دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

اقتدار کا لحاظ رکھیں گے۔ پس اس حدیث پاک میں امر بالمعروف ونہی عن المنکر قائم کرنے کا حکم ہے۔ ‘‘([1])

مدنی گلدستہ

’’طیبہ ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور

اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول

(1)   حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے مختلف نیک اُمور کی انجام دہی پر بھی بیعت فرمایا کرتے تھے۔

(2)   تنگی وفراخی ، خوشی وغمی ہرحال میں حاکم اسلام کی اطاعت کرنا ضرور ی ہے۔

(3)   حاکم ایسے شخص کو  بنا نا چاہیے کہ جو عادل ہو ، علم دِین کی صفت سے آراستہ ہو اور خوف خدا رکھنے والاہو کیونکہ ایسا شخص لوگوں کے حقوق کا خیال رکھے گا۔

(4)   جہاں بھی ہوں حق بات کہیں ، نیکی کی دعوت دیتے رہیں اور برائی سے منع کرتے رہیں ، دِین کے معاملے میں کسی بھی ملامت کرنے والے کی ملامت کی قطعاً پرواہ نہ کریں۔

اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں ہرحال میں حاکم اسلام کی اطاعت کرنے اور اس کے حکم کی بجاآوری کرنے کی توفیق عطافرمائے ، عادل ومنصف حکمران عطافرمائے ، ظالم وجابر حکمرانوں سے محفوظ فرمائے ، نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔                                            آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر : 187                                                     بُرائی کو نہ روکنے والے لوگوں کی مثال

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَثَلُ الْقَائِمِ  فِی حُدُوْدِ اللَّہِ ،  وَالْوَاقِعِ فِیْہَا کَمَثَلِ قَوْمٍ اسْتَہَمُوْا عَلَی سَفِیْنَۃٍ ، فَصَارَبَعْضُہُمْ اَعْلَاہَا وَبَعْضُہُمْ اَسْفَلَہَا ، فَکَانَ الَّذِیْنَ فِی اَسْفَلِہَا اِذَا اسْتَقَوْا مِنَ الْمَاء ِ مَرُّوْا عَلَی مَنْ فَوْقَہُمْ ، فَقَالُوْا :  لَوْ اَنَّا خَرَقْنَا فِی نَصِیْبِنَا خَرْقًا وَلَمْ نُؤْذِ مَنْ فَوْقَنَا ،  فَاِنْ تَرُکُوْہُمْ وَمَا اَرَادُوْا ہَلَکُوْا جَمِیْعًا ، وَاِنْ اَخَذُوْا عَلَی اَیْدِیْہِمْ نَجَوْا وَنَجَوْا جَمِیْعًا. ([2])

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا نعمان بن بشیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی مقرر کردہ حدوں پر قائم رہنے والوں اور اس میں مبتلا ہونے والوں کی مثال ان لوگوں کی طرح ہے جنہوں نے  ایک بحری جہاز میں قرعہ اندازی کر کے اپنے حصے تقسیم کر لیے ، بعض کے نصیب میں بالائی اور بعض کے نصیب میں نیچے کا حصہ آیا توجو لوگ نچلے حصے میں تھے انہیں پانی لینے کے لیے اوپر والے حصے سے گزرنا پڑتا ۔ نچلے حصے والوں نے کہا : کیوں نہ ہم اپنے حصے میں سوراخ کرلیں (تاکہ پانی لینے میں آسانی ہو) اور  اوپر والوں کو تکلیف میں نہ ڈالیں۔ اب اگر اوپر والے نیچے والوں کو یہ ارادہ پورا کرنے دیں  تو سب ہلاک ہو جائیں گے اور اگر یہ ان کے ہاتھ پکڑ لیں تو خود بھی نجات پائیں گےاور دیگر لوگ بھی نجات پائیں گے۔ ‘‘

حُدُوْدُاللہپر قائم رہنے اور اس میں مبتلا ہونے والا:

عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی حدود پر قائم رہنے والے سے مراد وہ ہے کہ جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی منع کردہ چیزوں میں پڑنے سے لوگوں کو روکنے کے لیے کمربستہ ہوجائے۔ اور یہ بھی کہاگیاہےکہ ایساشخص جوحکم خداوندی کونافذ کرنے کے لیے کھڑاہوجائے یعنی بھلائی کا حکم دینے والااور برائی سے منع کرنے والاشخص ہو۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی حدود میں مبتلا ہونے والےسے مرادوہ شخص ہے جو بھلائی کا حکم دینا ترک کردے اور گناہوں کا ارتکاب کرے۔ ‘‘([3])

چند اَفراد کا جُرم پورے مُعاشرے کا ناسور:

مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ اس حدیث شریف میں ایک مثال کے ذریعہ برائی سے روکنے اور نیکی کا حکم دینے کی اہمیت کوواضح کیا گیا اور بتایا گیا کہ اگر یہ سمجھ کر امر بالمعرف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ترک کردیا جائے کہ برائی کرنے والا خود نقصان اٹھائے گا ، ہمارا کیا نقصان ہے؟ تو یہ سوچ غلط ہے ، اس لیے کہ اس کے گناہ کے اثرات تمام معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں اور جس طرح کشتی توڑنے والا اکیلا ہی نہیں ڈوبتا بلکہ وہ سب لوگ ڈوبتے ہیں جوکشتی میں سوار ہیں۔ اسی طرح برائی کرنے والے چند افراد کا یہ جرم تمام معاشرے میں ناسور بن کر پھیلتا ہے۔ ‘‘([4])

علامہ سید محمود احمد رضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ اس حدیث میں دنیا کی مثال ایک کشتی سے دی گئی ہے کہ اگر کشتی کو نقصان پہنچے گا تو اس میں سوار سب ہی متاثر ہوں



[1]   دلیل الفالحین ،  باب فی الامربالمعروف ، ۱ / ۴۷۲  ،  تحت الحدیث : ۱۸۷۔

[2]   بخاری ،  کتاب الشرکۃ ،  باب ھل یقرع فی القسمۃ و الاستھام فیہ  ، ۲ / ۱۴۳ ،  حدیث : ۲۴۹۳۔

[3]   عمدۃ القاری ،  کتاب الشرکۃ ،  باب ھل یقرع فی القسمۃ والاستھام فیہ ، ۹ / ۲۸۰ ،  تحت الحدیث : ۲۴۹۳۔

[4]   مرآۃ المناجیح ، ۶ / ۵۰۴مکتبہ اسلامیہ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن