کتاب الاحکام ،  باب من استرعی رعیۃ۔ ۔ ۔ الخ ،  ۶ / ۲۶۱۴ ،  حدیث :  ۶۷۳۲۔

[7]   تاریخ ابن عساکر ،  ۳۷ / ۴۵۰۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن