30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہیں کیونکہ یہ لوگوں (کےمال ) کا میل ہے ۔ ‘‘([1])
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت ، مجدِّدِدِین وملت ، پروانہ شمع رِسالت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : ’’زکوۃ ساداتِ کرام وسائر بنی ہاشم پر حرامِ قطعی ہے جس کی حرمت پر ہمارے ائمہ ثلاثہ بلکہ ائمہ مذاہب اربعہ رِضی اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اَجْمَعِیْن کا اجماع قائم۔ ‘‘([2])
بنی ہاشم کو زکوۃ نہیں دے سکتے ۔ اور نہ ہی ایک ہاشمی دوسرے ہاشمی کو زکوۃ دے سکتاہے ۔ ہاشمی سے مراد عبدالمُطَّلب کے بیٹے حضرت عباس ، حارث اور پوتے حضرت علی اور حضرت جعفر و عقیل رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْن کی اولادیں ہیں ۔ جبکہ حضرتِ سَیِّدُنا علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَ کی جو اولادحضرت فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے ہے ان کو اور حسنین کریمین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی اولاد کو سید کہاجاتاہے۔ ہر سید ہاشمی ضرور ہے لیکن ہر ہاشمی سید ہو یہ ضروری نہیں ۔ ([3])
ساداتِ کرام کو صدقات نہ دینے کی حکمتیں:
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی سادات کرام کو صدقات نہ دینے کی حکمتیں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’دراصل صدقات بندے کے مال وغیرہ کو پاک کرنے کے لیے ہوتے ہیں ، جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے : ) خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ ((پ۱۱ ، التوبۃ : ۱۰۳) ترجمۂ کنزالایمان : ’’اے محبوب ان کے مال میں سے زکوۃ تحصیل (وصول) کرو جس سے تم انہیں ستھرا کردو‘‘ تو صدقات گویا میلا دھوون ہوئے اور حضور عَلَیْہِ السَّلَام کی آل اولاد لوگوں کے میل اور دھوون سے پاک ہیں ، اور رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خود ارشاد فرمایا : ’’صدقہ لوگوں کا میل ہے‘‘ صدقات کے سادات کو نہ دینے کی ایک حکمت یہ ہے کہ صدقات کا لینا (دھوون اور میل ہونے کی وجہ سے)ذلت ہےاور یہ نچلا ہاتھ ہے یعنی محتاجی اور لینے والا ہے جبکہ غیر اللہ کی ذلت ومحتاجی سادات کرام کے لائق نہیں ہے اور سادات تو اوپر والا ہاتھ یعنی سخی اور عطا فرمانے والے ہیں نیز ایک حکمت یہ بھی ہے اگر سادات صدقات لیتے تو ہوسکتا ہے کہ اسلام دشمن لوگ مَعَاذَ اللہ یہ بکواس کرتے کہ محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)ہمیں اسلام کی دعوت اس لیے دیتے ہیں تاکہ یہ ہمارے مال وغیرہ لے کر اپنی آل اولاد کو دیں حالانکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تو اپنے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حکم ارشاد فرماتاہے : )قُلْ لَّاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا ((پ۲۵ ، الشوریٰ : ۲۳) ترجمۂ کنزالایمان : ’’تم فرماؤ میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا۔ ‘‘([4])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سادات کرام کے لیے صدقات واجبہ لینا بھی جائز نہیں اور نہ ہی ان کو دینا جائزہے لیکن وہ سادات کرام جو شدید مالی تنگی سےدوچار ہیں ، ان کی مدد کرنےکےلیے صاحب حیثیت مالدار مسلمانوں کو چاہیے کہ زکوۃ کے علاوہ اپنے دیگر اموال سے بطور ہدیہ اور تحفہ کچھ نہ کچھ سادات کی خدمت میں پیش کردیا کریں اور اگر کوئی سادات کی خدمت کرنا چاہتا ہے مگر مالدار نہیں تو وہ یہ طریقہ بھی اختیار کرسکتا ہے کہ اپنی زکوۃ کا کسی شرعی فقیر کو مالک کردے اور پھر اس کا یہ مدنی ذہن بنائے کہ وہ اس مال میں سے کچھ نہ کچھ سادات کی خدمت میں ہدیہ کردے اس طرح زکوۃ بھی ادا ہوجائےگی اور سادات کی خدمت کی سعادت بھی نصیب ہوگی۔
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت ، مجدددین وملت ، پروانہ شمع رسالت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : ’’رہایہ کہ پھر اس زمانۂ پُر آشوب میں حضرات سادات کرام کی مواسات کیونکرہو ، اَقُوْلُ (میں یہ کہتا ہوں کہ) بڑے مال والے اگر اپنے خالص مالوں سے بطور ہدیہ ان حضراتِ عُلیہ کی خدمت نہ کریں تو ان کی بے سعادتی ہے ، وُہ وقت یاد کریں جب ان حضرات کے جدِّاکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کےسوا ظاہری آنکھوں کو بھی کوئی ملجا و ماوی نہ ملے گا ، کیا پسند نہیں آتا کہ وُہ مال جو اُنہی کے صدقے میں انہی کی سرکار سے عطا ہُوا ، جسے عنقریب چھوڑکر پھر ویسے ہی خالی ہاتھ زیرِ زمین جانے والے ہیں ، اُن کی خوشنودی کے لیے ان کے پاک مبارک بیٹوں پر اُس کا ایک حصّہ صرف کیا کریں کہ اُس سخت حاجت کے دن اُس جو اد کریم رؤف و رحیم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْمکے بھاری انعاموں ، عظیم اکرامو ں سے مشرف ہوں۔ ابنِ عساکر امیرالمؤمنین مولا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے راوی ، رسول ﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں : ’’جو میرے اہلِ بیت میں سے کسی کے ساتھ اچھا سلوک کرے گا میں روزِ قیامت اس کا صلہ اسے عطا فرماؤں گا۔ ‘‘خطیب بغدادی امیر المومنین عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے راوی ، رسول ﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں : ’’جو میرے اہل بیت میں سے کسی کے ساتھ اچھا سلوک کرے گا میں روزِ قیامت اس کا صلہ اس عطا فرماؤں گا “ ﷲُاَکْبَرْ ، ﷲُاَکْبَرْ !قیامت کا دن ، وہ قیامت کا دن ، وہ سخت ضرورت سخت حاجت کا دن اور ہم جیسے محتاج اور صلہ عطا فرمانے کو محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سا صاحب التاج ، خدا جانے کیا کچھ دیں اور کیسا کُچھ نہال فرمادیں ، ایک نگاہِ لُطف اُن کی جملہ مُہمات دو جہاں کو بس ہے بلکہ خود یہی صلہ کروڑوں صلے سے اعلیٰ وانفس ہے جس کی طرف
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع