30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کھاتے ہوئے پیالے میں اِدھر اُدھر گھومتا تھا) یعنی کبھی میں حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے ساتھ ایک پیالہ میں کھانا کھاتا تھا تو میں کھانے کے آداب سے واقف نہ تھا اس لیے ہر طرف سے کھانا کھاتا تھا جدھر سے دل چاہا ادھر سے بوٹی لے لی ، ادھر ہی لقمہ شوربے میں بھگولیا۔ (تو نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے ارشاد فرمایا : “ اے لڑکے! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا نام لو ، اپنے سیدھے ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ) یعنی بِسْمِ اللہ پڑھ کر کھانا شروع کرو ، داہنے ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ ، ہر طرف سے نہ کھاؤ ، یہ تینوں حکم جمہور علماء کے نزدیک استحبابی ہیں ، بعض آئمہ کے ہاں داہنے ہاتھ سے کھانا واجب ہے۔ خیال رہے کہ ہر چیز پیتے وقت بھی بِسْمِ اللہ پڑھے اور داہنے ہاتھ سے پئے یہ ہی سنت ہے ، یہ تینوں امور سنت علی العین ہیں یعنی اگر جماعت میں سے صرف ایک آدمی کرلے تو کافی نہیں ہرشخص داہنے ہاتھ سے کھائے ، ہرشخص بِسْمِ اللہ پڑھے ، ہر شخص اپنے سامنے سے کھائے ، اگر اکیلا بھی کھائے تب بھی اپنے سامنے سے کھائے ، ہاں اگر طباق میں مختلف مٹھائیاں یا مختلف قسم کی کھجوریں ہیں تو جہاں سے چاہے کھالے۔ ([1])
کھانے سے پہلے بسم اللہ شریف پڑھنا:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کھانا کھانے سے پہلے بِسْمِ اللہ شریف پڑھنا سنت مبارکہ ہے۔ فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم : ’’جِسے یہ بات پسند ہو کہ شیطان اس کے پاس سے نہ کھاسکے ، نہ قیلولہ کرسکے اور نہ ہی رات گزارسکے توا سے چاہئے کہ جب گھر میں داخِل ہوتو سلام کرلے اور کھانے کیلئے بِسْمِ اللہ پڑھ لے۔ ‘‘([2])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اپنے سامنے سے کھانا کھانا بھی سنت مبارکہ ہے ، حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نہ صرف اپنے سامنے سے کھانا کھانے کی ترغیب دلایا کرتےتھے بلکہ خود بھی کھانا اپنے سامنے سے ہی تناول فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے ، فرماتی ہیں کہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے سامنے سے کھانا تناول فرمایا کرتے تھے۔ ‘‘([3])
’’جنت‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1)اپنے گھر والوں یا دیگر متعلقین کی کسی بھی شرعی حوالے سے رہنمائی کرنا یا انہیں آداب وغیرہ سکھانا حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنت مبارکہ ہے۔
(2)کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھنا اور اپنے سامنے سے کھانا کھانے کے آداب اور سنتوں میں سے ہے نیز جس کھانے سے قبل بسم اللہ پڑھ لی جائےاس میں شیطان شریک نہیں ہوتا۔
(1)ہمیشہ اپنے سامنے سے کھانا چاہیے ، ہاں اگر برتن میں مختلف قسم کے کھانے یا مٹھائیاں یا کھجوریں ہیں تو جہاں سے چاہے کھالے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے گھروالوں کی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھنے اور کھانے کی دیگر سنتوں اور آداب پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 300 تم میں سے ہرشخص ذمہ دار ہے
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْھُمَا قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم يَقُوْلُ : کُلُّكُمْ رَاعٍ ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، اَلْاِمَامُ رَاعٍ وَمَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِىْ اَهْلِهِ وَ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ فِىْ بَيْتِ زَوْجِهَا وَمَسْئُوْلَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا ، وَالْخَادِمُ رَاعٍ فِیْ مَالِ سَيِّدِهِ وَمَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَمَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ. ([4])
ترجمہ : حضرت سیدنا ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ میں نے شہنشاہِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فرماتے سنا : “ تم میں سے ہر ایک ذمہ دارہے اور ہر ایک سے اس کے ماتحت افراد کے بارے میں سوال ہوگا ، حاکم اپنی رعایا کا ذمہ دارہے اور اس سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا ، مرد اپنے اہل خانہ کا ذمہ دار ہےاس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا ، عورت اپنے شوہر کے گھر کی ذمہ دار ہے اور اس سے اس کے متعلق پوچھا جائے گا ، خادم اپنے آقاکے مال کا ذمہ دار ہے اس سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا ، الغرض تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے اور اس سے اس کے ماتحت افراد کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی۔ “
حاکم، شوہر، زوجہ اور خادم کی ذمہ داریاں:
[1] مرآۃ المناجیح ، ۶ / ۸۔
[2] مجمع الزوائد ، کتاب الادب ، باب السلام عند دخول المنزل ، ۸ / ۷۷ ، حدیث : ۱۲۷۷۳۔
[3] شعب الایمان ، کتاب فی المطاعم والمشارب ما یجب۔ ۔ ۔ الخ ، باب الاکل مما یلیہ ، ۵ / ۷۹ ، حدیث : ۵۸۴۶۔
[4] بخاری ، کتاب الجمعۃ ، باب الجمعۃ فی القری و المدن ، ۱ / ۳۰۹ ، حدیث : ۸۹۳ملتقطًا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع